مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن مجید کی روشنی میں - دفاعِ…

مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن مجید کی روشنی میں

  امام اہلسنت علامہ عبد الشکور لکھنوی رحمۃ اللہ

صفحہ 3 از 7

تینوں خلفاء راشدین رضوان اللہ علیھم اجمعین کو مؤمن کامل اور خلیفہ برحق نہ ماننے سے شیعوں کو یہ دو صریح مخالفتیں قرآن کی کرنی پڑیں لیکن وہ مخالفت قرآن کی کچھ پروا نہیں کرتے خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ، کوئی شیعہ خدا کے لیے بتادے کہ وہ کون لوگ تھے جن میں باہم عداوت تھی اور ایسی عداوت کہ کسی طرح زائل نہ ہو سکتی تھی اور خدا نے ان کی عداوت کو دور کر کے ان کو بھائی بھائی بنا دیا، یقیناً قیامت تک کوئی شیعہ اپنے مذہب کی رو سے اس کو نہیں بتا سکتا، اگر شیعہ کہیں کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں بے شک ان کی عداوتیں زائل ہوگئی تھیں اور وہ باہم ایک دوسرے کے دوست بن گئے تھے لیکن آپﷺ کی وفات کے بعد ان میں وہ عداوتیں پھر عود کر آئیں، لہٰذا آیت کا مضمون سچا ہے اور مذہب شیعہ کی تعلیم اس کے خلاف نہیں۔ تو جواب اس کا یہ ہے کہ: اول تو یہ بات مسلمات مذہب شیعہ کے خلاف ہے کیونکہ شیعہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو اول روز سے مؤمن نہیں مانتے، کہتے ہیں کہ منافقانہ ایمان لائے تھے، دوسرے یہ کہ جو نعمت اس قدر قلیل مدت کے لیے ان کو ملی تھی اور پھر ان سے لے لی گئی اس کا احسان رکھنا خداوند عالم الغیب کی شان سے بعید اور بہت بعید ہے۔

غیر مشترک مضمون یہ ہے کہ: پہلی آیت میں ارشاد ہوا کہ اسے اصحاب نبیﷺ تم دوزخ کے گڑھے کے کنارے پر تھے خدا نے تم کو اس سے نجات دی اور دوسری آیت میں فرمایا کہ اے نبیﷺ کی آپ کی مدد کے لیے وہ مؤمنین کافی ہیں جو آپ کے پیرو ہو چکے ہیں،

ان دونوں مضمونوں کی تصدیق مذہب شیعہ کی تعلیم پر نا ممکن ہے، اس لیے کہ تینوں خلیفہ کے مؤمن اور خلیفہ برحق نہ ہونے سے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو باستثنا چار پانچ اشخاص کے منافق و مرتد ماننا پڑتا ہے، لہٰذا وہ دوزخ سے نجات یافتہ نہیں ہو سکتے یا بعبارت دیگر خدا جس کے نجات یافتہ ہونے کی خبر دے وہ منافق و مرتد نہیں ہو سکتا،

نیز جب کہ تمام صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین مرتد قرار دیے گئے، منافق مانے گئے تو چار پانچ اشخاص حضورﷺ کی مدد کے لیے کسی طرح کافی نہیں ہو سکتے اور حضرت علیؓ اگر مدد کے لیے تنہا کافی ہوتے تو آپﷺ کے بعد بے یار و مددگار ہونے کی وجہ سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کیوں کر لیتے؟ مذہب شیعہ کا عجب حال ہے کبھی تو وہ سیدنا علیؓ کو اتنا بڑا شجاع اور اتنا بڑا طاقتور ظاہر کرتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ساری دنیا کے مقابلہ میں وہی اکیلے کافی تھے اور کبھی وہ ان کو ایسا کمزور اور مغلوب اور بزدل بناتا ہے کہ وہ کچھ کر ہی نہ سکتے تھے، ان کی خلافت چھین لی گئی، ان کی بیٹی غصب کر لی گئی سارا دین تباہ کر دیا گیا مگر وہ بول بھی نہ سکے۔

