کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 35 از 50

جعفر صادق:بنص قرآن خاتمہ بالخیر کی دعائیں انبیائے کرام نے  بھی مانگی ہیں۔ اگر خاتمہ بالخیر لازمی نہ ہوتا تو انہیں ایسی دعائیں مانگنے کی کیا ضرورت پڑی؟ 
یہ دیکھیں حضرت یوسف علیہ السلام نے بھی خاتمہ بالخیر  کی دعا مانگی ہے، حالانکہ معصوم نبی ہیں، لیکن  انہیں بھی خوف الہٰی ہے کہ کہیں خاتمہ بالخیر  نہ ہوا تو مرتبہ نبوت سے خارج نہ ہوجائیں۔ معاذاللہ۔
یہ بھی غور فرمائیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے بھی آخری گھڑی تک  مسلمان رہنے کی دعا مانگی ہے، وہی مسلمان جسے آج کا شیعہ رافضی مؤمن ماننے کو تیار ہی نہیں!
اس  قسم کی کئی دعائیں نبیﷺ بلکہ شیعہ معتبر کتب میں ائمہ اہل بیت سے بھی مروی ہیں، قرآن سے جھلک دکھائی ہے شاید کسی کو ہدایت مل جائے۔
سید علی حیدری شیعہ مناظر : جب کہ سنی مذہب کرکرہ اور مدعم کے خاتمہ بالایمان کا قائل ہے ، جو آپ کی ذاتی قیاس آرائیوں کے مطابق خاتمہ بالخیر نہیں  ،  جب حدیث میں صراحت ہے کہ مرتد صحابی  بھی روز محشر نبی کریم کا صحابی ہوگا ، نبی کریم ﷺمرتدین کو *من اصحابی اصحابی* کہہ کر پکاریں گے تو خاتمہ بالخیر کا قیاس ابلیسی کیسے قائم رہ سکتا ہے؟ سوچا تو کریں لکھنے سے پہلے ۔

 جعفر صادق: قارئین دیکھ لیں!  شیعہ حضرات اسی طرح عوام کو گمرہ کرتے ہیں۔ ذاتی قیاس آرائی خود کرتے ہیں اور الزام دوسروں کو دیتے ہیں۔
حدیث حوض کوثر کے مطابق نبیﷺ کو علم نہیں تھا کہ میرے بعد وہ مرتد ہوگئے تھے، لیکن یہ شیعہ عالم  صاحب عوام کو یہ باور کرا  رہا ہے کہ جیسے نبیﷺ  کو پہلے سے ان کے انجام کا پتہ تھا اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ لوگ مرتد ہوگئے تھے انہیں میرے صحابہ میرے صحابہ پکار رہے تھے!   یہ ہے شیعیت کا جال جو عوام پر پھینک کر گمراہ کیا جاتا ہے۔

کیا خاتمہ بالخیر ابلیسی قیاس مان لیا جائے؟  قارئین  یہ گفتگو پڑھ کر خود فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں۔
  سید علی حیدری شیعہ مناظر: پھر آپ نے یہاں بہتان تراشیاں کیں۔اختلافی میں نہیں کہہ رہا بلکہ ابن حجر عسقلانی کہہ رہا ہے۔واقعی ابن حجر عسقلانی کی ذاتی رائے کی کوئی حیثیت نہیں؟؟؟؟    یہ دیکھیں اختلافی کون کہہ رہا ہے۔   یہ کون ہے اختلافی کہنے والا۔


جعفر صادق:شیعہ عالم کو اس اسکین پر جواب بھی دیا گیا تھا۔ یہ دیکھیں اسکرین شاٹ۔


قارئین!  یہ تو صرف علمائے اہل سنت کی طرف سے بیان کی گئی   صحابی کی الگ الگ تعاریف ہیں۔ جسے شیعہ عالم اپنی رائے سے اختلاف سمجھا رہے ہیں۔شیعہ عالم کو ان کے گھر سے دکھاتے ہیں کہ اختلافات کیا ہوتے ہیں اور انہیں کیسے ثابت کیا جاتا ہے۔     شیعہ مذہب کے جید علمائے کرام  سے اعترافات  پیش کئے جاتے  ہیں کہ  اہل تشیع کے ہاں ائمہ معصومین کی صحیح روایات میں ہی  کتنا تصادم ہے ۔

ائمہ معصومین کی صحیح احادیث میں اختلافات (شیعہ علماء کے إقرار)

شیعہ عالم دلدار علی لکھتے ہیں کہ : 

إن الأحاديث المأثورة عن الأئمة مختلفة جدا لا يكاد يوجد حديث إلا وفي مقابله ما ينافيه و لا يتفق خبر إلا وبإزائه ما يضاده حتى صار ذلك سببا لرجوع بعض الناقصين عن اعتقاد الحق۔
(أساس الأصول ص 51)

