کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 36 از 50

جعفر صادق: قارئین۔۔سورت  الحدید آیت 10 سے جو استدلال پیش کیا گیا اس کا رد تو شیعہ عالم نے کیا نہیں بلکہ إقرار کرلیا کہ صحابہ سے کئے گئے وعدے اسی وقت ان پر لاگو ہوں گے جب ان کا خاتمہ بالخیر ہوگا۔  خاتمہ بالخیر یعنی آخری گھڑی تک اللہ و رسولﷺ کی رضا شامل ہو۔


اب ذرا منافقین، مرتد لوگوں کا سوچیں کہ جو دنیا میں ہی دائرہ اسلام میں داخل نہ ہوئے (منافقین)،  یا داخل ہوکر نکل گئے (مرتدین) ان کو  اہل تشیع کی طرف سے صحابہ کی اقسام میں داخل کرنا خلاف قرآن ہوا کہ نہیں؟ اس آیت کریمہ پر اگر تفصیل سے گفتگو کی جائے تو  شیعہ مذہب کے صحابہ کرام سے متعلق تمام  عقائد زمین بوس ہوجاتے ہیں۔
سید علی حیدری شیعہ مناظر:  اصل موضوع یہاں سے شروع ہورہا ہے، یہاں بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں سے خطاب فرمارہا ہے

سورہ الحدید آیت 7
اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا جَعَلَکُمۡ مُّسۡتَخۡلَفِیۡنَ فِیۡہِ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ اَنۡفَقُوۡا لَہُمۡ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ﴿۷﴾

  اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس مال سے خرچ کرو جس میں اللہ نے تمہیں جانشین بنایا ہے، پس تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں اور (راہ خدا میں) خرچ کریں ان کے لیے بڑا ثواب ہے۔
*نوٹ فرمائیں اللہ تعالیٰ صحابہ کو تنبیہ فرمارہا ہے کہ وہ ایمان لائیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔

آیت 8
وَ مَا لَکُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ۚ وَ الرَّسُوۡلُ یَدۡعُوۡکُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ وَ قَدۡ اَخَذَ مِیۡثَاقَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸﴾

اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے؟ جب کہ رسول تمہیں تمہارے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے مضبوط عہد لے چکا ہے اگر تم ماننے والے ہو۔
صحابہ کی سخت الفاظ میں اللہ تعالیٰ مذمت فرمارہا ہے کہ وہ پکا وعدہ کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لارہے   اور یہ وہ ادھوری آیت جو قریشی صاحب نے تحریف کرکے بھیجی۔

آیت 10
وَ مَا لَکُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ لَا یَسۡتَوِیۡ مِنۡکُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعۡظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الۡحُسۡنٰی ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ﴿٪۱۰﴾

اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے جب کہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ کے لیے ہے؟ تم میں سے جنہوں نے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور قتال کیا وہ (دوسروں کے) برابر نہیں ہو سکتے، ان کا درجہ بہت بڑا ہے ان لوگوں سے جنہوں نے بعد میں خرچ کیا اور مقاتلہ کیا، البتہ اللہ تعالیٰ نے ان سب سے اچھائی کا وعدہ کیا ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب آگاہ ہے۔
 اس آیت کا آغاز بھی صحابہ کی سخت سرزنش سے ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کررہے تھے۔
  بدقسمتی سے اگر آپ ان سوالات کا جواب دیتے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ بھی سمجھ آجاتا۔لیکن خیر،جواب تو اس وقت دیتے جب میرے دلائل پڑھنے کی زحمت کرتے۔

جعفر صادق: غور فرمائیں۔۔شیعہ عالم  کی خواہش تھی کہ  سورت الحدید کی ان تمام  آیات کو بھی تفصیل سے زیر بحث لایا جاتا۔ اسی لئے شکایت کر رہے ہیں کہ جواب کیوں نہیں دیا گیا۔  
حالانکہ گفتگو کا  موضوع دو اشخاص کرکرہ اور مدعم  تک محدود تھا، اور یہ موضوع بھی شیعہ عالم  کی اپنی فرمائش کے مطابق تھا۔  یعنی وہ پہلے سے تیاری کر کے بیٹھے تھے۔ اس کے باوجود  دوران گفتگو ان کی جس طرح پکڑ کی گئی تو وہ اپنے پسندیدہ موضوع سے ہی فرار اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔ قارئین سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کتنا حق پر تھے۔

سید علی حیدری شیعہ مناظر: تو قریشی صاحب اب یہ بتانا آپ کی ذمہ داری ہے کہ اگر آپ ادھوری اور تحریف شدہ آیت سے صرف اپنی مطلب کے الفاظ لیں گے اور اس سے سارے صحابہ جنتی کا قیاس کریں گے ۔تو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیات میں کونسے  صحابہ کو سرزنش کی ہے؟؟ کیا ان صحابہ سے بھی جنت کا وعدہ تھا ، جو ایمان لانے کے بعد بھی ایمان نہیں لارہے تھے؟ جو نبی کریم سے پکا وعدہ کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ پر ایمان سے پہلو تہی کررہے تھے اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بند کردیا تھا۔۔۔۔۔کیا ان سب سے جنت کا وعدہ ہورہا ہے؟؟ یا پھر جنت کا وعدہ صرف ان سے ہے جنہوں نے فتح مکہ سے قبل بھی اللہ کی راہ میں خرچ و قتال کیا اور فتح مکہ کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ وقتال کیا؟؟
جعفر صادق: شیعہ عالم کا یہ سوال عجیب ہے ۔ شرف صحابیت کے لئے حالت ایمان اور خاتمہ بالخیر لازم ہے۔   کیا یہ ممکن ہےکہ آیت میں ایسے لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہو جو ایمان نہیں لا رہے تھے؟ یا خرچ نہیں کر رہے تھے؟ 
اسلام کے اوائلی دور میں چند صحابہ امیر تھے باقی اکثریت غریب فقرا صحابہ کی تھی۔ خلفائے ثلاثہ بھی انہی  مکی مہاجرین صحابہ  میں شامل ہیں۔  فتح مکہ سے پہلے اور فتح مکہ کے بعد بھی یہی صورتحال برقرار ہی، فرق یہ تھا کہ مدنی دور میں مکی دور کے مقابلے میں مسلمانوں کے  معاشی حالات بہتر ہونا شروع ہوگئے تھے اس کے باوجود آخری غزوہ  تبوک جو سن  9 ھجری میں ہوا تھا  اس وقت صحابہ کرام کی  تنگی  اور غربت کی تفصیل سنی و شیعہ کتب میں مذکور ہے۔  اس غزوہ کا نام ہی "جیش العسرہ(تنگ دستی کا لشکر)" ہوگیا۔ 

اس موضوع پر بھی الگ سے گفتگو کی ضرورت ہے تاکہ صحابہ کرام کی عظمت  و جلال شیعوں کو معلوم ہوسکے اور  چوتھی صدی میں ایران و عراق میں  تصنیف شدہ کتب سے ان کی جان چھوٹے۔

صفحہ 36 از 50