مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن مجید کی روشنی میں - دفاعِ…

مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن مجید کی روشنی میں

  امام اہلسنت علامہ عبد الشکور لکھنوی رحمۃ اللہ

صفحہ 5 از 7

ترجمہ: (اے پیغبر! جنگ احد کا وہ وقت یاد کرو) جب تم صبح کے وقت اپنے گھر سے نکل کر مسلمانوں کو جنگ کے ٹھکانوں پر جما رہے تھے، اور اللہ سب کچھ سننے جاننے والا ہے،جب تم ہی کے دو گروہوں نے یہ سوچا تھا کہ وہ ہمت ہار بیٹھیں، حالانکہ اللہ ان کا حامی و ناصر تھا، اور مؤمنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

فائدہ: اس آیت میں احد کی لڑائی کا بیان ہے، ارشاد فرمایا کہ تم میں سے دو گروہوں نے ہمت ہاری تھی اور اللہ ان دونوں کا ولی تھا، معلوم ہوا کہ رسولﷺ کے زمانے میں مؤمنین کی بہت بڑی جماعت تھی اور اس جماعت کے دو گروہوں نے ہمت ہار دی تھی، ان ہمت ہارنے والوں کا بھی اللہ ولی تھا، ہمت نہ ہارنے والوں کا بدرجہ اولیٰ اور یہ بات قرآن مجید کی دوسری آیات سے ثابت ہے کہ اللہ ایمان والوں کا ہی ولی ہوتا ہے، اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا، اب خیال کرو مذہبِ شیعہ کی تعلیم کہ اس زمانہ میں صرف چار پانچ مؤمن تھے اس آیت سے غلط ہو گئی یا نہیں، اور مذہب شیعہ کا قلع قمع ہو گیا یا نہیں؟ 

نویں آیت:

كَمَاۤ اَخۡرَجَكَ رَبُّكَ مِنۡۢ بَيۡتِكَ بِالۡحَـقِّ وَاِنَّ فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ لَـكٰرِهُوۡنَ ( سورۃ الانفال: آیت 5)

ترجمہ: (مال غنیمت کی تقسیم کا) یہ معاملہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے تمہارے رب نے تمہیں اپنے گھر سے حق کی خاطر نکالا، جبکہ مسلمانوں کے ایک گروہ کو یہ بات ناپسند تھی۔

فائدہ: اس آیت میں غزوہ بدر کا بیان ہے کہ ایمان والوں میں ایک گروہ اس سفر کو نا پسند کرتا تھا، معلوم ہوا کہ اس وقت بھی ایمان والوں کی بڑی تعداد تھی جن میں سے کچھ لوگ اس سفر کے خلاف تھے، حالانکہ مذہب شیعہ کی رو سے اس وقت چار پانچ مؤمن بھی نہ تھے، کیونکہ سلمان فارسی بھی اس وقت تک مشرف با اسلام نہ ہوئے تھے، شیعوں نے اپنی کتابوں میں یہ بھی لکھ دیا کہ جن لوگوں کو اس آیت میں سفر کا مخالف ظاہر کیا گیا ہے وہ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ تھے۔

(حیات القلوب: جلد 2،صفحہ229) میں ہے"کہ موافق روایات سابق معلوم است که ایں کنایات با ابوبکر و عمر است که کاره بودند جہاد را" مگر اتنا نہ سمجھے کہ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کو کارہین میں داخل کرنے سے ان کا مؤمن ہونا بھی ثابت ہو جائے گا، کیونکہ خدا نے کارہین کو فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ فرمایا ہے۔

 دسویں آیت:

وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ فَلَمَّا نَـبَّاَتۡ بِهٖ وَاَظۡهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيۡهِ عَرَّفَ بَعۡضَهٗ وَاَعۡرَضَ عَنۡۢ بَعۡضٍ‌ فَلَمَّا نَـبَّاَهَا بِهٖ قَالَتۡ مَنۡ اَنۡۢبَاَكَ هٰذَا‌ قَالَ نَـبَّاَنِىَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِیْرُ‏ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا‌

