مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن مجید کی روشنی میں - دفاعِ…

مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن مجید کی روشنی میں

  امام اہلسنت علامہ عبد الشکور لکھنوی رحمۃ اللہ

صفحہ 4 از 7

اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡـكِتٰبَ وَالۡحُكۡمَ وَالنُّبُوَّةَ‌ فَاِنۡ يَّكۡفُرۡ بِهَا هٰٓؤُلَۤاءِ فَقَدۡ وَكَّلۡنَا بِهَا قَوۡمًا لَّيۡسُوۡا بِهَا بِكٰفِرِيۡنَ (سورۃ الانعام: آیت 89)

ترجمہ: وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب، حکمت اور نبوت عطا کی تھی، اب اگر یہ (عرب کے) لوگ اس (نبوت) کا انکار کریں تو (کچھ پرواہ نہ کرو، کیونکہ) اس کے ماننے کے لیے ہم نے ایسے لوگ مقرر کر دیئے ہیں جو اس کے منکر نہیں۔

فائدہ: اس آیت میں ایک قوم کی خدا نے تعریف کی ہے اور اپنا مقرر کیا ہوا ان کو فرمایا ہے اور فرمایا کہ وہ قوم انبیاء کی نبوت کا کفر کرنے والی نہیں ہے، اب رہی یہ بات کہ مراد اس قوم سے کون لوگ ہیں یہ بالکل ظاہر ہے اس لیے کہ یہ سورۃ الانعام مکی ہے، قبل ہجرت نازل ہوئی ہے، معلوم ہوا کہ لفظ قوم سے مراد مہاجرین کی جماعت ہے جو قبل ہجرت ایمان لا چکے تھے اور ہو سکتا ہے کہ انصار بھی مراد لیے جائیں کیونکہ وہ بھی ہجرت سے پہلے ہی مشرف باسلام ہو چکے تھے، حق تعالیٰ نے مہاجرین و انصار کو اپنا مقرر کیا ہوا اس لیے فرمایا کہ اس سعادت عظمیٰ کی توفیق ان کو خدا ہی کی طرف سے ملی تھی۔

پانچویں آیت:

اِنَّ رَبَّكَ يَعۡلَمُ اَنَّكَ تَقُوۡمُ اَدۡنىٰ مِنۡ ثُلُثَىِ الَّيۡلِ وَ نِصۡفَهٗ وَثُلُثَهٗ وَطَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِيۡنَ مَعَكَ‌(سورۃ المزمل: آیت 20)

ترجمہ: (اے پیغمبر) تمہارا پروردگار جانتا ہے کہ تم دو تہائی رات کے قریب، اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات (تہجد کی نماز کے لیے) کھڑے ہوتے ہو، اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک جماعت (ایسا ہی کرتی ہے)  

فائدہ: حق تعالیٰ نے اس آیت میں آنحضرتﷺ کی کثرت عبادت کا ذکر فرمایا ہے اور آپﷺ کے ساتھ والوں میں دو چار نہیں بلکہ ایک مکمل گروہ کو اس صفت میں شامل کیا ہے سورۃ المزمل مکی ہے لہٰذا معلوم ہوا اس میں اصحابِ مہاجرین کی تعریف بیان ہو رہی ہے حالانکہ از روئے مذہب شیعہ مہاجرین میں سوائے حضرت علیؓ کے کوئی لائق نہ تھا، روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ زہد اور کثرتِ عبادت کی صفت حضرت ابوبکر صدیقؓ میں زیادہ تھی خدا کی قدرت ہے کہ کتب شیعہ میں بھی یہ اقرار موجود ہے، فروع کافی:جلد2، صفحہ،4 میں ایک طولانی حدیث اس مضمون کی ہے کہ کچھ صوفی لوگ سیدنا جعفر صادقؒ کے پاس آئے امام ممدوح نے ان کو کچھ نصیحتیں کیں، اسی سلسلے میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ،حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور فرمایا "من از هد من هٰولاء وقد قال فيهم رسول الله ما قال" 

ترجمہ: یعنی ان لوگوں سے بڑھ کر زاہد کون ہو سکتا ہو ہے اور بہ تحقیق رسول اللہﷺ نے ان کےحق میں فرمایاہے، جو کچھ فرمایا ہے۔

