کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 34 از 50

سید علی حیدری شیعہ مناظر: اس ٹیگ شدہ میسج کو لازمی پی ڈی ایف میں جگہ دیجیے گا کیوں سنی مذہب میں جو صحابی ہے وہ تابعی نہیں اور جو تابعی ہے وہ صحابی نہیں۔۔۔۔لیکن سورہ توبہ آیت 100 میں فتح مکہ کے بعد والے وہ تمام مسلمان جنہوں نے بحالت مجبوری اسلام قبول کیا تھا وہ احسان کی شرط پوری کرکے اگر سابقین کے تابعی بنے ان سے بھی اللہ تعالیٰ راضی ہوا، ظاہر ہے تابعی تو صحابی نہیں سنی مذہب میں۔
جعفر صادق: شیعہ مناظر  میرے میسیجز ٹیگ کرکے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ جیسے  کوئی بہت  بڑی اہم بات کی نشاندھی کی گئی ہے۔ قارئین اسکرین شاٹ میں  ٹیگ شدہ میسیجز چیک کر لیں۔
سورت توبہ آیت  100 کو اگر زیر بحث نہیں لایا گیا  تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شیعہ عالم نے جو تحریر پیش کی تھی وہ واقعی اہم  تھی یا   وہ  درست اسلامی مؤقف ہے۔ شیعہ کی طرف سے پیش کیا گیا استدلال باطل ہے۔ الگ سے اس پر گفتگو کی گئی تو اصل حقائق عوام تک پہنچ جائیں گے۔

 سید علی حیدری شیعہ مناظر: جناب میں نے نہیں خود نبیﷺ نے جہنمیوں کو اپنا صحابی کہا ہے اور روز محشر بھی ان جہنمیوں کو اپنا صحابی ہی مانیں گے۔ یہ الگ بات ہے آپ ذاتی قیاس آرائیوں سے انہیں صحابیت سے خارج مانیں۔

جعفر صادق: کیا قیامت آچکی ہے اور روز محشر کے واقعات رونما ہوچکے ہیں؟   حدیث میں بیان کیا گیا واقعہ رونما ہوچکا ہے؟
شیعہ عالم کو یہ بھی علم نہیں کہ کئی احادیث نبویﷺ میں وہ واقعات  بیان کئے گئے ہیں جو ابھی وقوع پذیر نہیں ہوئے۔  ان میں مستقبل کی پیشیں گوئیاں بیان کی گئی ہیں۔
قارئین غور فرمائیں!  اس حدیث میں زمانہ مستقبل  کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ غیب  کی خبریں ہیں،  جنہیں نبیﷺ نے امت تک پہنچادیا، کوئی سن کر ہدایت پاگیا تو کوئی سن کر گمراہ ہوگیا، اپنے  اپنے  نصیب کی بات ہے۔
جب قیامت آچکی ہوگی، جب سزا و جزا پر فیصلے دئے جاچکے ہوں گے، اس وقت کچھ لوگ حوض کوثر سے گذریں گے جو بظاہر دنیا میں نبیﷺ کے صحابی تھے ، جس طرح کرکرہ اور مدعم کو نبی ﷺ نے  دنیا میں ہی جہنمی قرار دے دیا ہے، اسی طرح کچھ لوگ جو بعد از نبی مرتد ہوگئے اور  بظاہر صحابی تھے ، ان کے متعلق نبیﷺ نے  ذکر فرمایا ہے۔  اس حدیث میں کسی بھی صحابی کا  تعین نہیں کیا گیا کہ اس  بنیاد  پر ہم  کسی صحابی  پر اعتراض وارد کریں۔  عجیب بات ہے کہ نبیﷺ نے کرکرہ اور مدعم کا تعین فرمادیا ، اس کے باجود اہل تشیع کو فرمان نبیﷺ قبول نہیں ہے اور جن واقعات میں نبیﷺ نے کسی شخص کا تعین ہی بیان نہیں کیا ، جو واقعات ابھی وقوع پذیر تک نہیں ہوئے ، ان کو بنیاد بنا کر   آج کے شیعہ رافضی اپنے خود ساختہ عقائد سے جسے چاہیں شرف صحابیت سے خارج کردیتے ہیں۔ 

