کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 12 از 50

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا ‘ ان سے امام مالک بن انس نے بیان کیا ‘ ان سے ثور نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن مطیع کے مولیٰ سالم نے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ جب خیبر فتح ہوا تو مال غنیمت میں سونا اور چاندی نہیں ملا تھا بلکہ گائے ‘ اونٹ ‘ سامان اور باغات ملے تھے پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی القریٰ کی طرف لوٹے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مدعم نامی غلام تھا جو بنی ضباب کے ایک صحابی نے آپ کو ہدیہ میں دیا تھا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاوہ اتار رہا تھا کہ کسی نامعلوم سمت سے ایک تیر آ کر ان کے لگا۔ صحابہ نے کہا مبارک ہو: شہادت! لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہرگز نہیں ‘ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو چادر اس نے خیبر میں تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں سے چرائی تھی وہ اس پر آگ کا شعلہ بن کر بھڑک رہی ہے۔ یہ سن کر ایک دوسرے صحابی ایک یا دو تسمے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ میں نے اٹھا لیے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بھی جہنم کا تسمہ بنتا۔
 جی قارئین ملاحظہ فرمائیں اس حدیث کے مطابق مدعم  تو کرکرہ سے بھی افضل و برتر صحابی رسول تھے کیوں کہ وہ نبی کریم ﷺ کے غلام ہونے کے ساتھ غزوہ خیبر میں کفار کے تیر لگنے سے ہلاک ہوئے تھے اور ان کی موت پر صحابہ کرام نے شہادت کی گواہی بھی دی تھی۔
 اب ہم دیکھتے ہیں سنی مذہب متفقہ طور پر مدعم سے متعلق کیا رائے رکھتا ہے؟ چوں کہ ممتاز قریشی کی طرح مجھے ذاتی قیاس آرائیوں اور علماء کی بغیر دلیل کے ذاتی یا اختلافی اقوال پیش کرنے کی عادت نہیں۔اس لیے میں صرف علمی و تحقیقی دلائل ہی قارئین کے سامنے پیش کروں گا گو کہ مذکورہ حدیث میں صحابہ کرام کی گواہی سنی مذہب کے لیے کافی ہونی چاہیے لیکن ممتاز قریشی چوں کہ پورے سنی مذہب کو اپنی ذاتی قیاس آرائیوں سے رد کررہے ہیں لہذا مدلل علمی و تحقیقی دلائل عوام کے سامنے رکھنا ضروری ہوچکا ہے۔  مدعم کے جید صحابی رسول ہونے پر دارالعلوم دیوبند انڈیا کے حوالے سے ایک دلیل اوپر دی جاچکی ہے۔
اس کا براہ راست لنک ملاحظہ فرمائیں 
 لنک

ابی عبداللہ الخطیب مدعم کی صحابیت کی وجہ مولیٰ النبی ہونا بیان کررہے ہیں اور بطورِ دلیل صحیح بخاری کی حدیث پیش کررہے ہیں۔جس سے ثابت ہے کہ سنی مذہب کے مطابق مدعم کا مال غنیمت سے خیانت کرنا اور جہنمی ہونا ، اس کی صحابیت پر کوئی فرق نہیں ڈالتا۔

  مدعم کی صحابیت کے لئے اسد الغابہ سے دلیل اور استدلال
 


 
  یہ اسد الغابہ کا وہی نسخہ ہے جس پر کرکرہ کا حوالہ بھی بھیجا تھا۔قارئین دیکھ سکتے ہیں کہ اہل سنت کے 5 محققین نے اس پر تحقیق کے بعد شائع کرنے کی اجازت دی ہے۔

ابن اثیر نے بھی صحیح بخاری کی حدیث کو دلیل بناکر مدعم کو صحابی  رسول کہا ہے جب کہ مذکورہ 5 محقیقین نے بھی مدعم کی صحابیت پر کوئی اعتراض نقل نہیں کیا۔
  اہل سنت مذہب میں معروف امام الرجال ابن عبدالبر بھی مدعم کو صحابی رسول مانتے تھے اور وجہ انہوں نے بھی مدعم کا غلام ہونا اور غزوہ خیبر میں شریک ہونا بیان کی ہے۔


انہوں نے بھی صحیح بخاری کی حدیث کو مدعم کی صحابیت کی دلیل بناکر پیش کیا ہے لیکن ممتاز قریشی کو لگتا ہے کہ عبدالبر جیسا محدث بھی بخاری کی حدیث سے غلط استدلال کررہا ہے۔
لنک


یہاں براہ راست پڑھ سکتے ہیں کہ جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ یوسف بنوری ٹاؤن والے جید صحابی رسول مدعم کی تعظیم میں کس طرح اس کا نام رکھنے کی تلقین کررہے ہیں۔اسے رضی اللہ عنہم بتارہے ہیں اور دلیل الاصابہ اور اسد الغابہ کو بنارہے ہیں۔یعنی توثیق ہوگئی کہ سنی مذہب کی تحقیق کے مطابق ابن اثیر اور ابن حجر عسقلانی دونوں کا مدعم کو صحابی ماننا درست ہے۔


امام  ذہبی بھی یہاں مدعم کی صحابیت کی توثیق کررہے ہیں۔ ان کی دلیل بھی وہی ہے کہ یہ نبی کریم کا غلام تھا جو خیبر میں دشمنوں کے تیر لگنے سے ہلاک ہوا۔

 اور یہاں ابن حجر عسقلانی بھی مدعم کی صحابیت کی توثیق میں اس کا نبی کریم کا غلام ہونا اور غزوہ خیبر میں تیر لگ کر ہلاک ہونا بیان کررہے ہیں ، البتہ ابن حجر عسقلانی نے یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ بخاری کے علاؤہ یہ حدیث موطا اور صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔
 


 
 اس حوالے سے ہم نے یہ جاننے کے لیے کہ کہیں عصر حاضر کے سنی مفتیوں کی رائے تو کہیں سنی مذہب کے خلاف نہیں ہوگئی اور کیا وہ سنی مذہب کے خلاف کرکرہ و مدعم کو تو صحابیت سے خارج کرنے کی جسارت نہیں کرتے ؟؟؟؟ تو مذکورہ آڈیوز ہمیں موصول ہوئیں۔
آڈیوز (سنی لائبریری ڈاٹ کام پر سنی جاسکتی ہیں)

ان کا مختصر تعارف بھی ملاحظہ فرمائیں۔
مفتی جان محمد مصطفائی ۔فاضل علوم اسلامیہ جامعہ غوثیہ مہریہ گولڑہ شریف
 مفتی جان محمد مصطفائی کا تعلق بریلوی مسلک سے ہے۔انہوں نے فیصلہ سنایا ہے کہ کرکرہ اور مدعم کو صحابیت سے خارج کرنے والا منکر حدیث ہوگا۔ہر صحابی نبی جنتی جنتی کا نعرہ لگانے والوں سے متعلق بھی ان کی رائے تھی کہ یہ عمومی بات ہے ، اگر تخصیص ہوجائے تو صحابی پر دوسرا حکم لگ سکتا ہے جیسا کہ مدعم اور کرکرہ کا معاملہ ہے۔

صفحہ 12 از 50