حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی روانگی کے بارے میں صحابہ و تابعین…

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی روانگی کے بارے میں صحابہ و تابعین کا موقف

  ابو شاہین

صفحہ 2 از 3
جب مدینہ منورہ آنے پر انہیں ان کے کوفہ روانہ ہونے کی خبر ملی تو وہ رات کی مسافت پر انہیں پیچھے سے جا ملے اور ان سے دریافت کیا کہ آپ کہاں جانا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا: ہم عراق جا رہے ہیں ۔ اس وقت ان کے پاس کئی خطوط بھی تھے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم کوفہ والوں کے پاس مت جاؤ۔ انہوں نے کہا: یہ ان کے خطوط اور بیعت کا عہد ہے۔ حضرت ابن عمرؓ کہنے لگے: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا و آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا تو انہوں نے آخرت کو پسند کیا، جبکہ تم بھی انہی کا ایک حصہ ہو۔ تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی اقتدار نہیں سنبھال سکے گا۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بہتر چیز کے لیے ہی تم سے دنیا کو دُور کیا ہے۔ لہٰذا تم لوٹ چلو۔ مگر انہوں نے اس سے انکار کر دیا، اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ان سے بغل گیر ہو کر فرمانے لگے: اے مقتول! میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔
( سیر اعلام النبلاء: جلد، 3 صفحہ، 292 )
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس کے بعد فرمایا کرتے تھے: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما خروج کے بارے میں ہم پر غالب آ گئے۔ مجھے میری زندگی کی قسم یقینا انہوں نے اپنے باپ اور بھائی میں عبرت کا سامان دیکھ لیا ہو گا۔ ایسے حالات میں ان کے لیے متحرک ہونا درست نہیں تھا۔ انہیں لوگوں کے ساتھ ہی رہنا چاہیے تھا اس لیے کہ جماعت میں خیر ہوتی ہے۔
( مختصر تاریخ دمشق: جلد، 7 صفحہ، 137)
سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ:
بعض ضعیف روایات میں ان پر یہ تہمت لگائی گئی ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو روانگی پر مطمئن کرنے والوں میں وہ بھی شامل تھے۔ حالانکہ ان کے بارے میں یہ ثابت ہے کہ انہوں نے انہیں کوفہ جانے سے خبردار کرتے ہوئے اور ان کی خیرخواہی کرتے ہوئے فرمایا تھا: آپ ان لوگوں کے پاس جا رہے ہیں جنہوں نے آپ کے باپ کو قتل کیا اور بھائی کو زخمی کیا۔ اس پر انہوں نے فرمایا: اگر مجھے فلاں فلاں جگہ قتل کر دیا جائے تو یہ بات مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میری وجہ سے مکہ مکرمہ کی حرمت پامال کی جائے۔
( مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد، 5 صفحہ، 95 حسن سند کے ساتھ )
بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اس اقدام کو صاحب بیعت امام کے خلاف خروج سے تعبیر کیا تھا۔ انہوں نے ان کے خروج کو اس طرح بھی دیکھا کہ طرفین کے لیے اس کے جو بھی نتائج ہوں یہ امت کے لیے شر اور آزمائش کا پیغام لے کر ہی آئے گا۔
 ( مواقف المعارضۃ: صفحہ، 236)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما 
انہوںؓ نے فرمایا تھا: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ خروج کے حوالے سے مجھ پر غالب آ گئے۔ میں نے ان سے کہا تھا: اپنی ذات کے بارے میں اللہ سے ڈریں ، اپنے گھر میں ٹکے رہیں اور اپنے امام کے خلاف خروج نہ کریں ۔
( تہذیب الکمال: جلد، 6 صفحہ، 661 الطبقات: جلد، 1 صفحہ، 665 )
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما:
آپؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بات کی اور ان سے کہا: اللہ سے ڈریں اور لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف نہ بھڑکائیں ۔ اللہ کی قسم تم جو کچھ کر رہے ہو وہ لائق ستائش نہیں ہے۔ مگر انہوں نے میری ایک نہ مانی۔
 (ایضا)
 حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما:
انہوں نے آپ کے نام خط لکھا اور اسے اپنے دو بیٹوں محمد اور عون کے ہاتھوں ان تک پہنچایا، انہوں نے اس میں لکھا تھا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ یہ خط پڑھتے ہی اپنے ارادے سے باز آ جائیں ۔ اس لیے کہ اس راہ میں آپ کے لیے ہلاکت اور اہل بیتؓ کی بربادی ہے۔
( تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ، 311 )
 مگر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے ان کی اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ اس سے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا کہ حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کے خروج کا سبب یزید کے والی حضرت عمرو بن سعید بن العاصؓ کا خوف ہے۔ چنانچہ انہوں نے سیدنا عمرو بن سعیدؓ سے مطالبہ کیا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے نام خط لکھ کر انہیں ہر طرح سے مطمئن کر دو۔ حضرت عمروؓ نے کہا: آپ جو کچھ چاہیں لکھ لائیں ، میں اس پر مہر لگا دوں گا۔
( ایضا )
 چنانچہ انہوں نے والی حضرت عمرو بن سعیدؓ کی جانب سے یہ خط لکھا:
’’میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو اس راستہ سے دُور کر دے جس میں ہلاکت ہی ہلاکت ہے اور اس راستہ کی طرف رہنمائی کر دے جس میں سلامتی ہے، مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ عراق جا رہے ہیں، میں آپ کی ہلاکت سے ڈرتا ہوں، میں عبداللہ بن جعفر اور یحییٰ بن سعید کو آپ کے پاس بھیج رہا ہوں، ان کے ساتھ واپس آ جائیں، میرے پاس آپ کے لیے امن، نیکی، احسان اور حسن جوار ہے، اللہ اس پر شاہد ہے اور وہی اس کا نگہبان اور کفیل ہے۔‘‘ ( تاریخ الطبری: جلد،6 صفحہ، 312 ) مگر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اس پیش کش کو بھی مسترد کر دیا اور اپنا سفر جاری رکھا۔
سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ:
ان سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں مجھے حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کے خروج کی خبر ملی، تو میں نے انہیں اللہ کا واسطہ دے کر کہا کہ آپ ایسا نہ کریں، یہ خروج کرنے کے لیے مناسب وقت نہیں ہے اس طرح آپ اپنے آپ کو ہلاکت سے دوچار کر دیں گے مگر انہوں نے کہا کہ میں واپس نہیں جاؤں گا
(مختصر تاریخ دمشق: جلد، 7 صفحہ، 139)
حضرت عمرہ بنت عبدالرحمٰنؓ:
  انہوں نے ایک خط کے ذریعے سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو ان کے اس فعل کی سنگینی سے آگاہ کیا اور انہیں اطاعت اور لزوم جماعت کا مشورہ دیا اور انہیں بتایا کہ انہیں ان کے مقتل کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ (ایضاً: جلد، 7 صفحہ، 160)
حضرت ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث رضی اللہ عنہ:
صفحہ 2 از 3