کیا آیت تطہیر میں اہل بیت کے لئے ارادہ عصمت بیان ہوا ہے؟ -…

کیا آیت تطہیر میں اہل بیت کے لئے ارادہ عصمت بیان ہوا ہے؟

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

  آپ نے آیت تطھیر کے حوالے سے ازواج مطہرات کی فضیلت پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ اھل سنت کے نزدیک سورت الاحزاب کی آیت 28 سے 34 تک ازواج مطہرات کو بار بار مخاطب کر کے مختلف ھدایات ، نصیحتیں وغیرہ کی گئی ہیں اور آیت تطھیر میں ان ھدایات پر عمل کرنے پر اللہ عزوجل نے یہ پکا ارادہ بیان فرمایا ہے کہ ازواج مطہرات کو گناھوں سے پاک کیا جائیگا۔ 

 رفیق صاحب۔۔۔ ازواج مطہرات ہی اھل بیت ہیں۔ آپ کے اشکال ، اشارے کنائے قرآن مجید کی واضح آیتوں کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ ابتک آپ نے ایک بھی ایسی دلیل  پیش نہیں کی جس سے ازواج مطہرات آیت تطھیر سے خارج ہو سکیں۔۔۔ !!    آپ نے پنج تن پاک کا آیت تطھیر سے تعلق بھی ثابت نہیں کیا۔۔۔!! آپ تو یہ تک بتانے سے قاصر رہیں ہیں کہ آیت تطھیر میں آخر وہ کون سے الفاظ ہیں جن سے پنج تن پاک کی عصمت ثابت ہوتی ہے۔۔۔!!!  جب تعلق ہی ثابت نہیں  تو عصمت ثابت کرنا تو دور کی بات ہے۔۔۔ ۔۔۔!!!    غور کریں۔۔۔ بھلا اجماع امت کے خلاف ایک ایسا مفھوم ہم کس طرح تسلیم کریں جو سورت الاحزاب کے سیاق و سباق کے خلاف ہو ، قرآن کی فصاحت و بلاغت کے خلاف ہو ، قرآن مجید کی کئی آیات سے ثابت شدہ حقائق (ازواج کو اھل یت کہنا) کے خلاف ہو ، جو خود لغت عرب کے بھی خلاف ہو۔۔۔۔!! میرے قابل احترام رفیق صاحب۔۔۔۔۔  آیت تطھیر میں مذکر کے صیغے ہونے کے باوجود ازواج مطہرات کو آیت تطھیر سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔ !! یہی حق ہے ۔۔۔ باقی سب باطل۔۔۔۔۔   آپ کو چاھیئے کہ اپنی عقل استعمال کرنے کی بجائے زمانہ قدیم سے آج تک کے علماء کے مؤقف پر غور و فکر کریں۔۔۔شکریہ۔


   رفیق صاحب۔۔۔ آپ اب اصل موضوع پر دلائل  ، مطلوبہ مکمل عبارات اور حوالے دینے کی بجائے دوسرے اعتراضات کو شامل کرنے کو کوششوں میں ہیں۔۔۔!!  ازواج مطہرات کو مختلف مقامات پر تنبیھہ ، نصیحتیں اور احکامات پر بھی بحث کریں گے۔۔۔ نبی کریم ﷺ کو طلاق دینے کی ممانعت کب اور کیسے ہوئی اور کون سے آیات پہلے اور کون سی بعد میں نازل ہوئیں انہیں بھی زیر بحث لایا جائیگا۔۔۔۔ اللہ عزوجل نے ازواج مطہرات کی جو جو فضیلتیں قرآن مجید میں بیان فرمائیں ہیں ، ہم ان پر بھی بحث کریں گے۔۔۔۔ آپ اس وقت صرف اس موضوع پر رہیں کہ آیت تطھیر سے ازواج مطہرات کی فضیلت ثابت کیوں نہیں ہوتی۔۔۔۔!!؟؟  اور آیت 33 کے آخری چند جملوں کا تعلق حضرت علی ، سیدہ فاطمہ اور حسنین کریمین سے آخر کن دلائل کی بنیاد پر ہے۔۔۔۔!!؟؟ آپ کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ آیت تطھیر میں اللہ عزوجل کا ارادہ اور مستقبل کے ضمائر استعمال ہونے کے باوجود آپ یہ مفھوم کس طرح لیتے ہیں کہ اس آیت کے نزول سے پہلے بھی حضرت علی ، سیدہ فاطمہ اور حسنین کریمین معصوم ہیں۔۔۔!!؟؟ 


 محترم رفیق صاحب۔۔۔ آیت تطھیر میں اللہ عزوجل نے اھل بیت سے نجاست دور کر کے انہیں پاک کرنے کا ارادہ ظاھر کیا ہے۔ یہ ارادہ تقدیری ارادہ ہرگز نہیں ہے بلکہ شرعی ارادہ ہے۔ آیت تطھیر میں ایسا کوئی لفظ نہیں جس سے عصمت اھل بیت ثابت ہوتی ہو۔ آیت تطھیر میں اللہ عزوجل کا ارادہ تقدیری ہوتا اور اس کے مخاطب حضرت علی ، سیدہ فاطمہ اور حسنین کریمین ہی ہوتے تو حدیث کساء میں نبی کریم ﷺ کو دعا کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ تقدیری ارادے اٹل ہوتے ہیں ، ایسے ارادے دعاؤں کے محتاج نہیں ہوتے۔


  اللہ عزوجل نے آیت تطھیر میں ارادہ تقدیری نہیں بلکہ شرعی ارادہ کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ انما کے لفظ سے حصر کرنا بھی اھل بیت کے ساتھہ مخصوص نہیں ہے بلکہ تطھیر کے ارادے کے ساتھہ مخصوص ہے ، آیت تطھیر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اے اہل بیت!  اللہ تمہارے سوا اور کسی کو پاک کرنا نہیں چاہتا۔۔۔!!!  اگر یہ مطلب ہوتا تو اس کے لیئے کوئی حرف تخصیص کا لفظ اہل بیت کے ساتھہ ہوتا۔۔۔!! رفیق صاحب۔۔۔یہ قرآنی مطالب ہیں۔ اصول کافی یا من لایحضرہ نہیں کہ جو چاہا کہہ گئے۔۔۔۔!!!

 


 رفیق صاحب۔۔۔ آیت تطھیر کے متعلق آپ نے کئی بار یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر آیت تطھیر عصمت پر دلالت نہیں کرتی تو پھر اس آیت سے اھل بیت کی آخر  کونسی فضیلت ثابت ہوتی ہے ۔۔۔ آپ کے اسی اعتراض کو ذھن میں رکھتے ہوئے یہ جواب تیار کیا گیا ہے۔


 


صفحہ 2 از 2