کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 20 از 50

 جب کہ سنی مذہب کے مطابق یہاں ایمان لانا شرط صحابیت نہیں بلکہ مسلمان ہونا شرط ہے۔اور یہ شرط عین قرآن و حدیث کے مطابق ہے لہذا خاتمہ بالخیر کا ابلیسی قیاس حدیث نبوی اور سنی مذہب سے از خود رد ہوگیا۔ 


جی قارئین! تحریف قرآن ملاحظہ فرمائیں یہاں آدھی آیت موصوف کاپی پیسٹ کررہے ہیں تاکہ صرف اپنی مرضی کی بات لے کر باقی باتیں چھوڑ سکیں۔ 

اصل موضوع یہاں سے شروع ہورہا ہے، یہاں بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں سے خطاب فرمارہا ہے۔

سورہ الحدید آیت 7
اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا جَعَلَکُمۡ مُّسۡتَخۡلَفِیۡنَ فِیۡہِ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ اَنۡفَقُوۡا لَہُمۡ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ﴿۷﴾

   اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس مال سے خرچ کرو جس میں اللہ نے تمہیں جانشین بنایا ہے، پس تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں اور (راہ خدا میں) خرچ کریں ان کے لیے بڑا ثواب ہے۔
 
نوٹ فرمائیں اللہ تعالیٰ صحابہ کو تنبیہ فرمارہا ہے کہ وہ ایمان لائیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔
اگلی   آیت 8

وَ مَا لَکُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ۚ وَ الرَّسُوۡلُ یَدۡعُوۡکُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ وَ قَدۡ اَخَذَ مِیۡثَاقَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸﴾

  اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے؟ جب کہ رسول تمہیں تمہارے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے مضبوط عہد لے چکا ہے اگر تم ماننے والے ہو۔
 
صحابہ کی سخت الفاظ میں اللہ تعالیٰ مذمت فرمارہا ہے کہ وہ پکا وعدہ کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لارہے*  اور یہ وہ ادھوری آیت جو قریشی صاحب نے تحریف کرکے بھیجی۔
آیت 10

وَ مَا لَکُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ لَا یَسۡتَوِیۡ مِنۡکُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعۡظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الۡحُسۡنٰی ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ﴿٪۱۰﴾

  اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے جب کہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ کے لیے ہے؟ تم میں سے جنہوں نے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور قتال کیا وہ (دوسروں کے) برابر نہیں ہو سکتے، ان کا درجہ بہت بڑا ہے ان لوگوں سے جنہوں نے بعد میں خرچ کیا اور مقاتلہ کیا، البتہ اللہ تعالیٰ نے ان سب سے اچھائی کا وعدہ کیا ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب آگاہ ہے۔
 
اس آیت کا آغاز بھی صحابہ کی سخت سرزنش سے ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کررہے تھے۔ 

تو قریشی صاحب اب یہ بتانا آپ کی ذمہ داری ہے کہ اگر آپ ادھوری اور تحریف شدہ آیت سے صرف اپنی مطلب کے الفاظ لیں گے اور اس سے سارے صحابہ جنتی کا قیاس کریں گے۔تو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیات میں کونسے  صحابہ کو سرزنش کی ہے؟؟ کیا ان صحابہ سے بھی جنت کا وعدہ تھا ، جو ایمان لانے کے بعد بھی ایمان نہیں لارہے تھے؟ جو نبی کریم سے پکا وعدہ کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ پر ایمان سے پہلو تہی کررہے تھے اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بند کردیا تھا۔کیا ان سب سے جنت کا وعدہ ہورہا ہے؟؟ یا پھر جنت کا وعدہ صرف ان سے ہے جنہوں نے فتح مکہ سے قبل بھی اللہ کی راہ میں خرچ و قتال کیا اور فتح مکہ کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ وقتال کیا؟؟

  جھوٹ نہ بولیں ۔  کرکرہ کے صحابیت سے خارج ہونے کا حکم لسان نبی ﷺسے آپ نے کہیں نہیں دکھایا۔اگر آپ جھوٹے نہیں اور یہ قیاس آرائیاں نہیں تو لسان نبوی ﷺسے کرکرہ کے صحابیت سے خارج ہونے کے الفاظ بھیج دیں۔ آگے چلیں۔ جی بالکل شرف صحابیت کے لیے خاتمہ بالخیر ہونا قیاس آرائی کے سوا کچھ نہیں اور بلاشک آپ زبردستی سنی مذہب میں عقیدہ صحابہ شامل کرکے غلط بیانی کررہے ہیں، آپ کو لگتا ہے کہ اگر یہ واقعی عقیدہ صحابہ ہے تو پیش کریں اس پر صراحت کے ساتھ نص قطعی۔

  استغفرُللہ۔قارئین نوٹ کریں کہ اب قیاس آرائیوں پر مبنی عقیدہ صحابہ کو بچانے کے لیے سنی مناظر نے شان رسالتﷺ میں بدترین گستاخی شروع کردی ہے۔ حالاں کہ صرف ایک صحابی نہیں بلکہ  صحابہ کی ایک پوری جماعت   کو اللہ تعالیٰ جہنم رسید کرے گا ۔ اوپر تفصیلی دلائل دے چکا ہوں۔
 آپ نے  کافر نہیں کہا تو ثابت ہوگیا کہ مدعم و کرکرہ کا خاتمہ بالخیر ہوا۔گو کہ خاتمہ بالخیر کی شرط کا رد شیعہ و سنی منہج سے اوپر کرچکا ہوں۔ مزید صراحت شیعہ نکتہ نظر سے اور کیے دیتا ہوں۔  
شیعہ  عالم کی طرف سے کاپی پیسٹ تحریر رکھ کر شرط5 کو توڑنا

 *صحابہ کرام کے بارے ميں شيعوں کا کيا نظريہ ہے؟*
صحابی قرآن مجيد کی نگاه ميں از اہل تشیع
قرآن کے نکتہ نظر سے نبی اکرم ﷺ  کی خدمت ميں حاضر ہونے اور آپﷺ کی مصاحبت اختيار کرنے والوں کی دوقسمیں ہيں:
پہلی قسم: 
وه ايسے اصحاب ہيں جن کی قرآن مجيد کی آيتيں مدح و ستائش کرتی ہيں اور انہيں شوکت اسلام کا بانی قرار ديتی ہيں يہاں پر ہم صحابہ کرام کے ايسے گروه سے متعلق چند آيتوں کا ذکر کرتے ہيں:

١۔دوسروں پر سبقت لے جانے والے

وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ

اور مہاجرين اور انصار ميں سے اولین سبقت کرنے والے اور جن لوگوں نے نيکی ميں ان کا اتباع کيا ہے ان سب سے خدا راضی ہوگيا ہے اور يہ سب خدا سے راضی ہيں اورخدا نے ان کے لئے وه باغات مہيا کئے ہيں جن کے نيچے نہريں جاری ہيں اور يہ ان ميں ہميشہ رہنے والے ہيں اور يہی بہت بڑی کاميابی ہے۔
 
٢۔درخت کے نيچے بيعت کرنے والے

فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً فَقَدْ جَاء أَشْرَاطُهَا فَأَنَّى لَهُمْ إِذَا جَاءتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ

صفحہ 20 از 50