کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 22 از 50

ميں تم سب کو حوض کی طرف بھيجوں گا جو شخص بھی اس حوض تک پہنچے گا وه اس ميں سے ضرور پئے گا اور جو بھی اس سے پئے گا پھر وه تاابد پياس محسوس نہيں کرے گا پھر ايک گروه ميرے پاس آئے گا جسے ميں اچھی طرح پہچانتا ہوں گا اور وه بھی مجھے پہچانتے ہوں گے اس کے بعد ان لوگوں کو مجھ سے جدا کرديا جائے گا .''ابو حازم کا بيان ہے کہ جس وقت ميں نے نعمان ابن ابی عياش کے سامنے يہ حديث پڑھی تو انہوں نے مجھ سے کہا: کيا تم نے يہ حديث سھل سے اسی طرح سنی ہے ؟ ميں نے کہا ہاں اس وقت نعمان بن ابی عياش نے کہا کہ ابوسعيد خدری نے بھی اس حديث کو ان کلمات کے اضافے کے ساتھ پيغمبر اکرمﷺ سے نقل کيا ہے کہ آنحضرتﷺ فرماتے ہيں :
''اِنھم من فيقال: نک لاتدر ما أحدثوا بعدک فأقول سحقًا سحقًا لمن بدل بعد''
يہ افراد مجھ سے ہيں پس کہا جائے گا کہ آپ نہيں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کيا کام انجام ديئے ہيں ! پس ميں کہوں گا ايسے لوگوں سے خدا کی رحمت دور ہوجائے جنہوں نے ميرے بعد (احکام دين ميں ) تبديلی کی۔
پيغمبر اسلامﷺ کی اس حديث ميں ان دو جملوں'' جنہيں ميں اچھی طرح پہچانتا ہوں گا اور وه سب بھی مجھے پہچانتے ہونگے ''اور ''ميرے بعد تبديلی کی'' سے صاف واضح ہے کہ آنحضرتﷺ  کی مراد آپ کے وه اصحاب ہيں جو کچھ مدت آنحضرتﷺ کے ہمراه رہے ہيں (اس حديث کو بخاری اور مسلم نے بھی نقل کياہے)
٢۔بخاری اور مسلم ،پيغمبر خداﷺ سے روايت کرتے ہيں کہ آنحضرتﷺ نے فرمايا ہے:
''يرد علَّ يوم القيامة رھط من أصحاب أو قال من أمت فيحلون عن الحوض فأقول يارب أصحاب فيقول اِنّہ لاعلم لک بما أحدثوا بعدک أنھم ارتدوا علیٰ أدبارھم القھقری. ''
قيامت کے دن ميرے اصحاب ميں سے يا فرمايا ميری امت ميں سے ايک گروه ميرے پاس آئے گاپس ان کو حوض کوثر سے دور کرديا جائے گا اس وقت ميں کہوں گا اے ميرے پروردگار! يہ ميرے اصحاب ہيں تو خدا فرمائے گا آپ نہيں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کيسے کيسے کام انجام دئيے ہيں ، بے شک يہ لوگ اپنی سابقہ حالت (زمانہ جاہليت) پر لوٹ کر مرتد ہوگئے تھے۔

نتيجہ:قرآنی آيات اور سنت پيغمبرﷺ  کی روشنی ميں يہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اصحاب اور وه افراد جنہيں آنحضرتﷺ  کی مصاحبت کا شرف حاصل ہوا ہے وه سب ايک ہی درجہ کے نہيں تھے، ان ميں بعض ايسے بلند مقام افراد تھے جن کی خدمات نے اسلام کے پھيلانے ميں انتہائی مؤثر کردار ادا کيا ہے ليکن بعض ايسے بھی تھے جو ابتداء ہی سے منافق، دل کے مريض اور گمراه تھے۔
اسی بيان کے ساتھ صحابۂ  پيغمبر ﷺ کے بارے ميں شيعوں کا نظريہ (جو درحقيقت قرآن اور سنت کا نظريہ ہے) واضح ہوجاتا ہے۔
شیعہ  عالم کی طرف سے کاپی پیسٹ تحریر رکھ کر شرط5 کو توڑنا(اسکرین شاٹ)

 اب آپ نے جو افترا پردازی و بہتان تراشی مجھ سے منسوب کی ہے کہ میں نے اپنے قیاس سے شیعہ عقیدہ صحابہ سنیوں کی طرف منسوب کیا ہے ۔