حق تعالیٰ نے صحابہ کرامؓ کی کثرت عبادت کا ذکر متعدد آیات میں فرمایا ہے: آیت معیت میں تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا فرمایا آیت میراث ارض میں قوم عابدین فرمایا آیت کے استخلاف میں یَعْبُدُوْنَنِیْ فرمایا آیتِ تمکین میں وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ فرمایا وغیرہ۔

 چھٹی آیت:

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ‌ۘ فِىۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ بِاَيۡدِىۡ سَفَرَةٍ كِرَامٍۢ بَرَرَةٍ

( سورۃ عبس: آیت 11تا16)

ترجمہ: بہ تحقیق یہ ایک نصیحت ہے جو چاہے اس کو یاد کرے ان با عزت صحیفوں میں جو بلند مرتبہ اور پاکیزہ ہیں اور بزرگ نیکو کار لکھنے والوں کے ہاتھ میں رہتے ہیں۔

فائدہ: اس آیت میں رسولﷺ کے صحابہ کرامؓ کی تعریف ہے، ان کو بزرگ اور نیکو کار فرمایا گیا ہے، یہ ان صحابہ کرامؓ کی بابت ہے جو قرآن مجید کی کتابت کرتے تھے جیسے حضرت عثمانؓ، حضرت زید بن ثابتؓ، اس آیت کی تفسیر میں سَفَرَةٍ كِرَامٍۢ بَرَرَةٍ سے فرشتوں کو مراد لینا سیاقِ قرآن کے مطابق نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ نصیحت ان پاکیزہ ورقوں میں ملے گی جو بزرگ نیکوکار لوگوں کے ہاتھ میں ہیں، فرشتوں کے ہاتھ میں جو چیز ہے وہ انسانوں کی نظر سے غائب ہے، اس سے نصیحت کیوں کر حاصل کی جا سکتی ہے۔

 ساتویں آیت:

وَرَاَيۡتَ النَّاسَ يَدۡخُلُوۡنَ فِىۡ دِيۡنِ اللّٰهِ اَفۡوَاجًا ( سورۃ النصر: آیت 2)

ترجمہ: اور تم لوگوں کو دیکھ لو کہ وہ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔

فائدہ: اس سورۃ میں حق تعالیٰ نے اپنے دو انعام ذکر فرمائے ہیں، اول: فتح مکہ، دوم: لوگوں کا بکثرت دینِ الٰہی میں داخل ہونا، پھر ان انعامات پر آنحضرتﷺ کو شکر ادا کرنے کا حکم دیا ہے، ظاہر ہے کہ مذہب شیعہ کی بنا پر کسی طرح یہ آیت صادق نہیں ہو سکتی کیونکہ آیت بتا رہی ہے کہ فوجوں کی فوجیں دینِ الٰہی میں داخل ہوئیں اور مذہب شیعہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ صرف معدودے چند صدق دل سے مسلمان ہوئے تھے باقی سب منافقانہ طور اسلام کا اظہار کرتے تھے اور بعد آنحضرتﷺ کے مرتد ہو گئے تھے (معاذ اللہ منہ ) بھلا کوئی کہہ سکتا ہے کہ معدودے چند لوگوں کو افواج کی لفظ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے یا منافقانہ طور پر اظہار اسلام کرنے کو دین الٰہی میں داخل ہونا کہا جاسکتا ہے اور پھر یہ منافقانہ اسلام اور وہ بھی چند روز کے لیے انعام الٰہی میں شمار ہو سکتا ہے، حاشاثم حاشا

 آٹھویں آیت:

قرآن مجید میں کہیں کہیں صحابہ کرامؓ پر تعلیمی طرز میں کچھ عتاب کیا گیا ہے ہوتا رہا ہے بالکل اسی رنگ میں جیسا کہ انبیاء سابقین علیہم السلام کے متعلق بھی ہے مگر ان عتاب کی آیتوں میں بھی صحابہ کرامؓ کی فضیلت ایسی ہے کہ مذہب شیعہ کے قلع قمع کرنے کے لیے کافی ہے، چنانچہ دو ایک آیتیں اس قسم کی بھی ملاحظہ ہوں:

وَاِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَهۡلِكَ تُبَوِّئُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِ‌ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ،اِذۡ هَمَّتۡ طَّآئِفَتٰنِ مِنۡكُمۡ اَنۡ تَفۡشَلَا وَاللّٰهُ وَلِيُّهُمَا‌ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ( سورۃ آل عمران: آیت 121،122)

صفحہ 4 از 7