حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی روانگی کے بارے میں صحابہ و تابعین…

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی روانگی کے بارے میں صحابہ و تابعین کا موقف

  ابو شاہین

صفحہ 3 از 3
آپ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر فرمایا میرے عم زاد! رشتہ داری مجھے تم پر رحم کرنے کے لیے مجبور کرتی ہے، مجھے نہیں معلوم کہ میں تمہاری خیر خواہی کیسے کروں ؟ انہوں نے فرمایا ابوبکر! آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں ضرور کہیں انہوں نے فرمایا اہل عراق نے تمہارے باپ اور تمہارے بھائی کے ساتھ جو کچھ کیا وہ میری آنکھوں کے سامنے ہے تم ان لوگوں کے پاس جانا چاہتے ہو، حالانکہ وہ دنیا کے پجاری ہیں، تمہارے ساتھ وہی لوگ قتال کریں گے جنہوں نے تم سے مدد کا وعدہ کیا ہے اور تمہیں وہی لوگ بے یار و مددگار چھوڑیں گے، جنہیں تم ان لوگوں سے زیادہ پیارے ہو جن کی وہ معاونت کریں گے میں تمہارے بارے میں تمہیں اللہ یاد کراتا ہوں یہ سن کر انہوں نے فرمایا میرے عم زاد! اللہ تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے میرے بارے میں اللہ جو بھی فیصلہ کر چکا ہے وہ نافذ ہو جائے اس پر ابوبکر نے انا للہ پڑھا اور فرمایا: ابوعبداللہ! ہم اللہ سے ثواب حاصل کریں گے۔ ( البدایہ و النہایہ:جلد، 11صفحہ، 506 )
حضرت عبداللہ بن مطیع رضی اللہ عنہ:
 انہوں نے کہا ! میرے والدین آپ پر قربان، اپنی ذات سے ہمیں فائدہ پہنچائیں اور عراق جانے کا ارادہ ترک کر دیں، اللہ کی قسم اگر ان لوگوں نے آپ کو قتل کر دیا تو یہ ہمیں غلام بنا لیں گے۔
(مختصر تاریخ دمشق: جلد، 7 صفحہ، 139)
 حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ:
 امام ذہبیؓ نے ان سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا اگر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ عراق نہ جاتے تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا.
حضرت عمرو بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ:
 انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو صحیح راستہ القا کرے اور تباہ کن چیز سے دور ہٹا دے، مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے عراق جانے کا عزم کر لیا ہے، میں تمہیں تشتت و اختلاف سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔(تاریخ دمشق: جلد، 16 صفحہ، 209 احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ، 212)
فرزدق
 مشہور محبِ اہل بیت شاعر فرزدق نے صفاح کے مقام پر حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، آپ نے اس سے پوچھا تیرے پیچھے لوگوں کا کیا حال ہے؟ اس نے جواب دیا لوگ آپ سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں مگر ان کی تلواریں بنو امیہ کے ساتھ ہیں اور فیصلے آسمان پر ہوتے ہیں۔
 (مختصر تاریخ دمشق: جلد، 7 صفحہ، 166)
دوسری روایت میں آتا ہے کہ اس نے کہاکہ میں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے کہا اہل عراق تمہیں بے یارو مددگار چھوڑ دیں گے، ان کے پاس مت جائیں مگر انہوں نے میری بات نہیں مانی۔
(تاریخ دمشق: جلد، 16 صفحہ، 216)
حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی عراق روانگی کے بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین کے مؤقف کے بارے میں یہ ہیں ان کے اقوال اور اس اہم ترین قضیہ کے بارے میں ان کا فلسفہ انہوں نے یزید کی بیعت اس لیے نہیں کی تھی کہ وہ اسے دیگر صحابہ کرامؓ اور تابعین سے افضل خیال کرتے تھے بلکہ انہوں نے مسلمانوں میں اختلاف اور تفرقہ بازی سے بچنے کے لیے اس سے بیعت کی تھی اس کی دلیل حمید بن عبدالرحمٰن سے مروی ان کا یہ بیان ہے کہ جب یزید بن معاویہ کو خلیفہ بنایا گیا تو ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ایک آدمی کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا کیا تم لوگ یہ کہتے ہو کہ یزید امت محمدیہ کا بہتر آدمی نہیں ہے، زیادہ سمجھ دار بھی نہیں ہے اور نہ زیادہ عز و شرف والا ہے؟ ہم نے کہا ہاں انہوں نے فرمایا میں بھی یہی کہتا ہوں، مگر اللہ کی قسم امت محمدیہﷺ کا اجتماع مجھے ان کے افتراق سے زیادہ پسند ہے۔
(الطبقات: جلد، 7 صفحہ، 167 تاریخ خلیفۃ: صفحہ، 166)
 یہ بات خاص طور پر نوٹ کی جائے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے تمام خیر خواہوں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ انہیں عراق نہیں جانا چاہیے اور یہ کہ اہل عراق پر قطعاً اعتماد نہیں کرنا چاہیے، سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک خط میں لکھا تھا کہ انہیں عراقیوں کے خطوط کے دھوکے میں نہیں آنا چاہیے، انہیں یہ بھی نصیحت کی گئی تھی کہ وہ حرم میں ہی موجود رہیں، اگر لوگوں کو ان کی ضرورت ہو گی تو وہ خود ان کی طرف دوڑے چلے آئیں گے اس طرح وہ پوری قوت اور تیاری کے ساتھ عراق روانہ ہو سکیں گے۔ (مختصر تاریخ دمشق: جلد، 7 صفحہ، 160)
ناصحینِ حسین رضی اللہ عنہ کا اس بات پر بھی اتفاق تھا کہ اہل عراق خائن لوگ ہیں لہٰذا وہ کسی بھی صورت قابلِ اعتماد نہیں ہیں، مزید برآں وہ سب کے سب ان کی شہادت کا خطرہ بھی محسوس کر رہے تھے اور یہ سب کچھ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کے خیرخواہ یہ علماء نئے حالات و واقعات سے بخوبی آگاہ تھے اور ان گزشتہ واقعات سے بھی جو فتنہ کے دوران میں سیّدنا علیؓ اور امیر معاویہؓ کے درمیان وقوع پذیر ہوئے۔
(اثر العلماء فی الحیاۃ السیاسیۃ: صفحہ، 681)

صفحہ 3 از 3