تیسری آیت:

وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ فِيۡكُمۡ رَسُوۡلَ اللّٰهِ‌ لَوۡ يُطِيۡعُكُمۡ فِىۡ كَثِيۡرٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ لَعَنِتُّمۡ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيۡكُمُ الۡاِيۡمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ وَكَرَّهَ اِلَيۡكُمُ الۡكُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡيَانَ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعۡمَةً وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ 

( سورۃ الحجرات: آیت 7،8)

ترجمہ: اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں، بہت سی باتیں ہیں جن میں وہ اگر تمہاری بات مان لیں تو خود تم مشکل میں پڑ جاؤ لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے، اور اسے تمہارے دلوں میں پرکشش بنادیا ہے، اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے، ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آچکے، جو اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کا نتیجہ ہے، اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک ہے۔

 فَاَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَاَلۡزَمَهُمۡ كَلِمَةَ التَّقۡوٰى وَ كَانُوۡۤا اَحَقَّ بِهَا وَاَهۡلَهَا‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمًا ( سورۃ الفتح: آیت 26)

ترجمہ: پھر اللہ نے اپنی طرف سے اپنے پیغمبر اور مسلمانوں پر سکینت نازل فرمائی، اور ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا، اور وہ اسی کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔  

فائدہ: ان دونوں آیتوں میں حق تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے لیے اور دوسری آیت میں خصوصیت کے ساتھ اہلِ حدیبیہ کے لیے چند ایسی فضیلتیں بیان فرمائی ہیں جن کی نظیر کسی اور کے لیے مل نہیں سکتی، ان فضائل کو مذہب شیعہ کے لیے سمِ قاتل کہا جائے تو بجا ہے:

1: اُن کو ایمان سے قلبی محبت ہے۔

2: ایمان ان کے دلوں میں بس گیا ہے۔

3: کفر و فسق اور ہر قسم کے گناہ سے ان کو دلی نفرت ہے۔

4: وہ لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔

5: اُن پر سکینہ نازل ہوا۔

6: صفتِ تقویٰ اُن کے لیے لازم ہے یعنی اُن سے جدا نہیں ہو سکتی۔

7: وہ لوگ اس عظیم الشان انعام کے مستحق اور سزاوار تھے۔

قرآن شریف میں جن کے ایسے عظیم الشان اوصاف بیان کئے گئے ہوں، بھلا کوئی ایمان دار اس بات کو مان سکتا ہے کہ ان سے کوئی حرکت ایمان اور تقویٰ کے خلاف صادر ہو، اگر کوئی شخص نا انصافی پر کمر باندھ کر یہ کہے کہ ان تمام اوصاف کے مصداق صرف ایک حضرت علیؓ تھے تو جواب اُس کا یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شیعہ معصوم مانتے ہیں اور ان آیتوں میں یہ صفات ان لوگوں کی بیان ہوئی ہیں جن کا غیر معصوم ہونا بھی انہی آیتوں سے ظاہر ہے، پہلی آیت میں فرمایا کہ رسولﷺ اکثر باتوں میں تمہارا کہنا مان لیں تو تم تکلیف میں پڑ جاؤ، اگر وہ معصوم ہوتے تو اُن کا کہنا مان لینے سے کبھی کوئی خرابی نہ پیش آتی، ان آیتوں کے ہوتے ہوئے اگر لاکھوں روایتیں کیسی ہی صحیح السند صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے خلاف ایمان و خلاف تقویٰ کسی حرکت کا صادر ہونا بیان کریں تو ایماندار کا فرض ہے کہ ان روایتوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھے، قرآن مجید کے خلاف کوئی روایت اور کوئی چیز مقبول نہیں ہو سکتی۔

چوتھی آیت:

صفحہ 3 از 7