مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن مجید کی روشنی میں - دفاعِ…

مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن مجید کی روشنی میں

  امام اہلسنت علامہ عبد الشکور لکھنوی رحمۃ اللہ

صفحہ 6 از 7

عن عائشة في قوله واذ اسر النبي الى بعض ازواجه حديثا قال اسر اليها ان ابابكر خليفتي من بعدى وعن على وابن عباس قالا والله ان امارة ابي بكر وعمر لفى الكتاب واذاسر النبى الى بعض ازواجه حديثا قال الحفصة ابوك وابو عائشة واليا الناس بعدى فاياك ان تخبری به احدا و عن ميمون بن مهران في قوله واذاسر النبى الى بعض ازواجه حديثا قال اسراليها ان ابابكر خليفتي من بعدى وعن حبيب بن ابی ثابت واذ اسر النبي الى بعض ازواجه حديثا، قال اخبر عائشة ان اباها الخليفة من بعد ابيها و عن الضحاك في قوله واذ اسر النبى الى بعض ازواجه حديثا قال اسر الى حفصة بنت عمر ان الخليفة من بعده ابوبكر ومن بعد ابي بكر عمر وعن مجاهد في قوله عرف بعضه واعرض عن بعض قال الذى عرف امر مارية واعرض عن قوله ان اباك واباهايليان الناس من بعدى مخافة ان يفشو

سیدہ عائشہؓ سے وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ کی تفسیر میں منقول ہے کہ وہ راز یہ تھا کہ رسولﷺ نے فرمایا تھا کہ ابوبکر میرے بعد میرے خلیفہ ہوں گے، اور علی اور ابنِ عباس سے روایت ہے کہ وہ دونوں کہتے تھے اللہ کی قسم ابوبکرؓ و عمرؓ کی خلافت قرآن میں مذکور ہے وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ رسولﷺ نے سیدہ حفصہؓ سے فرمایا کہ تمہارے والد اور سیدہ عائشہؓ کے والد میرے بعد لوگوں کے والی ہوں گے، خبردار اس کو کسی سے بیان نہ کرنا۔

اور میمون بن مہران سے وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ کی تفسیر میں منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ ابوبکر میرے بعد خلیفہ ہوں گے، اور حبیب بن ابی ثابت سے وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ کی تفسیر میں منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے سیدہ عائشہ کو خبر دی تھی کہ تمہارے والد میرے بعد خلیفہ ہوں گے اور ان کے بعد حفصہ کے والد اور ضحاک سے وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ کی تفسیر میں منقول ہے کہ آنحضرتﷺ نے حضرت حفصہ بنت عمرؓ سے فرمایا کہ میرے بعد ابوبکرؓ خلیفہ ہوں گے اور بعد ابوبکر کے عمر، اور مجاہد سے عرف بعضه و اعرض عن بعض کی تفسیر میں منقول ہے کہ جس بات پر آپﷺ نے باز پرس کی وہ ماریہ قبطیہؓ کا معاملہ تھا اور جس بات سے آپﷺ نے چشم پوشی کی وہ یہ تھی کہ اے حفصہ تمہارے والد اور عائشہ کے والد میرے بعد لوگوں کے والی ہوں گے یہ چشم پوشی اس لیے کی کہ بات زیادہ مشہور نہ ہو۔

اور کتب شیعہ میں اُن کی سب سے زیادہ معتبر تفسیر قمی مطبوعہ ایران: صفحہ354 میں ہے کہ رسولﷺ نے حفصہ سے کہا:

ان ابابکر يلى الخلافة بعدى ثم من بعده ابوك فقالت من اخبرک بھٰذا قال اللہ اخبرنی

ترجمہ: بہ تحقیق ابوبکر والی خلافت ہوں گے میرے بعد، پھر ان کے بعد تمہارے والد، سیدہ حفصہ نے پوچھا کہ آپ کو یہ خبر کس نے دی تو آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے یہ خبر دی ہے۔

