فتنہ گوہرشاہی - دورِ حاضر کے فتنے | دفاع اسلام

فتنہ گوہرشاہی

  ثناء اللہ خان احسن

صفحہ 4 از 4
آخری لائن سد سکندری (جو ذوالقرنین نے دیوار بنائی تھی) سمندر میں سکندر کی بیوی جو کہ دراصل ناگن تھی اسے پھینک دیا گیا اس کا نشان اب بھی موجود ہے اسے سد سکندری کہتے ہیں۔ ان کی نسل (یعنی وہ جو سانپ کی شکل میں تبدیل کردیے گئے تھے گوہر شاہی نے یہ نہیں بتایا کہ یہ لوگ تھے کون) بھی اس دنیا میں موجود ہے۔ عام سانپوں کے کان نہیں ہوتے لیکن اس نسل والے سانپ کے کان ہوتے ہیں۔ یاجوج ماجوج کو چینی پہاڑوں میں بند قرار دیا ہے۔ قارئین کرام یہ سبھی باتیں بلا حوالہ اور بالکل بے سرو پا ہیں اور انداز بالکل سپیروں والا ہے جو سانپ دکھانے کے بہانے اپنی جعلی دوائیاں بیچتے ہیں اور سانپ کے منہ میں سرمہ رکھ کر بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ شام تک لوگوں کی جان نہیں چھوڑتے۔
گوہر شاہی 25 نومبر2001ء کو مانچسٹر میں نمونیا کی وجہ سے انتقال کر گیا۔ گوہر شاہی کی میت پاکستان لائی گئی اور انجمن سرفروشان اسلام کے بین الاقوامی مرکز المرکز روحانی کوٹری میں مدفون کی گئی۔ جہاں اب گوہر شاہی کا مزار بھی واقع ہے۔ تاہم گوہر شاہی کے تمام مرید گوہر شاہی کے انتقال کو گوہر شاہی کی موت تسلیم نہیں کرتے بلکہ اس پر یقین رکھتے ہیں کہ گوہرشاہی جسم سمیت روپوش ہو گیا ہے، یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح گوہر شاہی بھی اپنا جسم چھوڑ کرغ غیبتِ صغری میں چلا گیا اور قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ گوہر شاہی دوبارہ آئے گا، اسی لیے روایتی انداز میں گوہر شاہی کا عرس بھی نہیں منعقد کیا جاتا۔ گوہر شاہی کی بیوہ اور بچے اب بھی کوٹری میں مقیم ہیں۔ ویسے عجیب اتفاق ہے کہ مرزا قادیانی کا خلیفہ مرزا طاہر بھی انگریزوں کے ملک برطانیہ میں مرا اور گوہر شاہی بھی ادھر ہی مرا، نعش میں سے اتنی بدبو آ رہی تھی کہ لوگوں کو اس کا چہرہ ہی نہ دیکھنے دیا گیا۔ ایسے مواقع پہ بڑی پہچان ہو جاتی ہے۔ کئی دین کے دشمن مرے، لوگوں کو یہ کہہ کر ان کا چہرہ نہ دیکھنے دیا گیا کہ ان کے چہرے سے نور کی روشنی اتنی خارج ہو رہی ہے کہ کوئی اسے برداشت نہیں کر سکتا اور حقیقتاً جن لوگوں کی موت حق پر ہوتی ہے لوگ فخریہ ان کے نورانی اور چمکدار چہرے کے دیدار کے لیے لوگوں کو آواز دے دے کر بلواتے ہیں اور دکھاتے ہیں۔
گوہر شاہی پر کئی بار قاتلانہ حملے بھی کیے گئے۔ پانچ قسم کے سنگین مقدمات گوہر شاہی پر پاکستان میں دائر کیے۔ گوہرشاہی کے معتقدین کی جانب سے چاند، سورج، نبیولا ستارے اور حجر اسود میں گوہر شاہی کی شبیہات کے دعوے کے بعد یہ مخالفت انتہائی شدت اختیار کر گئی۔ پاکستانی اخبارات و جرائد نے بھی گوہر شاہی کے خلاف تحاریر شائع کیں۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے گوہر شاہی کی کتابوں پر پابندی لگا دی گئی۔ گوہر شاہی اور اُن کے معتقدین کی سرگرمیوں کو روک دیا گیا اور اخبارات و جرائد کو بھی گوہر شاہی کا مکمل بائیکاٹ کرنے کی ہدایت کی گئی. گوہر شاہی اور اُن کے معتقدین پر کئی مقدمات قائم ہوئے۔ انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سندھ میں گوہر شاہی اور اُن کے بہت سے پیروکاروں کو توہینِ رسالت جیسے قانون کے تحت سزائیں سنائیں۔ گوہر شاہی کو سزا عدم موجودگی میں سنائی گئی کیونکہ گوہر شاہی اُس وقت برطانیہ میں تھا۔ گوہر شاہی کو تقریباً 59 سال قید کی سزا اور جرمانے کی سزا سُنائی گئی جس کے خلاف گوہر شاہی نے سندھ ہائی کورٹ میں اپیل بھی کی، تاہم اس اپیل پر کسی بھی فیصلے سے قبل گوہر شاہی برطانیہ میں انتقال کر گیا۔
اس کے ان گمراہانہ عقائد و نظریات کو دیکھتے ہوئے اور اس کی صفت دجالیت کو بر وقت بھانپتے ہوئے ملک کے نامور علماء اور دینی مدارس نے اس پر مرتد و کافر، ملحد، زندیق اور ضال و مضل کا فتویٰ صادر کیا، ان میں سرِ فہرست جامعہ فاروقیہ، جامعہ بنوری ٹاؤن، جامعہ دار العلوم کراچی، جامعہ رضویہ مظہر الاسلام فیصل آباد اور دار العلوم امجدیہ کراچی ہیں۔
اس کی مزید تحقیق کے لیے سعید احمد جلال پوری صاحب کی کتاب دورِ جدید کا مسیلمہ کذاب محمد نواز فیصل آبادی کی کتاب، گوہر شاہیت اور قادیانیت اسلام کی عدالت میں اور مفتی نعیم صاحب کی کتاب ادیانِ باطلہ اور صراطِ مستقیم کا مطالعہ کریں۔
آخر میں اللہ سے دعا ہے کہ یا اللہ ہماری قوم کو دین کی سمجھ عطا فرما اور ان جھوٹے مہدیوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہونے کے جھوٹے مدعیوں سے ہماری جان چھڑا۔ آمین
ماخذ و حوالہ جات:
  1. گوہر شاہی کا دین الہٰی، تعاقبِ فتن از اعجاز علی شاہ
  2. فرقہ گوہر شاہی ماہنامہ دارالعلوم، دسمبر 2014 عیسوی از عبدالغنی
  3. وکیپیڈیا

صفحہ 4 از 4