مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن مجید کی روشنی میں - دفاعِ…

مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن مجید کی روشنی میں

  امام اہلسنت علامہ عبد الشکور لکھنوی رحمۃ اللہ

صفحہ 2 از 7

دوسرے یہ کہ چار اشخاص کی پاکی کوئی ایسی غیر معمولی اہمیت نہیں رکھتی جس کا ذکر اس اہتمام سے کیا جائے، خصوصاً جبکہ ایک بڑا گروہ جو ہر وقت آپﷺ کی صحبت میں رہتا تھا اس کو آپ مطلق پاک نہ کر سکے، جس طبیب کے زیرِ علاج ایک لاکھ مریض ہوں ان میں اگر تین چار مریض شفا پائیں اور باقی سب اسی طرح اپنے مرض میں مبتلا رہ کر ہلاک ہو جائیں تو وہ طبیب ہر گز لائق نہیں تعریف ہو سکتا اور ہر گز نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے ہاتھ میں شفا ہے،

صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے علم کی عظمت بھی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے جن کو آپﷺ نے خود قرآن کی تعلیم دی ہو ان کے برابر کس کا علم ہو سکتا ہے، جو مضمون اس آیت میں بیان فرمایا ہے وہی مضمون قرآن مجید کی متعدد آیتوں میں ہے از انجملہ سورۃ جمعہ میں تو الفاظ بھی قریب قریب متحد ہیں۔

دوسری آیت:

وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌ وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَ لَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًا وَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَا كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ 

(سورۃ آل عمران: آیت 103)

ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی، اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے، تاکہ تم راہ راست پر آجاؤ۔

یہی مضمون ایک دوسری آیت میں اس طرح ہے:

وَاِنۡ يُّرِيۡدُوۡۤا اَنۡ يَّخۡدَعُوۡكَ فَاِنَّ حَسۡبَكَ اللّٰهُ هُوَ الَّذِىۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوْبِھِمْ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيۡنَهُمۡ‌ اِنَّهٗ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ حَسۡبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ 

(سورۃ انفال: آیت 62٫63٫64)

ترجمہ: اور اگر وہ تمہیں دھوکا دینے کا ارادہ کریں گے تو اللہ تمہارے لیے کافی ہے، وہی تو ہے جس نے اپنی مدد کے ذریعے اور مؤمنوں کے ذریعے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے، اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی الفت پیدا کردی، اگر تم زمین بھر کی ساری دولت بھی خرچ کرلیتے تو ان کے دلوں میں یہ الفت پیدا نہ کرسکتے، لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا، وہ یقیناً اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک ہے ،اے نبی! تمہارے لیے تو بس اللہ اور وہ مؤمن لوگ کافی ہیں جنہوں نے تمہاری پیروی کی ہے۔  

فائدہ: ان دونوں آیتوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق وہ باتیں بیان فرمائی ہیں کہ ان کے مان لینے کے بعد مذہب شیعہ قطعاً فنا ہو جاتا ہے، ایک مضمون ان دونوں آیتوں میں مشترک ہے اور ایک ایک غیر مشترک۔

مشترک مضمون یہ ہے کہ خداوند کریم نے خبر دی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں قبل اسلام باہم سخت عداوت تھی کہ اس کا دور کر دینا انسانی طاقت سے بالا تر تھا حتٰی کہ سید الانبیاءﷺ کی بابت فرمایا کہ آپ بھی تمام دنیا کی دولت خرچ کر کے ان کی عداوت زائل نہ کر سکتے تھے، خداوند کریم نے اپنی قدرت کاملہ سے اُس عداوت کو دور کر کے ان میں باہم الفت پیدا کر دی کہ وہ بھائی بھائی ہو گئے، ان کی اس باہمی الفت کو خدا نے اپنی نعمت فرمایا۔

اس مضمون سے دو نتیجے برآمد ہوئے:

اول: یہ کہ قرآن شریف یہ بتاتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین میں باہم الفت و محبت تھی اور ایسی الفت و محبت جو خدا کی قدرت کاملہ کا ایک نمونہ تھی، ان کی اس باہمی محبت کو ایک اور آیت میں رُحَمَاءُ بَیْنَھُمْ کی لفظ سے تعبیر فرمایا اور ایک اور آیت میں اَذِلَّةً عَلى الْمُؤْمِنِیْنَ کی لفظ سے غرض یہ کہ جا بجا مختلف کلمات میں اُس کو بیان فرمایا ہے، مگر مذہب شیعہ یہ بیان کرتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی وہ دیرینہ عداوتیں بدستور قائم تھیں، بنی امیہ اور بنی ہاشم میں باہم وہی بغض و عناد اپنا کام کر رہا تھا اور اسی بغض و عناد کی وجہ سے حضرت علیؓ کو پہلی خلافت نہ مل سکی اور ان پر طرح طرح کے ظلم ہوئے( نعوذ باللہ من ذٰلک)

دوم: یہ کہ قرآن شریف یہ بتاتا ہے کہ صحابہؓ مخلصین کی ایک جماعت تھی مگر مذہب شیعہ کی تعلیم یہ ہے کہ صرف چار پانچ اشخاص مخلص تھے باقی سب منافق تھے یہ تعلیم کھلم کھلا قرآن مجید کے خلاف ہے کیونکہ ان چار پانچ اشخاص میں نہ تو پہلے سے کوئی عداوت تھی نہ چار پانچ اشخاص میں اُلفت پیدا کر دینا کوئی ایسا بڑا کام ہے جس کو اہتمام سے بیان کیا جائے اور اسکو خدا کی قدرت کا کرشمہ کہا جائے،

صفحہ 2 از 7