کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 18 از 50

السّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ وَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ تَحۡتَہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ

آیت میں اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے۔
مہاجرین و انصار میں سے صرف اولین سبقت والے اور جو احسان کے ساتھ ان کے تابعی ہوئے اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسی جنتیں تیار کی ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں وہ ابد تک ہمیشہ رہیں گے یہی عظیم کامیابی ہے۔

آیت سے واضح ہوا کہ یہاں تمام صحابہ سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوا کیوں کہ صحابہ تو تمام مہاجرین و انصار تھےلیکن یہاں مہاجرین و انصار میں سے صرف سابقون الاولون کی بات ہے۔آگے اللہ تعالیٰ ان تابعین سے اظہار رضامندی فرمارہا ہے جنہوں نے احسان کی شرط پوری کرکے سابقون الاولون کی پیروی کی۔

کیا آج کے مومنین احسان کے ساتھ سابقون الاولون کی پیروی نہیں کرتے؟؟؟؟

سابقون کون ہیں آئیے قرآن و حدیث سے دیکھ لیجیے۔

سورہ الواقعہ
وَّ کُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَۃً ؕ﴿۷﴾

۷۔ اور تم تین گروہوں میں بٹ جاؤ گے۔

فَاَصۡحٰبُ الۡمَیۡمَنَۃِ ۬ۙ مَاۤ اَصۡحٰبُ الۡمَیۡمَنَۃِ ؕ﴿۸﴾

۸۔ رہے داہنے ہاتھ والے تو داہنے ہاتھ والوں کا کیا کہنا۔

وَ اَصۡحٰبُ الۡمَشۡـَٔمَۃِ ۬ۙ مَاۤ اَصۡحٰبُ الۡمَشۡـَٔمَۃِ ؕ﴿۹﴾

۹۔ اور رہے بائیں ہاتھ والے تو بائیں ہاتھ والوں کا کیا پوچھنا۔

*وَ السّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَ ﴿ۚۙ۱۰﴾*

*۱۰۔ اور سبقت لے جانے والے تو آگے بڑھنے والے ہی ہیں*

اُولٰٓئِکَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ ﴿ۚ۱۱﴾

۱۱۔ یہی وہ مقرب لوگ ہیں۔

عن ابن عباس قال: نزلت فی حزقیل مومن آل فرعون و حبیب النجار الذی ذکرنی یٰسٓ و علی بن ابی طالب و کل منہم سابق امتہ و علی افضلہم۔
(روح المعانی ذیل آیت)

