رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات اور مرض الموت کے…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات اور مرض الموت کے متعلق سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا موقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

اس طرح عمر، ابن عباس رضی اللہ عنہم اور آپﷺ کی تائید کرنے والوں سے زیادہ فقاہت اور دینی بصیرت کے مالک نکلے۔ علامہ خطابیؒ فرماتے ہیں: سیدنا عمرؓ کی بات کو اس بات پر محمول کرنا کہ آپؓ نے رسول اللہﷺ کے سلسلہ میں غلط گمان کیا ہو گا یا کوئی ایسی نامناسب بات سوچی ہو گی جو آپﷺ کی ذات کے مناسب نہیں، بہرحال یہ جائز نہیں ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ قربِ وفات کے وقت جب آپﷺ کی تکلیف میں شدت ہو گئی اور آپﷺ کو سخت بے چینی لاحق ہوئی تو آپؓ ڈرے کہ کہیں آپﷺ ایسی بات نہ کہہ دیں جیسے مریض جان کنی کے عالم میں غیر ارادی طور پر کہہ دیتا ہے اور پھر منافقوں کو دین میں اعتراض کرنے کا موقع مل جائے۔ آپﷺ جس چیز پر پختگی سے حکم نہیں لگاتے تھے آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس سلسلہ میں آپﷺ سے استفسار کرتے تھے۔ جیسا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر اختلاف اور آپﷺ اور قریش کے درمیان صلح نامہ سے متعلق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپﷺ سے استفسار کیا، لیکن جب آپﷺ حتمی طور پر کسی چیز کا حکم دیتے تھے تو اس سلسلہ میں کوئی آپﷺ سے استفسار نہ کرتا تھا۔ 

(صحیح البخاری: العلم: حدیث، 114)

قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ صحیح مسلم وغیرہ میں أَہَجَرَ۔ یعنی ہمزۂ استفہام کے ساتھ ا أَہَجَرَ۔وارد ہے۔ اور ’’ ہَجَرَ، یَہْجُرُ‘‘ والی روایت کے مقابلے میں وہی زیادہ صحیح ہے۔ اس لیے کہ ’’ ہَجَرُ‘‘ کا معنی ’’ہذی‘‘ یعنی ہذیان بکنا (لغو اور بے مقصد بات بولنا) اور اس معنی میں ’’ہجر‘‘ کی نسبت رسول اللہﷺ کی طرف صحیح نہیں ہے۔ گویا یہ استفہام انکاری تھا اُن لوگوں کے ردّ میں جنہوں نے کہا تھا: ’’مت لکھو‘‘ لہٰذا اس کا مطلب ہوا کہ آپﷺ کے قول کو نہ چھوڑو اور اسے اس آدمی کی بات کی طرح نہ بنا دو جو اپنی بات میں ہذیان بکتا ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہﷺ کی بات چھوڑنے کے لائق نہیں کیونکہ آپﷺ ہذیان سے پاک ہیں۔ اور سیدنا عمرؓ کے قول ’’حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہِ‘‘ میں دراصل ان لوگوں کی تردید ہے جنہوں نے آپؓ سے بحث کی تھی نہ کہ نبی کریمﷺ کے فرمان کی تردید۔ 

(صحیح السیرۃ النبویۃ: صفحہ، 750 بحوالہ شرح النووی علی صحیح مسلم: جلد، 11 صفحہ، 90)

علی طنطاویؒ نمذکورہ واقعہ پر حاشیہ لکھا ہے کہ میرے خیال میں سیدنا عمرؓ رسول اللہﷺ کی لمبی صحبت کی وجہ سے چونکہ اس بات کے عادی ہو گئے تھے کہ آپؓ کے سامنے اپنی رائے ظاہر کر دیتے اور جانتے تھے کہ آپﷺ کی طرف سے انہیں اس بات کی اجازت ہے اور آپؓ مزید خوش ہوتے ہیں اور پچھلے مباحث میں یہ بات گزر بھی چکی ہے کہ آپؓ صحبت نبویﷺ میں رہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشورے اور تجاویز پیش کرتے اور بعض امور کا مطالبہ کرتے اور بعض معاملات کا پوچھتے، پھر اگر وہ تجویز یا مطالبہ درست ہوتا تو آپؓ کو اس کی اجازت دے دیتے اور غلطیوں سے منع کر دیتے۔ چنانچہ جب آپﷺ نے فرمایا: اِئْتُوْنِیْ أَکْتُبَ لَکُمْ کِتَابًا۔

ترجمہ: ’’میرے پاس آؤ میں تمہارے لیے کچھ لکھ دوں‘‘ 

تو آپؓ نے اپنی عادت کے مطابق تجویز پیش کی کہ بہتر ہو گا صرف کتابِ الہٰی پر اکتفا کریں اور آپﷺ اس پر خاموش رہے، اگر آپﷺ وہ کتاب لکھوانا ہی چاہتے تو سیدنا عمرؓ کو خاموش کر دیتے اور جو چاہتے کر گزرتے۔


صفحہ 2 از 2