کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 38 از 50

جعفر صادق:   پہلی بات،  شیعہ عالم منافق اور مرتد کی تعریف سے مکمل  لاعلم ہے۔
دوسری بات ا گر واقعی صحابی کی تعریف پر علمائے اہل سنت کے ہاں  اختلاف ہے  تو شیعہ عالم نے براہ راست ان اختلافی نکات کو کیوں نہیں  لکھا ؟ 
عوام کو معلوم تو ہونا چاہئے کہ کس   سنی عالم نے دوسرے عالم کی بیان کی گئی تعریف کو غلط کہا  ہے  یا کس نے دوسرے سنی  عالم کی  بیان کی گئی تعریف  میں کس بات پر اعتراض وارد کیا ہے؟
قارئین  کی خدمت میں اہل سنت کی ایک اور کتاب سے  صحابی کی الگ الگ تعاریف پیش کی جاتی ہے۔ 


یہ دیکھیں شارح صحیح مسلم نے  پانچ حوالوں سے صحابی کی پانچ  مختلف تعریفیں بیان کی ہیں۔ کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ان میں کوئی اختلاف ہے؟  شیعہ عالم کے نزدیک مختلف تعاریف کا بیان کرنا اختلاف ہے، جبکہ اختلاف اس کو کہتے ہیں جہاں ایک ہی نکتے پر دو  الگ آراء ہوں۔ مثال کے طور پر  ایک عالم کہے کہ اسلام کی حالت میں  رویت نبویﷺ اور دوسرا کہے رویت نبویﷺ لازمی ہے باقی  اسلام لایا ہو یا نہ لایا ہو ضروری نہیں۔ یہاں اختلافی نکتہ  یہ ہوگا کہ علماء کے ہاں اسلام کی حالت میں  رویت نبویﷺ پر اختلاف تھا۔
 لیکن  اگر کسی عالم نے خاتمہ بالخیر کا ذکر نہیں کیا تو یہ اختلاف نہیں کہا جائے گا ، جبتک وہ یہ  تصریح  نہ کرے کہ رویت نبویﷺ کے ساتھ خاتمہ بالخیر شرط نہیں ہے۔
اس لئے علمائے اہل سنت  کی طرف سے مختلف الفاظ ، مختلف کیفیات اور  مختلف حالات کے مطابق  صحابی کی تعریفیں بیان کرنے  سےیہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان کے درمیان کوئی اختلافی نکتہ بھی تھا۔

 سید علی حیدری شیعہ مناظر : قریشی صاحب اپنا قیاسی و من گھڑت خاتمہ بالخیر تو دور کی بات خاتمہ بالایمان کی شرط بھی سنی متقدمین سے نہیں دکھا سکتے۔   تین دن میں میری کسی ایک دلیل کو فرمان رسولﷺ  سے متصادم تو ثابت کر نہیں سکے ۔بلکہ میرے دلائل میں فرمان نبوی ﷺ کو ہی دلیل سنی مذہب کے ٹھیکیداروں یعنی آئمہ جرح و تعدیل و آئمہ رجال نے بنارکھا ہے۔جس سے درحقیقت قریشی صاحب کی اپنی قیاس آرائیاں ہی فرمان نبوی کے خلاف ثابت ہوئی ہیں۔

جعفر صادق:قرآن کریم، صحیح احادیث نبویﷺ اور سنی و شیعہ کتب سے مدلل رد شیعہ عالم کے نزدیک کچھ بھی نہیں ہے۔
أسماء الرجال میں کرکرہ اور مدعم کا تذکرہ دکھا کر موصوف سنی مذہب سے دونوں جہنمیوں  کو جید صحابی رسول ثابت کرنے کا شوق رکھتے تھے۔ حالت یہ ہوئی کہ ااہل سنت مؤقف شیعہ تفاسیر اور  معتبر  کتب سے بھی ثابت کردیا گیا ہے۔۔ الحمدلللہ 

 سید علی حیدری شیعہ مناظر: اب آئے نہ لائن پر۔۔۔ویسے ڈھونڈورا پیٹ رہے تھے سنی شیعہ کے ہاں متفقہ تعریف ہے۔۔۔یہاں تو خود سنی کبھی متفق نہیں ہوئے ثابت ہوگیا۔  جنات پر میں نہیں پہنچا ،آپ کے مطالبے پر ابن حجر عسقلانی پہنچے۔ ابن حجر عسقلانی نے ثابت کررکھا ہے صحابی کی اختلافی تعریفات کو۔آپ کو ابن حجر کی تحقیق کہانی لگ رہی ہے، اوپر آپ خود اسی ادھوری کہانی کو اپنی دلیل بنارہے تھے۔ 
  یہ دیکھیں آپ کی بھیجی ہوئی ادھوری اور بقول آپ کے کہانی۔