ابن عباس سے روایت ہے: یہ آیت نازل ہوئی آل فرعون کے مومن حزقیل، حبیب النجار جس کا سورہ یٰسٓ میں ذکر ہے اور علی بن ابی طالب کے بارے میں۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنی امت میں سبقت لی ہے اور علی علیہ السّلام ان میں افضل ہیں۔
اس مضمون سے قریب روایت کو بیان کیا ہے حضرت ابن عباس سے درج ذیل راویوں نے:
مجاہد
ضحاک : ان کی روایت میں ذاک علی و شیعتہ الی الجنۃ ہے
سدی: نزلت فی علی
مالک الغفاری: سابق ھذہ الامۃ علی بن ابی طالب
 ابو نعیم نے اپنی کتاب مانزل من القرآن فی علی میں ذکر کیا ہے۔
عطا بن ابی ریاح
 ابن مردویہ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔
نیز ملاحظہ ہو الدر المنثور۔ تفسیر ابن کثیر ۴: ۲۸۳ طبع مصر۔ فتح القدیر ۵: ۱۴۸ طبع مصر۔
 آخر میں رضی اللہ عنہم ورضواعنہ کے مصداق تو سورہ توبہ آیت 100 میں ہر وہ مومنین ہیں جو سابقون الاولون کی اتباع احسان کی شرط کے ساتھ کرتے ہیں، ان مومنین میں الحمدلللہ میں بھی شامل ہوں۔تو آپ نے اس آیت کا اطلاق صرف اپنی مرضی کے بتوں کی طرح تراشے ہوئے صحابہ تک کس اصول سے کردیا؟؟؟
  فلاں شرف صحابیت سے خارج ہے ۔یہ حکم آپ نہیں لگاسکتے دو دن سے یہی سمجھا رہا ہوں۔آپ اس کے باوجود کرکرہ اور مدعم کو شرف صحابیت سے اپنی قیاس آرائیوں سے خارج کررہے ہیں۔آخر کیا وجہ ہے یہ کام کسی سنی امام الرجال نے آج تک نہیں کیا؟؟
  کرکرہ متفقہ طور پر سنی مذہب میں جید صحابی رسول اس طرح ہوگیا کہ سنیوں کے جس عالم الرجال نے بھی کرکرہ پر تحقیق کی ہے اس نے حدیث نبویﷺ کو دلیل بناکر اس کی صحابیت کی تصدیق و توثیق کی ہے۔  جب کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں کہ آپ نے واضح حکم نبیﷺ کسی صحیح حدیث سے دکھایا ہے کہ کرکرہ صحابیت سے خارج ہے۔
 میرا  بالکل درست سوال ہے آپ لاجواب ہیں اپنی کنفیوژن کی وجہ سے۔۔۔۔اس لیے سوال دیکھ کر چکرا گئے ہیں۔پانی پئیں اور غور کریں۔آپ نے دو دن سے عقیدہ صحابہ کی رٹ لگارکھی ہے ذرا بتائیں تو یہ عقیدہ صحابہ سنیوں کے اصول دین میں شامل ہے یا فروع دین میں شامل ہے؟ آیا کہ عقیدہ صحابہ سنیوں کے ایمان مفصل کا حصہ ہے یا ایمان مجمل کا حصہ ہے؟؟اس کے بعد دیکھیں گے سنی مذہب میں اس عقیدے کی حیثیت کیا ہے اور درحقیقت اس کا ماخذ کیا ہے۔
 آپ کو تو اردو لکھی بھی پڑھنا نہیں آرہی، میرے جس میسج کو آپ نے ٹیگ کیا ہے، وہاں لکھا ہے *قول نبی ﷺسے صحابہ کی پوری ایک جماعت کا جہنمی ہونا ثابت ہے* اور آپ مجھ سے سوال پوچھ رہے ہو کہ کس قول نبی ﷺسے پوری صحابہ کی جماعت جہنمی ثابت ہوتی ہے۔یہ تو حالت ہے آپ کی، کہ مخالف کی عبارت میں بھی اپنی مرضی کی تحریف کرکے نئے مطالبات شروع کردیتے ہو اور یہ ہے وہ حدیث جس میں صراحت ہے کہ اصحاب رسول کی ایک پوری جماعت کو اللہ تعالیٰ جہنم واصل کرے گا۔

اگر نبی کریم ﷺنے جہنمی صحابہ کو صحابیت سے خارج کرنا ہوتا  تو یہاں ہی کردیتے۔

آپ کے صرف امام بخاری نے اس حدیث کے کم از کم 8 طرق صحیح بخاری میں مختلف اسناد سے نقل کیے ہیں کسی ایک میں بھی نبی کریم نے اپنی جہنمی صحابہ کو صحابیت سے خارج نہیں کیا اور آپ دو دن سے قیاس آرائیاں کررہے ہیں کہ کرکرہ اور مدعم جہنمی ہونے کی وجہ سے صحابیت سے خارج ہوگئے۔ مجھے بتانے کے بجائے آپ سوچیں کہ ابن حجر عسقلانی نے جس کتاب میں شرف صحابیت کے لیے جو اختلافی اصول اپنی ذاتی رائے سے بنایا ہے۔اسی کتاب میں، اسی اصول کے مطابق کرکرہ اور مدعم کو جید صحابی رسول ثابت کررہا ہے۔مگر آپ ہیں کہ اپنی قیاس آرائیوں سے باہر ہی نہیں نکل رہے۔وجہ یہ ہے کہ آپ نے ابن حجر عسقلانی کی ادھوری اور اپنے مطلب کی رائے لے لی باقی ابن حجر عسقلانی نے جو کچھ بیان کیا اسے چھوڑ دیا۔
 اہل سنت کے اصولی علما ءکے نزدیک صحابی کی اصطلاحی تعریف کچھ اور ہے۔اہل سنت کے علما ء حدیث صحابی کی اصطلاحی تعریف کچھ اور بیان کرتے ہیں۔یہ ابن حجر عسقلانی خود بتاچکا ہے، یعنی طے ہے کہ سنیوں کے اصولی علما جسے صحابی مانتے ہیں ، علما حدیث کی نظر میں ضروری نہیں وہ صحابی ہو۔

 

 

 

یہ آگے ابن حجر اپنے مخالف سنی علماء کی بیان کردہ اصطلاحی تعریف کا رد بھی کررہا ہے۔ سنی مناظر کو بھی شرط کے مطابق  میرے ایک ایک دلائل کا اس طرح علمی و تحقیقی رد کرنا تھا۔


  

صفحہ 18 از 50