(سورۃ التحریم: آیت 3،4)

ترجمہ: اور یاد کرو جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے راز کے طور پر ایک بات کہی تھی، پھر جب اس بیوی نے وہ بات کسی اور کو بتلا دی، اور اللہ نے یہ بات نبی پر ظاہر کردی تو اس نے اس کا کچھ حصہ جتلا دیا اور کچھ حصے کو ٹال گئے، پھر جب انہوں نے اس بیوی کو وہ بات جتلائی تو وہ کہنے لگیں کہ آپ کو یہ بات کس نے بتائی؟ نبی نے کہا کہ مجھے اس نے بتائی جو بڑے علم والا، بہت باخبر ہے، (اے نبی کی بیویو) اگر تم اللہ کے حضور توبہ کر لو (تو یہی مناسب ہے) کیونکہ تم دونوں کے دل مائل ہوگئے ہیں۔

فائدہ: ان آیتوں میں حق تعالیٰ نے ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس کا تذکرہ روایات میں ہے، 9ھ کا واقعہ ہے کہ رسولﷺ نے سیدہ حفصہؓ سے کوئی راز بیان فرمایا اور انہوں نے وہ راز سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہہ دیا اور بذریعہ وحی آنحضرتﷺ کو افشائے راز کی خبر دی گئی اور آپﷺ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے اس کی باز پرس کی، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، وہ راز کی بات کیا تھی اس کے متعلق روایات مختلف ہیں، ایک روایت یہ ہے کہ مغافیر ایک قسم کا شہد ہوتا ہے رسول اللہﷺ اس کا استعمال فرمایا کرتے تھے اور آپﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ کو پسند نہ تھا، سیدہ حفصہؓ سے آپ نے فرمایا کہ اب میں اس شہد کا کبھی استعمال نہ کروں گا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ سیدہ حفصہؓ کے مکان میں آنحضرتﷺ نے سیدہ ماریہ قبطیہؓ سے خلوت فرمائی یہ امر سیدہ حفصہؓ کو ناگوار گزرا تو آپﷺ نے ان سے فرمایا کہ اچھا اب میں ماریہ کو اپنے اوپر حرام کیے لیتا ہوں اور ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ نے سیدہ حفصہؓ سے یہ بیان کیا تھا کہ میرے بعد ابوبکر خلیفہ ہوں گے اور ان کے بعد عمر بن خطاب، ان تینوں روایات میں کوئی تعارض نہیں ہے ممکن ہے کہ یہ تینوں باتیں ایک ساتھ پیش آئی ہوں، یہ روایت حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کے خلافت کی سنی و شیعہ دونوں کی کتابوں میں متعدد سندوں سے منقول ہے، چنانچہ کتب اہلِ سنت کے چند حوالے حسب ذیل ہیں،ازالۃ الخفا مقصد اول صفحہ 30 میں ہے:

عن ابن عباس قال والله ان امارة ابي بكر وعمر لفى كتاب اللہ قال اللہ تعالىٰ واذ اسر النبي الىٰ بعض ازواجه حديثا قال لحفصة ابوك وابو عائشة اولياء الناس بعدی فاياك ان تخبری به احدا اخرجه الواحدى وله طرق ذكر بعضها في الرياض النظرة 

ترجمہ: ابنِ عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے تھے کہ خدا کی قسم ابوبکرؓ و عمرؓ کی خلافت کا ذکر اللہ کی کتاب میں ہے، دیکھو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَاِذ٘ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ فَلَمَّا وہ بات یہ تھی کہ آپﷺ نے سیدہ حفصہؓ سے یہ فرمایا کہ تمہارے والد اور عائشہ کے والد میرے بعد خلیفہ ہوں گے، خبر دار! اس کو کسی سے بیان نہ کرنا، اس حدیث کی تخریج واحدی نے کی ہے، اس کی سندیں متعدد ہیں جن میں بعض ریاض النظرۃ میں مذکور ہیں۔

پھر اسی کتاب کے صفحہ،249 میں ہے:

صفحہ 5 از 7