کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 30 از 50


اصل حقیقت:
جعفر صادق: سوال کا جواب دینے کے بجائے  دوسرے نکات دکھا کر گمراہ کرنے کی کوششیں۔علامہ ابن حجر عسقلانی کے  نزدیک  شرف صحابیت کےلئے خاتمہ بالخیر تو لازمی شرط ہے ۔ اسکین بھی پیش کیا گیا تھا اور جواب بھی دیا گیا تھا۔
 یہ اسکرین شاٹس  دیکھیں۔ شیعہ عالم  نے کس طرح سادہ سے  سوال کا سیدھا جواب دینے کے بجائے پورے سوال  کو ہی  الجھا کے رکھ دیا  تاکہ عوام کو سمجھ ہی نہ آئے کہ اصل  سوال کیا تھا۔
سید علی حیدری شیعہ مناظر:  قارئین نوٹ کریں کہ پچھلی ٹرن میں، میں نے ان کے سوال کے جواب میں 11 میسجز کیے لیکن موصوف اپنی مذہبی کذب بیانی پر عمل پیرا ہوکر مجھ پر بہتان تراشی کررہے ہیں کہ جواب نہیں دیا۔

جعفر صادق: قارئین سے انصاف کا طلب گار ہوں۔
کیا واقعی شیعہ عالم نے پہلے سوال کا جواب دیا تھا۔  سوال تو سیدھا سا دھا پوچھا گیا تھا کہ
 سنی مذہب میں  عقیدہ صحابہ  کے مطابق شرف صحابیت کے لئے  حالت ایمان اور خاتمہ بالخیر لازم ہے یا نہیں؟
اہل سنت مؤقف 
شرف صحابیت کے لئے حالت ایمان اور خاتمہ بالخیر لازم و ملزوم ہے۔ 
دلائل: اہل سنت کی طرف سے مندرجہ ذیل  دلائل سے ثابت کیا گیا کہ  حالت ایمان اور خاتمہ بالخیر شرف صحابیت کے لئے لازمی ہے اور اسی وجہ سے کرکرہ اور مدعم شرف صحابیت سے خارج ہیں۔
1۔قرآن کریم: سورت الحدید 10، سورت توبہ 100
استدلال: اللہ ﷻ کا  تمام صحابہ کرام سے جنت کا وعدہ  اور تمام صحابہ سے راضی ہونا۔ اس لئے جہنمی  شرف صحابیت سے خارج ہوگا۔
2۔ صحیح احادیث نبویﷺ :صحیح بخاری حدیث 3074، 3673،574، 4234۔
استدلال: نبیﷺ نے کرکرہ اور مدعم کو جہنمی قرار دے دیا ہے۔ روز قیامت  ان مرتدین کو جہنم میں ڈالا جائے گا  جو بظاہر صحابی تھے  لیکن   ان کا خاتمہ بالخیر نہ ہوا۔
3۔علمائے اہل سنت و اہل تشیع: امام ابن حجر عسقلانی(الاصابہ فی  تمییز الصحابہ)،  شہید ثالث قاضی نوراللہ شوستری(مجالس المؤمنین)،  مولانا شیخ روشن علی نجفی(اسلام کے بنیادی عقائد)،  علامہ حسین بخش (تفسیر انوار نجف)۔
استدلال: شرف صحابیت کے لئے خاتمہ بالخیر لازمی ہے۔ کرکرہ اور مدعم جہنمی تھے، اس  سے دونوں کے خاتمہ بالخیر کی نفی ہوتی ہے۔ شرف صحابیت سے خارج ہیں۔

اہل تشیع مؤقف
شرف صحابیت کے لئے حالت ایمان اور خاتمہ بالخیر لازم نہیں ہے۔
شیعہ عالم کو بھی اسی درجہ کے دلائل دیکر کر واضح الفاظ  سے دکھانا تھا کہ شرف صحابیت کے لئے حالت ایمان اور خاتمہ بالخیر لازم نہیں ہے۔  لیکن کیونکہ اس کے متعلق سنی و شیعہ کتب میں ایسا کچھ بیان ہی نہیں ہوا تو اس لئے شیعہ عالم کھینچ کھانچ کر صحیح احادیث میں کرکرہ اور مدعم کے نام دکھاکر ، صحابہ کرام کی فہرست میں ان دونوں کا تذکرہ دکھا کر،  پھر أسماء الرجال میں ان کا تذکرہ حتیٰ کہ  اسلامی ناموں میں وہ دونوں  نام دکھاکر اور مختلف فتووں اور آڈیوز کا  بھی سہارہ  لینے پر مجبور ہوگئے ، آخر میں بار بار یہ کہہ کر عوام کو گمراہ کرتے رہے کہ متفقہ طورپر  سنی مذہب میں کرکرہ اور مدعم جید صحابی رسول ہیں۔

