کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 19 از 50

یہاں ابن حجر صحابی کی اصطلاحی تعریف کے مزید اختلافات نقل کررہا ہے جس میں مسلمان ہوکر نبیﷺ کو دیکھنے ، مرتد ہو جانے اور پھر مسلمان ہوجانے وغیرہ کے مسائل ۔اس سے آگے فرشتوں کی صحابیت پر سنی مذہب کے اختلافات نقل کیے جارہے ہیں۔


 اور یہاں جنات کی صحابیت کے اختلافات۔۔
  لہذا ابن حجر کی ادھوری، اختلافی اور من پسند ذاتی رائے بھیجنے کا کوئی مقصد یہاں نہیں تھا بلکہ جہالت کا اعلی شاہکار کہنا چاہیے کیوں کہ ابن حجر کا یہ حوالہ میرے حق اور میری دلیل کی تائید میں ہے۔ وہ اس طرح کہ ابن حجر نے ہی مدعم و کرکرہ کی صحابیت کی تصدیق و توثیق اسی کتاب میں کی ہے۔  

آپ یہ حوالہ بھیج کر غالباً ابن حجر کی منافقت ثابت کرنا چاہتے تھے کہ دیکھو ابن حجر اسلام پر مرنے والے مسلمان صحابی رسول کو جہنمی مان کر بھی جید صحابی رسول بنارہا ہے۔

اگر آپ نے ایسا نہیں سوچا تھا تو پھر یہ حوالہ بھیجنا حماقت نہیں تو اور کیا تھا؟؟ 
جو خیانت آپ نے ابن حجر کی کتاب سے ادھوری بات بھیج کر کی، اس سے زیادہ بڑی خیانت آپ نے شیعہ کتب سے کی۔۔۔۔
ملاحظہ فرمائیں 


اس صفحے پر اکابر شیعہ اصحاب اکرام  کی تعریف بیان کی جارہی ہے  لیکن خیانت کرکے اسی کتاب کے اگلے صفحے آپ نے نہیں بھیجے، وہ میں بھیج دیتا ہوں 

 
یہاں صحابی کی اصطلاحی تعریف کے اختلافات بھی ملاحظہ فرمائیں اور مکتب تشیع کا صحابہ سے متعلق موقف بھی جو مقدمہ دوم سے شروع ہوتا ہے دیکھ لیں۔

 اور یہ اس سے اگلے دو صفحات جہاں قرآن مجید سے منافق صحابہ کی حقیقت بھی بیان کی جارہی ہے۔

حافظ ابنِ مندہ آج کا شیعہ رافضی ہے یا سنیوں کے علماء قدما میں سے ایک تھا، آپ نے اسے آج کا رافضی بنادیا کیوں کہ اس نے مدعم و کرکرہ کے جہنمی ہونے کے باوجود ان کی صحابیت کی تصدیق کی۔یہی کام ابن اثیر، الازدی، ابی عبداللہ الخطیب، شمس الدین ذہبی، ابن عبدالبر، ابن حجر عسقلانی نے بھی کیے ، دارلعلوم دیوبند انڈیا اور جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ یوسف بنوری ٹاؤن کراچی والے بھی ان دونوں جہنمی صحابہ کو آج بھی جید اصحاب رسول مانتے ہیں۔
یہ سب بھی شیعہ رافضی ہوگئے ۔دیکھ لیں قارئین ذاتی قیاس آرائیوں کا نتیجہ کہ قریشی صاحب نے پورے سنی مذہب کو آج کا شیعہ رافضی بنادیا ہے۔
   پھر سنی عقیدہ صحابہ ۔جس کا وجود نہ ہی سنیوں کے اصول دین میں ہے نہ ہی سنیوں کے فروع دین میں، نہ ہی سنیوں کے ایمان مفصل میں ہے نہ ہی سنیوں کے ایمان مجمل میں ہے۔ابھی اوپر سنی مذہب کے ٹھیکیداروں کے نام گنوائے ہیں تصدیق کردیں یہ تمام سنی آئمہ رجال آج کے شیعہ رافضی ہیں۔

