مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن مجید کی روشنی میں - دفاعِ…

مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن مجید کی روشنی میں

  امام اہلسنت علامہ عبد الشکور لکھنوی رحمۃ اللہ

صفحہ 7 از 7

ازواجِ مطہراتؓ کو ان آیتوں میں توبہ کا حکم دیا گیا، یوں تو ہر توبہ کے قبول فرمانے کا وعدہ ہے مگر جس کو خصوصیت کے ساتھ توبہ کا حکم دیا جائے اس کی توبہ کے قبول ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں ہو سکتا، لہٰذا تائبین کے جو فضائل قرآن مجید میں ہیں ان کے لیے ثابت ہو گئے، اب رہی یہ بات کہ یہ کیسے معلوم ہوا کہ انہوں نے توبہ کی یا نہیں؟ اس کا ثبوت بھی قرآن مجید ہی سے ہوتا ہے، کیونکہ اس کے بعد ازواجِ مطہراتؓ کی سخت آزمائش کی گئی ایک طرف ان کو غیر محدود متاع دنیا کا وعدہ دیا گیا اور دوسری طرف رسولِﷺ کی زوجیت رکھی گئی ہے، جب اس امتحان میں وہ کامل اُتریں اور اس غیر محدود متاع کو اُنہوں نے ٹھکرا کر رسول اللہﷺ کی زوجیت کو اختیار کیا تو پھر ان کی شان میں آیتِ تطہیر نازل ہوئی، ان کو تمام ایمان والوں کی ماں کا خطاب دیا گیا اور ان کو تمام جہان کی عورتوں سے افضل فرمایا گیا اور رسولﷺ کی دائمی زوجیت کی خبر ان کو دی گئی، اس طرح کہ رسول اللہﷺ کو انکے طلاق دینے سے ممنوع کر دیا گیا، یہ سب مضامین آیت قرآنی میں مذکور ہیں ( دیکھیے تفسیر آیت تطہیر ) اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر انہوں نے توبہ نہ کر لی ہوتی تو یہ فضائل ان کے ہر گز نہ بیان فرمائے جاتے۔

چشم بداندیش کہ بر کنده باد

عیب نماید ہنرش در نظر

 ایک لطیفہ:

قرآن مجید میں علاوہ تصریحات کے لطیف اشارات میں بھی صحبت نبویﷺ کے اثرات کو بیان فرمایا گیا ہے، چنانچہ ایک لطیفہ ان لطائف میں سے ہدیہ ناظرین ہے، سورۃ نمل میں بذیل قصہ حضرت سلیمان علیہ السلام ارشاد ہوا ہے: 

 قَالَتۡ نَمۡلَةٌ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ‌ لَايَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَايَشۡعُرُوۡنَ‏( سورۃ النمل: آیت 18)

یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کی فوج چیونٹیوں کے جنگل میں داخل ہوئی تو ایک چیونٹی دوسری سے کہنے لگی کہ دیکھو تم سب اپنے اپنے سوراخوں میں داخل ہو جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کی فوج کے لوگ نادانستگی میں تم کو کچل ڈالیں۔

امام فخر الدین رازیؒ تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں کہ اس آیت میں حق تعالیٰ نے نبی کی صحبت کا اثر بتایا ہے کہ چیونٹی بھی یہ جانتی تھی کہ سلیمان کے لشکر کے لوگ دیدہ و دانستہ ایک چیونٹی کو بھی نہ کچلیں گے، ہاں نادانستگی میں چیونٹی ان کے پاؤں کے نیچے کچل جائے تو ہوسکتا ہے، لشکری اور فوجی لوگ عموماً بے رحم اور سفاک ہوتے ہیں مگر حضرت سلیمان علیہ السلام کی صحبت نے ان میں بھی یہ بات پیدا کر دی ہے کہ اگر چیونٹی بھی ان کے پاؤں کے نیچے کچل جائے تو لَا يَشۡعُرُوۡنَ‏ کی حالت میں، دیدہ و دانستہ وہ ایسا نہیں کر سکتے۔

امام ممدوح فرماتے ہیں کہ جو لوگ ہمارے نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرامؓ کو ظالم کہتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے نبی کی بیٹی پر ظلم کیا اور ظلم بھی ایسا کہ جس کی نظیر دنیا میں کم ہو گی یعنی ان کو مارا پیٹا حمل گرا دیا وغیرہ وغیرہ، در حقیقت وہ ایک چیونٹی سے بھی عقل میں کمتر ہیں، مورچہ سلیمان بھی اصحابِ نبی کا اس قدر ادب کرتی ہے کہ ایک چیونٹی کے کچل جانے کو بھی ان کے طرف منسوب کرتی ہے تو لَا يَشۡعُرُوۡنَ‏ کی قید لگاتی ہے اور یہ لوگ اس قسم کے سنگین مظالم کو صحابہ کرامؓ کی طرف منسوب کرتے ہوئے ذرا باک نہیں کرتے، وَسَيَـعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَىَّ مُنۡقَلَبٍ يَّـنۡقَلِبُوۡنَ (سورۃ الشعراء: آیت 227)

ترجمہ: اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب پتہ چل جائے گا کہ وہ کس انجام کی طرف پلٹ رہے ہیں۔  

رسولﷺ کے صحابہ کرامؓ حتیٰ کہ آپ کی ازواجِ مطہراتؓ کی اس قدر عیب جوئی و بدگوئی صاف بتا رہی ہے کہ مذہب شیعہ کو جو کچھ عداوت ہے وہ رسولﷺ سے ہے ورنہ ہم دیکھتے ہیں کہ شیعہ اپنے خانہ ساز ائمہ اور ان کے گھر والوں کے ساتھ وہ برتاؤ نہیں کرتے، اصحاب ائمہ میں باہم لڑائیاں بھی ہوئی ہیں، ایک نے دوسرے سے ترکِ کلام بھی کر دیا ہے، مگر دونوں فریق کو شیعہ مانتے ہیں، دونوں کی تعظیم و تکریم کرتے ہیں، اصحابِ رسولﷺ پر تو معائب کا افتراء کرتے ہیں اور اصحابِ ائمہ کے واقعی معائب پر بھی پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، اصحابِ رسولﷺ و ازواجِ مطہراتؓ کے جو جو فضائل قرآن مجید میں وارد ہوئے ہیں ان کی کوئی تاویل شیعوں سے نہیں ہو سکتی اسی لیے انہوں نے قرآن مجید کو محرف کہا، معما قرار دیا اور خدا کے لیے بدا تجویز کیا، یہ سب کچھ ہوا مگر کوئی بات ان کی عقل سلیم کے نزدیک قابل قبول نہ ہوئی۔


صفحہ 7 از 7