 نتیجہ:   شیعہ عالم نے  گیارہ میسیجز  کئے لیکن کسی ایک جواب میں  بھی پہلے سوال کا کوئی تشفی بخش  جواب نہیں دیا گیا اور نہ  کوئی  دلیل پیش   کرسکے۔
سید علی حیدری شیعہ مناظر:  اب آتے ہیں ان کے دوسرے سوال پر 
2۔ شیعہ عقیدہ صحابہ میں شرف صحابیت کے لئے حالت ایمان اور خاتمہ بالخیر لازم ہے یا نہیں؟
 یہاں سے اس سوال کا جواب شروع ہوا۔ موصوف کو یہ جواب بھی سمجھ نہیں آیا کہ قرآن مجید کے مطابق شیعہ صحابی کے لیے خاتمہ بالخیر کی کوئی شرط نہیں بناتے۔

جعفر صادق:قارئین۔ سوال  2 کو اچھی طرح ذہن میں بٹھاکر یہ  اسکرین شاٹ دیکھیں۔


موصوف کو  سیدھا  سا جواب بمعہ دلائل دینے تھے  لیکن  شیعہ عالم نے نامعلوم مصنف کی تحریر کاپی پیسٹ کر کے رکھ دی، نہ کوئی حوالہ اور نہ کوئی دلیل!!  بلکہ   مجالس المؤمنین  سے اسکینز دکھا کر اپنے جید شیعہ علماء کی رائے کا بھی انکار کرنا شروع کردیا۔   ان کی  خیانت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے مجالس المؤمنین کے مزید کئی پیجز سے بھی اہل سنت مؤقف کی تائید دکھادی گئی ہے (پیج 183 سے 193)  ، جس سے ثابت ہوا کہ شیعہ عالم غلط بیانی کر رہے ہیں کیونکہ اہل تشیع کے ہاں بھی شرف صحابیت کے لئے حالت ایمان اور خاتمہ بالخیر لازمی ہے۔
لیکن، کیا سوال یہ تھا کہ قرآن کریم میں شرف صحابیت کے لئے حالت ایمان اور خاتمہ بالخیر  لازمی ہے یا نہیں؟
جب سوال اہل تشیع  نکتہ نظر کے متعلق تھا تو قرآن کریم میں أصحاب کی اقسام والی تحریر اس کا جواب کیونکر ہوسکتی ہے؟  جبکہ اس تحریر پر پہلے ہی جواب دیا جاچکا تھا۔سول گندم اور جواب چنا کی مثال درحقیقت یہاں صادق آتی ہے۔

سید علی حیدری شیعہ مناظر: اور یہاں دوسرے سوال کے جواب کی صراحت بھی کی۔

جعفر صادق:  اسکرین شاٹ ملاحظہ فرمائیں۔ شیعہ عالم نے ذاتی رائے سے شیعہ عقیدہ کا ہی انکار کردیا، کوئی علمی جواب نہیں دیا کیونکہ اس سے حقیقت کھل جاتی!
سید علی حیدری شیعہ مناظر: سب سے پہلے تو میں وضاحت کردوں کہ مکتب تشیع میں عقیدہ صحابہ نام کے کسی عقیدے کا وجود ہی نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ یہ ایک نظریہ ہے۔

کیا صحابہ کرام کے متعلق اہل تشیع کوئی عقیدہ نہیں رکھتے؟

جعفر صادق: قارئین غور فرمائیں۔۔اہل تشیع پورا  مذہب صحابہ کرام سے اختلافات ہونے کی بنیاد پر گھڑا گیا ہے۔  شیعہ  صحیح روایات کے مطابق بعد از نبیﷺ  سوائے تین صحابہ کے پوری جماعت صحابہ مرتد ہوگئی! (معاذاللہ) اور موصوف کہہ رہے ہیں شیعہ کے ہاں صحابہ کرام  کے متعلق کوئی عقیدہ موجود ہی نہیں ہے۔   آئیے ایک جھلک دیکھیں کہ اہل تشیع کے ہاں صحابہ کرام کے متعلق  کس قسم کے عقائد موجود ہیں۔

صحابہ کرام کے بارے میں عقائد اہل تشیع

1۔صحابہ کرام کی جماعت میں مؤمن، منافق، مرتدین وغیرہ  بھی شامل ہیں۔(معاذاللہ)
2۔سیدنا علیؓ   اور بارہ امام تمام صحابہ کرام سے افضل ہیں۔
3۔سوائے تین  صحابہ حضرت مقدادؓ، ابوذر غفاریؓ اور سلمان فارسیؓ باقی پوری جماعت صحابہ بعد از نبیﷺ  مرتد ہوگئی تھی۔ (معاذاللہ)
4۔ بارہ معصوم امام  پوری جماعت صحابہ کرام اور گذشتہ تمام انبیائے کرام سے افضل ہیں۔ (معاذاللہ)

صفحہ 30 از 50