حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی روانگی کے بارے میں صحابہ و تابعین…

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی روانگی کے بارے میں صحابہ و تابعین کا موقف

  ابو شاہین

صفحہ 1 از 3

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی روانگی کے بارے میں صحابہ و تابعین کا موقف

محمد بن حنفیہؒ:
ان اپنے بھائی کی کوفہ روانگی کا علم ہوا تو وہ آپ کے پاس آئے اور سخت مضطرب ہو کر کہنے لگے: میرے بھائی! آپ مجھے سب لوگوں سے پیارے ہیں اور میری نظروں میں آپ کی عزت بھی بہت زیادہ ہے، مخلوق میں ایسا کوئی شخص نہیں جو میری نصیحت کا آپ سے زیادہ حق دار ہو، آپ یوں کریں کہ خود بھی یزید بن معاویہ کی بیعت نہ کریں اور جہاں تک ہو سکے دوسرے شہروں کو بھی اس سے روکیں ، پھر لوگوں کے پاس اپنے قاصد بھیج کر انہیں اپنی طرف بلائیں اگر وہ لوگ آپ کی بیعت کر لیں تو ہم اس پر اللہ تعالیٰ کی تعریف کریں گے اور اگر ان کا کسی اور پر اتفاق ہو جائے تو اس سے اللہ تعالیٰ نہ آپ کے دین میں کمی کرے گا اور نہ آپ کی عقل میں اور نہ اس سے آپ کی مردانگی میں کوئی کمی ہی آئے گی۔ میں تو اس بات سے ڈرتا ہوں کہ آپ کسی شہر میں داخل ہو کر کسی جماعت کے پاس جائیں اور ان کا آپس میں اختلاف ہو جائے، کہ ان میں سے کچھ لوگ آپ کے ساتھ ہوں اور کچھ آپ کے خلاف اور پھر وہ آپس میں لڑ پڑیں اور آپ پہلے نیزے کا شکار بن جائیں اور اس طرح اس امت کے ہر اعتبار سے بہتر اور افضل انسان کا خون رائیگاں چلا جائے۔ مگر حضرت حسینؒ نے فرمایا کہ میرے بھائی! میں تو جا رہا ہوں ۔ انہوں نے فرمایا: پھر آپ مکہ چلے جائیں ، اگر آپ کو وہاں اطمینان میسر آئے تو ٹھیک ہے ورنہ شہر شہر پھرتے رہیں اور لوگوں کے فیصلے کا انتظار کریں ۔ انہوں نے جواب دیا: میرے بھائی! تم نے میری خیرخواہی فرمائی اور امید کرتا ہوں کہ تمہاری رائے درست ہو گی۔
( انساب الاشراف: جلد، 6 صفحہ، 15 اور 16) 
مگر وہ اپنی کوفہ روانگی پر مصر رہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما:
جب ان کی روانگی کا علم ان کے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چچازاد بھائی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ہوا تو وہ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: لوگ یہ سن کر بڑے پریشان ہیں کہ آپ عراق جا رہے ہیں، مجھے اصل حقیقت سے آگاہ کیجیے! حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں نے عزم کر لیا ہے کہ آج یا کل روانہ ہو جاؤ ں گا۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا: کیا آپ ایسے لوگوں میں جا رہے ہیں جنہوں نے اپنے دشمن کو نکال دیا ہے اور ملک پر قبضہ کر لیا ہے، اگر تو وہ ایسا کر چکے ہیں تو بڑے شوق سے جائیں ، لیکن اگر ایسا نہیں ہوا، حاکم بدستور ان کی گردنیں دبائے بیٹھا ہے اور اس کے کارکن مسلسل اپنی کارستانیاں کر رہے ہیں تو پھر وہ آپ کو فتنہ اور جنگ کی طرف بلا رہے ہیں ، میں ڈرتا ہوں کہ وہ آپ کو دھوکا نہ دیں اور جب دشمن کو طاقت ور دیکھیں تو آپ کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار نہ ہو جائیں ۔ حضرت حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا یہ جواب دیا کہ میں اللہ تعالیٰ سے استخارہ کروں گا اور صورت حال پر نگاہ رکھوں گا۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی گفتگو اور تیاری سے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ روانگی کے لیے پرعزم ہیں لیکن چونکہ میں اس سے خوش نہیں ہوں لہٰذا وہ اصل بات مجھ سے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ جب ان کی روانگی کا وقت قریب آ گیا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پھر دوڑے آئے اور کہنے لگے: اے چچا زاد! میں خاموش رہنا چاہتا تھا مگر خاموش رہ نہیں سکتا، میں اس راہ میں آپ کی ہلاکت اور بربادی دیکھ رہا ہوں ، اہل عراق دغا باز قسم کے لوگ ہیں ان کے دھوکے میں نہ آئیں ، یہیں قیام کریں ، یہاں تک کہ جب عراق والے اپنے دشمن کو نکال باہر کریں تو پھر وہاں ضرور تشریف لے جائیے۔ اگر آپ حجاز سے جانا ہی چاہتے ہیں تو پھر یمن چلے جائیں وہاں قلعے اور دشوار گزار پہاڑ ہیں اور ملک کشادہ ہے۔ وہاں کے لوگ آپ کے والد کے ہم نوا ہیں ۔ ان لوگوں سے الگ تھلگ رہیں ، خطوط اور قاصدوں کے ذریعے سے اپنی دعوت پھیلاتے رہیں ، مجھے یقین ہے کہ آپ یہ کام کریں گے تو اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مگر حضرت حسینؓ نے جواب دیا: اے چچا زاد ! میں جانتا کہ آپ میرے خیرخواہ ہیں لیکن اب میں روانگی کا عزم کر چکا ہوں ۔ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر آپ نے جانا ہی ہے تو عورتوں اور بچوں کو ساتھ نہ لے جائیں ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ آپ ان کے سامنے اس طرح قتل نہ کر دیے جائیں جس طرح سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اپنے گھر والوں کے سامنے قتل کر دئیے گئے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد سیدنا حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے پرجوش انداز میں کہا: اگر مجھے یقین ہوتا کہ میں آپ کے بال پکڑ لوں اور اس پر لوگوں کے جمع ہونے سے آپ رک جائیں گے تو میں یہ کام بھی کر ڈالوں۔مگر آپ پھر بھی اپنے ارادے پر قائم رہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شرعی اعتبار سے یزید کے خلاف ان کے خروج کے خلاف نہیں تھے البتہ وہ اس حکمت عملی کے خلاف تھے۔ ان کے نزدیک حضرت حسینؓ کو اس وقت تک عراق کے لیے روانہ نہیں ہونا چاہیےتھا ۔ جب تک انہیں وہاں موجود اپنے حمایتیوں کی طاقت کا علم نہ ہو جائے اور امویوں کے اثر و نفوذ کے خاتمہ کا یقین نہ ہو جائے اور اگر وہ کہیں جانے پر مصر ہی ہیں تو پھر یمن چلے جائیں جو اموی اثر و نفوذ سے دُور ہے اور وہاں ان کے انصار و معاونین بھی ہیں اور چھپنے کے کئی ایک مقامات بھی، اس طرح وہ یزید کے مقابلے میں اپنی تمام قوتوں کو یکجا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما:
انہوں نے کئی مواقع پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ خیر خواہی کی، جب انہیں یہ خبر ملی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما یزید کی بیعت کو ردّ کر کے مکہ مکرمہ جا رہے ہیں تو وہ ان سے کہنے لگے: میں تم دونوں کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ یہیں سے لوٹ جاؤ اور حالات کا انتظار کرو۔ اگر لوگوں کا اس پر اتفاق ہو جائے تو تم اس سے علیحدہ نہ رہو اور اگر اس پر اتفاق نہ ہو سکے تو اس سے تمہارا مقصد پورا ہو جائے گا۔
( الطبقات الکبری، تحقیق سلمی: جلد، 1 صفحہ، 666)
صفحہ 1 از 3