ائمہ سے منقول احادیث کے اندر بہت ہی بڑا اختلاف ہے  آپ نہیں پائیں گے کوئی ایک حدیث مگر یہ کہ اس کے مقابلے میں دوسری حدیث ہوگی، آپ نہیں دیکھیں گے کوئی ایک خبر مگر اس کے مقابلے اور تضاد میں دوسری خبر ہوگی یہاں تک  یہ بات رجوع کا سبب بن گئی اعتقاد حق سے ، بعض ناقصین کے لیے۔

شیعہ عالم علامہ طوسی لکھتے ہیں کہ: 

ذاكرني بعض الأصدقاء بأحاديث أصحابنا وما وقع فيها من الاختلاف والتباين والتضاد حتى لا يكاد يسلم خبر إلا وبإزائه ما يضاده ولا يسلم حديث إلا وفي مقابله ما ينافيه حتى جعل مخالفونا ذلك من أعظم الطعون على مذهبنا (تهذيب الأحكام – للشيخ الطوسي – ج 1 – الصفحة2.)

بعض دوستوں نے میرے ساتھ ہمارے اصحابِ کی ان احادیث کے بارے میں مذاکرہ کیا جن کے اندر اختلاف اور تضاد واقع ہوا ہے یہاں تک کہ ایک خبر بھی ایسی نہیں ہے کہ جس کے مقابلے اور تضاد میں دوسری خبر نہ ہو  اور ایک بھی حدیث اس طرح صحیح سالم نہیں ہے کہ اس کے مقابلے اور ٹکراؤ میں دوسری حدیث نہ ہو یہاں تک اس بات کی وجہ سےہمارے مخالفین نے ہمارے مذہب پر سب سے بڑا طعن کیا ہے۔

سید علی حیدری شیعہ مناظر : دلائل پڑھے بغیر اپنی رام لیلا سناتے ہیں قریشی صاحب ، یہ اختلافات کون نقل کررہا ہے بغور پڑھیں۔
  اور یہاں بھی۔
 دراصل قریشی صاحب کو علمی و تحقیقی دلائل سے سخت الرجی بھی ہے اس لیے وہ صرف من پسند باتیں لے کر قیاس آرائیاں کرنے کی عادت سے مجبور ہیں۔

جعفر صادق:  علامہ ابن حجر عسقلانی کی طرف سے صحابی کی تعریف  کو مختلف علمائے اہل سنت سے بیان کیا  گیا ہے اور تجزیہ کیا ہے،  عجیب جہالت سے شیعہ عالم  استدلال کر رہے ہیں کہ اس سے شرف صحابیت کے معیار پر سنی مذہب میں شدید  اختلاف ہے۔
قارئین۔۔اوپر مجالس المؤمنین سے دکھایا گیا ہے کہ جید شیعہ عالم شہید ثالث نے بھی صحابی کی مختلف   تعریفیں  بیان کی ہیں اور سب سے اظہر تعریف وہی قرار دی ہے جس میں حالت ایمان اور خاتمہ بالخیر کا ذکر ہے۔ 
فیصلہ قارئین کریں کہ کسی محقق کا تمام علماء کی تعریف بیان کرنا اور کسی تعریف پر رائے دینے سے وہ معاملہ اختلافی کیسے ہوگیا جبکہ کوئی بھی تعریف دوسری تعریف سے متصادم بھی نہ ہو۔ 

اگر شیعہ عالم  اپنی دلیل میں علمائے اہل سنت کی آپس میں متعارض تعریفیں دکھاتے تو شاید  ان کی بات میں  وزن ہوتا۔  الاصابہ میں بیان کی گئی مختلف تعریفیں پیش کی جاتی ہیں۔  قارئین خود پڑھ کر فیصلہ کریں کہ کیا ان میں ایسی کوئی تعریف ہے جو دوسری تعریف کی کسی بات کی نفی کرتی ہو۔

سید علی حیدری شیعہ مناظر: اس پر تفصیلی وضاحت لکھی ہے جناب ، یقیناً وہ بھی نہیں پڑھی ہوگی۔چلیں دوبارہ پڑھاتا ہوں۔وکلا وعداللہ الحسنی کے مصداق کون ہیں آیت میں واضح لکھا نظر آرہا ہے۔ *یہ صرف وہ صحابہ ہیں جنہوں نے فتح مکہ سے قبل اور بعد میں جہاد کیا اور مال خرچ کیا*  جب کہ اس وعدے سے وہ صحابہ خود اللہ تعالیٰ نے خارج کیے جنہوں نے فتح مکہ سے قبل و بعد مال خرچ کرنا چھوڑ دیا تھا ، اس کے علاؤہ وہ صحابہ بھی وعدے سے خارج ہوگئے جن کا خاتمہ ایمان پر نہیں ہوا۔

صفحہ 35 از 50