سید علی حیدری شیعہ مناظر: سنی مذہب متفقہ طور پر کرکرہ و مدعم کے ایمان پر خاتمہ کا اعلان کررہا ہے، جبھی تو آج بھی پورا سنی مذہب بغیر اختلاف کے دونوں کو رضی اللہ عنہم مانتا ہے۔ باقی قرآن کی بات تو آپ رہنے ہی دیں کیوں کہ قرآن تو صحابیوں کو براہ راست مخاطب کرکے کہہ رہا ہے کہ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوئے پھر ایمان لائے اور پھر کافر ہوگئے اور پھر کفر میں شدید ہوگئے۔ پڑھی نہیں یہ آیت قرآنی اوپر بھیجی بھی تھی۔۔۔۔یا اس پر ایمان نہیں ہے۔


إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا

جو لوگ ایمان لائے اور پھر کفر اختیار کرلیا پھر ایمان لے آئے اور پھر کافر ہوگئے اور پھر کفر میں شدید و مزید ہوگئے تو خدا ہرگز انہیں معاف نہیں کرسکتا اور نہ سیدھے راستے کی ہدایت دے سکتا ہے۔
 (سورت النساء 137)
جعفر صادق: پہلی بات سنی مذہب میں ایسا کوئی اعلان نہیں ہے۔ یہ شیعہ عالم   کا ذاتی مؤقف ہے۔ دوسری بات،  کرکرہ اور مدعم کا خاتمہ بالخیر قیامت تک  ثابت نہیں  کیا جاسکتا ۔ تیسری بات،  شرف صحابیت کے معیار سے خاتمہ بالخیر کی نفی سنی  و شیعہ دونوں فریقین سے  دکھا نے میں شیعہ مناظر مکمل  ناکام ہوچکے۔

شیعہ عالم کی جہالت: کیا سورت النساء آیت 137 میں صحابہ  کرام سے خطاب ہے؟
 اس آیت میں  مؤمنوں سے خطاب نہیں ہے بلکہ  ان لوگوں کا ذکر ہے جو ثابت قدم نہیں ہیں۔  یہ کون  لوگ ہیں؟   آیت عام ہے، یہ لوگ  کوئی بھی ہوسکتے ہیں۔  دور نبویﷺ سے قیامت تک آنے والے  تمام لوگ شامل ہوسکتے ہیں۔  اس آیت سے بھی خاتمہ بالخیر کی تائید ہوتی ہے اور ثابت قدمی کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ جس کے نصیب میں ہدایت ہوگی، اسے حقیقت نظر آ جائے گی۔ ان شاء اللہ

سید علی حیدری شیعہ مناظر: ایک بات اور قارئین نوٹ کریں کہ قریشی صاحب مناظروں میں مخالف کے دلائل پڑھے بغیر ہی قیاس آرائیاں کرتے ہیں اب تک یہ بات بچہ بچہ بھی سمجھ چکا ہوگا۔  قریشی صاحب کرکرہ و مدعم جیسے جید اصحاب رسول پورے سنی مذہب کے گلے کی ہڈی ہیں ، کوئی سنی ان سے  جان نہیں چھڑا سکتا کیوں کہ یہ دونوں پیمانہ ہیں جہنمی صحابہ کے قرآنی و حدیث کے نظریے کے۔

جعفر صادق: قیاس آرائیوں کا فیصلہ قارئین  پر چھوڑا جاتا ہے۔
آج کے شیعہ رافضی  منافق، مرتد اور مؤمن کی اصطلاحی تعریف سے بھی   نابلد ہیں۔ بصورت دیگر کبھی بھی ان تینوں کو ایک جماعت کہہ کر صحابہ کی جماعت میں شامل کر کے   اقسام کی بھول بھلیوں میں گمراہ نہ ہوتے۔ اللہ عزوجل انہیں ہدایت دے۔ آمین۔

سید علی حیدری شیعہ مناظر: آپ 3 دن تک اسی وجہ سے انہیں صحابیت سے خارج کرنے میں ناکام رہے ۔ دو دن تک آپ اپنی دوسری شرط کا رونا روتے رہے لیکن اب غالباً اسے بھول چکے ہیں خیر ہوتا ہے ایسا جب ہڈی گلے میں پھنس جاتی ہے اور نکالے نہیں نکلتی۔  آپ کے سادہ الفاظ کے جواب کو قرآن، حدیث اور خود سنی مذہب رد کررہا ہے قرآن مجید، حدیث نبوی  میں کہیں نہیں لکھا خاتمہ بالخیر شرف صحابیت کے لیے لازم ہے ۔

خاتمہ بالخیر کے لئےحضرت یوسف علیہ السلام کی دعا (القرآن)

صفحہ 34 از 50