تو سب  سے پہلے تو میں وضاحت کردوں کہ مکتب تشیع میں عقیدہ صحابہ نام کے کسی عقیدے کا وجود ہی نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ یہ ایک نظریہ ہے۔ دوسرا جسے آپ نے میرا قیاس کہا ہے، وہ قیاس نقل کریں اور ثابت کریں اسے میرا قیاس۔  آپ صرف یہ بتائیں کہ میں نے تاریخ کی کونسی کتاب کا حوالہ دیا ہے تین دنوں میں؟؟؟  یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ ذہبی کی کتاب سے کسی ایسے شخص کا نام نکال کر سب کے سامنے رکھیں جو صحابی رسول نہیں لیکن ذہبی نے اسے صحابی رسول لکھا ہے۔


  آپ سنی مذہب سے یہ الفاظ پیش تو کریں پہلے کہ کرکرہ کا خاتمہ بالخیر نہ ہونے کی وجہ سے سنی مذہب اسے صحابیت سے خارج مانتا ہے۔آپ کی ذاتی قیاس آرائیوں سے سنی مذہب کی متفقہ رائے کو کون رد سمجھے گا؟؟  جب آپ کو میرے بھیجے گئے حوالوں میں سے کسی عالم کے حکم پر کوئی اعتراض نہیں تو میرا دعویٰ برحق ثابت ہوگیا ۔میرے دعویٰ کو رد کرنے کے لیے علمی و تحقیقی طریقے سے جیسا کہ اوپر ابنِ حجر کے طریقے سے سمجھایا بھی ہے۔ آپ کو ایک ایک کرکے اپنے تمام علما کے حکم پر اعتراض پیش کرنا ہوگا۔جیسے ابن حجر نے سنی متقدمین علما کی ایک ایک رائے پر اعتراض کرکے انہیں رد کیا ہے۔
 
مشکوک ایسے ہوگئیں کہ مذکورہ کتب علم الرجال میں کلیدی حیثیت رکھنے والے سنی علماء نے تدوین حدیث کی درستگی کے لیے لکھی ہیں اور قیاس مع الفارق نہ کریں کیوں کہ یہاں تمام سنی علماء متفقہ طور پر مدعم و کرکرہ کو جید صحابی رسول مان رہے ہیں، کسی کی تحقیق میں اختلاف نہیں ہے لہذا مختلف تحقیقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
 
 
 
عبداللہ ابن ابی کو سنی مذہب رضی اللہ عنہ مانتا ہے کیا؟؟؟؟مدعم و کرکرہ کو تو سنی مذہب متفقہ طور پر رضی اللہ عنہم مان رہا ہے۔آپ کیوں مدعم و کرکرہ کو ایک منافق سے ملانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں؟؟
شیعہ عالم کی طرف سے  موضوع  سے ہٹ کر حضرت ابوبکر صدیقؓ  پر اعتراض  
شرط#7  کی خلاف ورزی (اسکرین شاٹ)
  فرمان نبوی ﷺ سے تو یہ بھی ثابت ہے کہ اللہ اور اس کے نبی ﷺ ، ابوبکرؓ سے راضی نہیں تو کیا آپ تسلیم کرلیں گے ابوبکرؓ  صحابیت سے خارج ہیں؟  

میں تو سارا چٹھہ بٹہ کھول چکا ہوں۔قرآن، حدیث، سنی سلف صالحین سے متاخرین تک جس نے صحابہ سے متعلق جو کچھ کہا سب بالدلیل بیان کرچکا ہوں۔
اس فتویٰ میں صحابہ کی غلطیوں اور لغزشوں کو خلاف قرآن و حدیث چھپانے کا کہا گیا ہے۔قرآن و حدیث تو صحابہ کی کوتاہیاں ان کے گناہ و کفر کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ آپ کی قیاس آرائی کے مطابق کرکرہ صحیح بخاری کی اس حدیث سے صحابیت سے خارج ہورہا ہے  اور سنی مذہب کا متفقہ فیصلہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث سے کرکرہ جید صحابی رسول ثابت ہے۔کون درست ہے؟
 کیسے موضوع سے باہر؟  آپ کے مطالبے پر ہی صحیح بخاری کی جہنمی صحابہ کی صراحت سے متعلق حدیث بھیجی ہے۔ آپ مطالبہ چھوڑ دیں وگرنہ میرے پاس تو اس مسئلے پر دلائل کا انبار لگا ہے۔  اس حدیث سے جو ثابت ہوا ہے اوپر وضاحت کرچکا ہوں ، ٹیگ کردیتا ہوں۔
یہ ہیں آپ کی قیاس آرائیاں۔
1۔ لسان نبوی ﷺسے کرکرہ صحابیت سے خارج۔
2۔ صحابی وہ جس کا خاتمہ بالخیر ہو۔
3۔ شیعہ عقیدہ صحابہ۔
4۔ شیعہ عقیدہ صحابہ میں خاتمہ بالخیر کی شرط۔
5۔ سارے صحابہ سے اللہ راضی۔وغیرہ وغیرہ

صفحہ 22 از 50