صحیح البخاری کی یہ حدیث (حوض کوثر)  آپ کے مطالبے پر دوبارہ لگارہا ہوں۔

نبی کریم ﷺ نے 1400 سال پہلے بتایا تھا کہ وہ روز محشر بھی جہنم رسید ہونے والے اپنے صحابہ کو  میرے صحابی میرے صحابی کہہ کر پکاریں گے حالاں کہ اس وحی کے بعد تو نبی کریم ﷺ کو الفاظ تبدیل کرکے روز محشر کہنا چاہیے کہ ان مرتدوں کو ان مرتدوں کو۔ مگر نہیں صاحب۔نبی کریمﷺ ان مرتدین کو بھی روز محشر اپنا صحابی مانیں گےاور ممتاز قریشی صاحب ہیں کہ معاذ اللہ نبی کریم ﷺ کو جھٹلا کر ابھی سے ہی ان صحابہ کی صحابیت کا انکار کررہے ہیں، جنہیں نبی کریم 1400 سال پہلے بھی اپنا صحابی مانتے تھے اور روز محشر بھی اپنا صحابی مانیں گے۔

جعفر صادق:غور فرمائیں!کیا اس حدیث کے مطابق نبی کریمﷺ کو  پہلے سےعلم تھا کہ وہ لوگ میرے بعد مرتد ہوگئے تھے؟  اگر پہلے علم ہوتا تو غیب سے  آواز کیوں  آئی؟ اور اگر علم نہ تھا بعد میں بتایا گیا  کہ وہ بعد از نبی مرتد ہوگئے تھے ، تو کیا علم ہونے کے بعد بھی نبی نے فرمایا: میرے صحابی، میرے صحابی؟   پس اس حدیث سے بھی ثابت ہوگیا کہ شرف صحابیت کے لئے خاتمہ بالخیر لازمی ہے۔ 

 سید علی حیدری شیعہ مناظر:  حدیث نبویﷺ میں جہنمی صحابہ کی صراحت کے بعد اب ملاحظہ فرمائیں سنی سلف صالحین و علما متقدمین کا صحابی کی اصطلاحی تعریف کا اٹل فیصلہ 


  

 حضرت خطیب بغدادی نے امام احمد بن حنبل  سے صحابی کی تعریف ان الفاظ میں بیان کی ہے:

*کُلُّ مَنْ صَحِبَهُ سَنَةً أَوْ شَهْرًا أَوْ یَوْمًا أَوْ سَاعَةً أَوْ رَآهُ، فَهُوَ مِنْ أَصْحَابِهِ، لَهُ مِنَ الصُّحْبَةُ عَلَی قَدْرِ مَا صَحِبَهُ *

 ہر وہ شخص جس نے نبی اکرم ﷺ کی صحبت اختیار کی ہو‘ ایک سال یا ایک مہینہ یا ایک دن یا ایک گھڑی یا اُس نے  آپ ﷺ کو دیکھا ہو وہ صحابی ہے۔ اسے اسی قدر شرفِ صحابیت حاصل ہے جس قدر اس نے صحبت اختیار کی۔ 

امام بخاری صحابی کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں:

*وَمَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم أَوْ رَآهُ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَهُوَ مِنْ أَصْحَابِهِ.*

مسلمانوں میں سے جس نے بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہو یا فقط آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہو، وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابی ہے۔

 احمد بن حنبل اور امام بخاری نے صحابی کی اصطلاحی تعریف میں نہ ہی ایمان کی حالت میں ملاقات کی شرط رکھی ہے اور نہ ہی خاتمہ بالخیر کی کوئی شرط رکھی ہے۔
 واحد شرط جو سنی سلف صالحین نے یہاں رکھی ہے وہ اسلام قبول کرنا یا مسلمان ہوتے ہوئے نبی کریم کی صحبت ہے۔

جب کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان ہونے اور ایمان لانے میں واضح فرق صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے 

 اللہ تعالیٰ نے  ایمان اور اسلام میں تفریق ان الفاظ میں فرمائی ہے 

سورۃ 49 - الحجرات - آیت 14
قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا‌ ؕ قُلْ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَلٰـكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ‌ ۚ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡـًٔــا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ۔

اعرابی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے۔ آپ کہہ دیجئے کہ *درحقیقت تم ایمان نہیں ﻻئے بلکہ تم یوں کہو کہ ہم اسلام ﻻئے* حاﻻنکہ ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا۔ تم اگر اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنے لگو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہ کرے گا۔ بیشک اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔

صفحہ 19 از 50