کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 11 از 50


  اس حوالے سے نہ ہی میرا دعویٰ رد ہورہا ہے اور نہ ہی یہ حوالہ آپ کے جواب دعویٰ کے حق میں ہے بلکہ غور کریں صحابی رسول کرکرہ کو دو دن سے برا بھلا آپ خود کہہ رہے ہیں۔۔۔اگر صحابی رسول کو جہنمی کہنا انہیں برا بھلا کہنے جیسا ہے تو یہ کام خود نبی کریم ﷺ نے متعدد بار کیا ہے، کرکرہ و مدعم کے نام کی صراحت تو ہوچکی ہے۔مزید حوالہ بھی دے دیتا ہوں۔

صحابی رسول ہونے کے لئے اللہ و رسول ﷺ کا راضی ہونا لازمی نہیں ہے! 
حدیث حوض کوثر  سے شیعہ عالم کا عجیب و غریب  استدلال (اسکرین شاٹ)

  اسی صحیح بخاری سے میں نے آپ کو حدیث نبویﷺ پیش کی ہے، جس میں صراحت ہے کہ روز محشر اللہ تعالیٰ جب صحابہ کی ایک پوری جماعت کو جہنم واصل کرے گا تو نبی کریم ﷺ کو بھی حیرانی ہوگی۔*نبی کریم ﷺ کو کیوں حیرانی ہوگی ان کے صحابہ کے جہنم واصل ہونے پر؟؟
* باقی صحابی رسول ہونے کے لیے اللہ و رسول کے راضی ہونے کا قیاس بھی حدیث نبویﷺ سے رد ہوگیا ہے۔

کرکرہ کا جید صحابی رسول ہونا اوپر دلیل سے ثابت کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی غلامی اور غزوہ میں شرکت کی فضیلتیں کرکرہ و مدعم کے سوا اور کتنے صحابہ کو ملیں؟؟ یہ بات اب سنی مذہب سے بتانا آپ پر قرض ہوچکا ہے۔
 چلیں آپ نے متفقہ شرائط توڑ کر قیاس آرائیاں کرنے کا اعتراف تو کیا۔ سنیوں کا عقیدہ صحابہ کیا سنی مذہب کو معلوم نہیں؟؟ پورا سنی مذہب جانتا ہے کرکرہ جہنمی ہے پھر بھی اسے صحابی رسول اور رضی اللہ مان رہا ہے، لیکن آپ وہی طوطے کی طرح رٹ لگارہے ہیں کہ وہ جہنمی ہے ۔

شرف صحابیت کے لئے خاتمہ بالخیر ایک ڈھونگ ہے، خلاف قرآن و حدیث ہے! (شیعہ عالم)

 قیامت تک کا چیلنج آپ کو ہے کہ سنی مذہب کی رائے یہاں لگائیں کہ کرکرہ صحابی رسول نہیں ہے۔ پورا سنی مذہب کرکرہ کے جید صحابی رسول ہونے پر متفق ہے، کسی نے اختلاف تک نہیں کیا ہے ۔ باقی خاتمہ بالخیر کا ڈھونگ خود قرآن و حدیث کے خلاف ہے اوپر صحیح بخاری کی حدیث سے ثابت کرچکا ہوں۔
گوکہ یہ شرائط اور موضوع سے ہٹ کر آپ کی قیاس آرائی ہے پھر بھی چلیں آپ کو یہ موقع بھی دیتا ہوں۔چیلنج ہے آپ کو، 
قرآن کی آیت یا  حدیث نبویﷺ  میں صراحت پیش کریں کہ صحابی رسول  ہونے کے لیے خاتمہ بالخیر شرط ہے۔

 یہ دیکھیں کہ جب سنی مذہب میں متفقہ طور پر کرکرہ و مدعم جیسے جید اصحاب رسول جہنمی ہیں وہ بھی حدیث نبوی ﷺ کے مطابق تو باقی صحابہ کا تو اللہ ہی حافظ ہے لیکن یہ دیکھنے کے لیے آپ کو سنی مذہب بالخصوص قرآن و حدیث کے بعد سنی علم الرجال کو ابتداء سے پڑھنے کی ضرورت ہوگی۔ فی الوقت تو آپ سنی علم الرجال سے ایسے ہی جاہل ہیں جیسے نومولود بچے میٹرک کی کتابوں سے جاہل ہوتے ہیں۔


   سنی مذہب کے متفقہ الفاظ دکھائے ہیں کہ کرکرہ کو شرف صحابیت حاصل ہے ! 
(شیعہ عالم کی کذب بیانی   کا اسکرین شاٹ)
 یہ آپ کی ذاتی قیاس آرائی ہے کہ  کرکرہ کو شرف صحابیت حاصل نہیں تھا۔ 
یہ الفاظ صحیح بخاری تو دور کسی عالم الرجال نے بھی لکھنے کی جسارت نہیں کی۔ آپ کو چیلنج ہے یہ الفاظ متقدمین سے متاخرین تک کسی بھی ایک سنی عالم سے دکھائیں کیوں کہ 
میں نے سنی مذہب کے متفقہ الفاظ دکھائے ہیں کہ  *کرکرہ کو شرف صحابیت حاصل ہے*

ایک شاذ قول ابن مندہ کا پیش کر کے اسے متفقہ سُنی مذہب کا قول کہنا صریح جہالت ہے۔  سُنی و شیعہ کا متفقہ اصول ہے کہ اقوال علماء صحیح حدیث نبوی ﷺ کو رد نہیں کرسکتے۔
شیعہ عالم کی دوسری دلیل اور استدلال
مدعم سنی مذہب میں جید صحابی رسول ہے۔

 اب ہم آتے ہیں ایک اور جید صحابی رسول مدعم پر اور دیکھتے ہیں سنی مذہب میں اس کا کیا مقام ہے۔

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
صحيح البخاري، كِتَاب الْمَغَازِي

کتاب: غزوات کے بیان میں،39بَابُ غَزْوَةُ خَيْبَرَ:حدیث نمبر: 4234

حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا ابو إسحاق، عن مالك بن انس، قال: حدثني ثور، قال: حدثني سالم مولى ابن مطيع، انه سمع ابا هريرة رضي الله عنه، يقول: افتتحنا خيبر ولم نغنم ذهبا ولا فضة، إنما غنمنا البقر والإبل والمتاع والحوائط، ثم انصرفنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى وادي القرى ومعه عبد له يقال له: مدعم اهداه له احد بني الضباب، فبينما هو يحط رحل رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ جاءه سهم عائر حتى اصاب ذلك العبد، فقال الناس: هنيئا له الشهادة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" بلى، والذي نفسي بيده إن الشملة التي اصابها يوم خيبر من المغانم لم تصبها المقاسم لتشتعل عليه نارا"، فجاء رجل حين سمع ذلك من النبي صلى الله عليه وسلم بشراك او بشراكين فقال: هذا شيء كنت اصبته، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" شراك او شراكان من نار".

صفحہ 11 از 50