جعفر صادق: شیعہ عالم کے جواب سمجھنے کے لئے  پہلے یہ اسکرین شاٹس دیکھیں۔

دیکھیں۔۔ کس طرح  شیعہ  عالم نےاصل موضوع سے ہٹ کر غیر ضروری گفتگو میں الجھانے کی کوششیں کی، تاکہ کرکرہ اور مدعم کے متعلق پوچھے گئے اصل نکات سے جان چھوٹ جائے۔

 کسی عالم نے دوسرے عالم کی بیان کی گئی تعریف کو غلط نہیں کہا بلکہ ہر کسی نے قرآن و حدیث کی مدد سے اس کی وضاحت کی ہے، اور تمام تعریفیں اپنی  جگہ درست ہیں۔   سنی و شیعہ  کے ہاں جامع تعریف  سے یہی دو نکات واضح ہوتے  ہیں۔

حالت ایمان میں دیدار مصطفیٰﷺ اور خاتمہ بالخیر


ایک نئی اصطلاح: شیعہ أصحاب رسول

  سید علی حیدری شیعہ مناظر: آپ کی جہالت ہے یہاں جناب۔یہاں قاضی نور اللہ شوستری شیعہ اصحاب رسول کی اصطلاحی تعریف بیان کررہے ہیں، جو غیر شیعہ اصحاب رسول تھے ان کی اصطلاحی تعریف تو آپ نے بھیجی ہی نہیں۔۔۔۔میں نے بھیجی بھی تھی وہ آپ نے پڑھی نہیں۔۔۔میرا قصور تو نہیں ہے۔

جعفر صادق:  قارئین۔۔آخری ٹرن میں شیعہ عالم نے ایک چونکا دینے والی بات بھی لکھی ہے۔   یہ دیکھیں اسکرین شاٹس

 مجالس المؤمنین کے وہی پیجز دوبارہ سے پڑھ کر دیکھیں (پیج 183سے 193)   آخر قاضی نوراللہ شوستری نے کس جگہ بیان کیا ہے کہ  دور نبویﷺ میں شیعیت کا وجود تھا اور کچھ أصحاب شیعہ بھی تھے۔صحابی کی تعریف اہلسنت کی بیان کردی اور اہل تشیع کے مطابق شیعہ صحابہ کا ذکر کرنا ہی بھول گئے!
کیا   شیعہ مذہب دور نبویﷺ میں تھا؟
آخر شیعہ عالم کو یہ الہام کہاں سے ہوگیا کہ دور نبویﷺ  میں شیعہ مذہب  موجود تھا  اور کچھ اصحاب  سنی اور کچھ اصحاب شیعہ  تھے، اور  مجالس المؤمنین میں قاضی نور اللہ شوستری نے  صحابی کی جو تعریف بیان کی ہے  وہ شیعہ اصحابی کی تعریف ہے ، اور جو غیر شیعہ اصحاب تھے ان کی تعریف   مجالس المؤمنین میں بیان نہیں کی گئی۔ اللہ کی پناہ

یہ شیعہ مناظر کی طرف سے براہ راست اپنے جید  شیعہ علماء کا انکار ہے۔  شیعہ معتبر کتب کی صحیح روایات سے ثابت ہے کہ تیسری صدی کے آخر  تک شیعہ  اثنا عشریہ  کے نام سے بھی کوئی  واقف نہیں تھا،  اس مذہب کو شیعہ عالم نے دور نبویﷺ  میں پہنچادیا۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ نبی کریمﷺ نے اسلام کی نہیں بلکہ شیعہ اثناعشریہ  کی تبلیغ کی تھی۔ کیا کسی شیعہ عالم نے اپنی   کسی کتاب میں اس بات کا دعوی کیا ہے؟ انصاف مطلوب ہے۔

  سید علی حیدری شیعہ مناظر: الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ سنیوں کی مذہبی عادت سے مجبور قریشی صاحب خود آدھی بات پیش کرکے اس کا اطلاق کل پر کررہے ہیں اور بہتان مذہب حقہ شیعہ خیرالبریہ پر ۔چلیں قاضی نور اللہ شوستری سے ہی قریشی صاحب کی مذہبی دھوکہ بازی عوام کے سامنے رکھتے ہیں۔

دیکھیں یہ مجلس سوم ہے جس میں اکابر شیعہ صحابہ کرام کی بات ہے ، غیر شیعہ اصحاب کی نہیں
جعفر صادق:  واقعی  کذب بیانی میں شیعوں کی اپنی ایک لیول ہے۔
مجالس المؤمنین میں شیعہ صحابہ یا غیر شیعہ صحابہ کی کوئی اصطلاح استعمال ہی نہیں ہوئی۔
اصل عربی عبارت

المجلس الثالث فی ذکر اکابر الشیعتہ من أصحاب سید الانام الکرام علیہ وآلہ افضل الصلات والسلام

صفحہ 38 از 50