( حاشیہ: مقبول احمد نے اپنے ترجمہ قرآن صفحہ، 894 میں اس روایت کو نقل کیا ہے مگر ترجمہ میں بڑی خیانت کی ہے لکھتا ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا میرے بعد ابوبکر خلیفہ بن بیٹھے گا لفظ یلی کا ترجمہ بن بیٹھے گا کتنی بڑی جرأت ہے، اللہ اکبر)

اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرات شیخینؓ کی خلافت کی خبر رسولﷺ پہلے ہی سے دے گئے تھے، اور یہ خبر آپ نے اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے سنائی تھی اور یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی نا جائز چیز کی خبر سنا کر آپ اپنی بیوی کو خوش کریں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جب مشیت الٰہی کا حال معلوم ہو چکا اور خدا آپﷺ کو خبر دے چکا کہ آپﷺ کے بعد شیخینؓ خلیفہ ہوں گے تو یہ ممکن نہیں کہ آپﷺ نے حضرت علیؓ کی خلافت کے متعلق کوئی ارشاد فرمایا ہو، جس قدر روایتیں کتب شیعہ میں اس کے متعلق ہیں ان سب کا جعلی ہونا اس سے ظاہر ہے۔

فائدہ: ان آیتوں میں حق تعالیٰ نے ازواجِ مطہراتؓ کو نصیحت فرمائی ہے اور تعلیمی طرز میں ان پر عتاب کیا ہے اور توبہ کا حکم دیا ہے، شیعہ اس پر بہت خوش ہوتے ہیں اور سیدہ حفصہؓ اور سیدہ عائشہؓ کی برائی ثابت کرنے کے لیے اسی آیت کو پیش کر دیا کرتے ہیں، اس کے جواب میں پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر اس قسم کی تعلیمی باتوں سے طعن قائم ہو سکے تو پھر اسی قرآن مجید سے نبیوں کی مذمت بھی ثابت ہو سکے گی، خصوصاً سید الانبیاءﷺ کی جن کے متعلق اس سورۃ میں فرمایا کہ:لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَۚ-تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ( سورۃ التحریم: آیت 1)

ترجمہ: یعنی اے نبیﷺ آپ حلال چیز کو کیوں حرام کرتے ہیں، آپ اپنی بیویوں کی رضامندی چاہتے ہیں، اور ایک دوسری جگہ فرمایا کہ: وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ( سورۃ الاحزاب: آیت 37)

ترجمہ: اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے، حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ 

دوسری بات یہ ہے کہ شیعہ جس لفظ پر زیادہ کودتے ہیں یعنی فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا خدا کی قدرت یہ ہے کہ اس لفظ سے ازواجِ مطہراتؓ کی منقبت بھی ثابت ہوتی ہے، اس لفظ سے صاف ظاہر ہے کہ اس افشائے راز کی وجہ سے ان کے دل مائل ہو گئے، اس سے پہلے مائل نہ تھے، حالانکہ حسب عقائد شیعہ وہ پہلے ہی سے منافق تھے اور ان کے دل پہلے ہی سے بوجہ نفاق کے مائل تھے، معاذ اللہ من ذالک اس لفظ سے ان کے نفاق کی نفی ایسی واضح ہے کہ اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا، رہا دل کا مائل ہو جانا وہ کوئی ایسی بڑی چیز نہیں ہے، خود رسولﷺ کے متعلق قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ: وَلَوۡلَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰكَ لَقَدۡ كِدْتَّ تَرۡكَنُ اِلَيۡهِمۡ شَيۡـئًـا قَلِيۡلًا (سورۃ الاسراء: آیت 74)

ترجمہ: اور اگر ہم نے تمہیں ثابت قدم نہ بنایا ہوتا تو تم بھی ان کی طرف کچھ کچھ جھکنے کے قریب جا پہنچتے۔

صفحہ 6 از 7