کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 37 از 50

سید علی حیدری شیعہ مناظر:    سنی مذہب معلوم ہے اس مجاہد صحابی سے متعلق کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے جہنمی کہنے سے اس نامعلوم مجاہد صحابی کا کافر ہونا ثابت نہیں ہے یعنی اس کی موت عین اسلام پر ہوئی ۔
 یہ دیکھیں یہ مجاہد صحابی خودکشی کرنے کی وجہ سے جہنمی ہے لیکن خود کشی کرنا سنی مذہب میں کفر نہیں ہے۔
جعفر صادق: دیکھیں شیعہ عالم کی دیدی دلیری!  اپنی ہر رائے کو سنی مذہب قرار دے رہا ہے۔
  جہنمی ہونے سے یہ بات لازم نہیں کہ وہ شخص  کافر ہی ہوگا۔ اتنی سادہ بات اسے بار  بار سمجھائی گئی پھر بھی ضد پر اڑا رہا۔جہنم کے کئی طبقے صحیح احادیث میں بیان کئے گئے ہیں۔   تمام طبقوں میں کافر تھوڑی ہوں گے۔
 جس کی موت عین اسلام پر ہوئی ہو اس کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ جنتی بھی ہوگا؟
 اہم بات۔۔کسی شخص کا  عمل کیسا بھی ہو۔ اللہ و رسولﷺ کا حکم اس کے متعلق  اگرموجود ہو تو  اس کے بعد کسی کو چوں چراں کی اجازت نہیں ہوتی۔

سید علی حیدری شیعہ مناظر: یہاں بھی ایک مجاہد صحابی رسول خودکشی کررہا ہے جو کفر نہیں۔
سنی مذہب کی دلیل بھی لے لیں 


*صحيح مسلم* كِتَاب الْإِيمَانِ

ایمان کے احکام و مسائل

*49. باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ قَاتِلَ نَفْسِهِ لاَ يَكْفُرُ:*

*49. باب: خودکشی کرنے والے کے کافر نہ ہونے کی دلیل۔*حدیث نمبر: 311

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وإسحاق بن إبراهيم جميعا، عن سليمان، قال ابو بكر: حدثنا سليمان بن حرب ، حدثنا حماد بن زيد ، عن حجاج الصواف ، عن ابي الزبير ، عن جابر ، ان الطفيل بن عمرو الدوسي، اتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، هل لك في حصن حصين ومنعة؟ قال: حصن كان لدوس في الجاهلية، فابى ذلك النبي صلى الله عليه وسلم للذي ذخر الله للانصار، فلما هاجر النبي صلى الله عليه وسلم إلى المدينة، هاجر إليه الطفيل بن عمرو، وهاجر معه رجل من قومه، فاجتووا المدينة ، فمرض فجزع فاخذ مشاقص له فقطع بها براجمه، فشخبت يداه حتى مات، فرآه الطفيل بن عمر وفي منامه فرآه، وهيئته حسنة، ورآه مغطيا يديه، فقال له: ما صنع بك ربك؟ فقال: غفر لي بهجرتي إلى نبيه صلى الله عليه وسلم، فقال: ما لي اراك مغطيا يديك؟ قال: قيل لي: لن نصلح منك ما افسدت، فقصها الطفيل على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اللهم وليديه، فاغفر ".


‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ایک مضبوط قلعہ اور لشکر چاہتے ہیں (اس قلعہ کے لیے کہا جو دوس کا تھا جاہلیت کے زمانے میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہ کیا اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے انصار کے حصے میں یہ بات لکھ دی تھی (کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس رہیں ان کی حمایت اور حفاظت میں) تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کی اور ان کے ساتھ ان کی قوم کے ایک شخص نے بھی ہجرت کی۔ پھر مدینہ کی ہوا ان کو ناموافق ہوئی۔ (اور ان کے پیٹ میں عارضہ پیدا ہوا) وہ شخص جو سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا تھا، بیمار ہوا اور تکلیف کے مارے اس نے چوڑی گانسیاں لے کر اپنی انگلیوں کے جوڑ کاٹ ڈالے اور خون بہنا شروع ہوا دونوں ہاتھوں سے یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ پھر سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس کو خواب میں دیکحا اور اس کی شکل اچھی تھی مگر اپنے دونوں ہاتھوں کو چھپائے ہوئے تھا۔ سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تیرے رب نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا؟ اس نے کہا: بخش دیا مجھ کو اس لئے کہ میں نے ہجرت کی تھی اس کے پیغمبر علیہ السلام کی طرف۔ سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا وجہ ہے میں دیکھتا ہوں تو دونوں ہاتھ اپنے چھپائے ہوئے ہے وہ شخص بولا کہ مجھے حکم ہوا، ہم اس کو نہیں سنواریں گے جس کو تو نے بخود بگاڑا۔ پھر یہ خواب سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کے دونوں ہاتھوں کو بھی بخش دے۔“ (یعنی جیسے تو نے اس کے سارے بدن پر کرم کیا ہے، اس کے دونوں ہاتھوں کو بھی درست کر دے)۔

 جعفر صادق: قارئین۔۔شیعہ عالم کو اپنے آخری ٹرن میں کوئی نئی دلیل دینے سے منع کیا گیا تھا، لیکن ہائے یہ مجبوری!    اس کتاب میں ان کے آخری ٹرن کے جوابات بھی اس لئے دئے جا رہے ہیں کہ تاکہ  قارئین کو دکھایا جائے کہ موصوف نے  کس طرح طئے شدہ  شرائط اور   مسلمہ أصول مناظرہ کی  دھجیاں بکھیری ہیں۔
دوران گفتگو انہیں یہ نکتہ تفصیل سے سمجھایا گیا  تھا کہ نبیﷺ کسی بھی  عام حکم کو کسی  خاص کے لئے  بدلنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ بیشک  معیار وہی رہے گا کہ اللہ و رسول ﷺ آخری گھڑی تک ہم سب سے  راضی ہوں ، بصورت دیگر  جہنم کا ایندھن ہمارا مقدر بن سکتا ہے۔ 
خودکشی  کرنا ، چوری  کرنا یہ اعمال  کفر ہرگز نہیں ہیں  بلکہ  ان کی سزا متعین کی گئی ہے۔ لیکن کرکرہ اور مدعم کے متعلق تو واضح فرمان نبیﷺ موجود ہے، اس کے ہوتے ہوئے کیسی تاویل؟

سید علی حیدری شیعہ مناظر: چلیں جی ممتاز قریشی کے اس ایوارڈ یافتہ لطیفے پر جی کھول کر ہنس لیں۔موصوف کہہ رہے ہیں کہ کوئی خاص اختلاف سنیوں میں نہیں۔حالاں کہ اختلاف زمین آسمان کا ہے۔ میں نے سنی مذہب سے ان کے متقدمین کا منہج خطیب بغدادی کے حوالے سے احمد بن حنبل اور امام بخاری کا بنایا ہوا پیش کیا تھا۔اس اصول میں صرف مسلمان ہوتے ہوئے نبی سے ملاقات یا انہیں دیکھنے کی شرط ہے اور اس شرط پر منافقین بھی پورے اترتے ہیں اور مرتدین بھی پورے اترتے ہیں ، قرآن اور حدیث سے اوپر ثابت بھی کیا۔

صفحہ 37 از 50