فتنہ گوہرشاہی - دورِ حاضر کے فتنے | دفاع اسلام

فتنہ گوہرشاہی

  ثناء اللہ خان احسن

صفحہ 3 از 4
سوال نامہ گوہر میں لکھا ہے لوگ اگر ہمیں مہدی کہتے ہیں تو اصل میں جس کو فیض ملتا ہے، وہ ہمیں اتنا ہی سمجھتا ہے(صفحہ، 8) اس کے لیے بے سرو پا اور جھوٹے دلائل دیے گئے ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے کہ میری تصویر چاند، سورج اور حجرِ اسود پر ظاہر ہو چکی ہے، یہ مہدی ہونے کی علامات میں سے ہے، اور امام حرم حماد بن عبد اللہ نے حجر اسود کی تصویر کی تصدیق کی، اور کہا کہ یہ امام مہدی سے ملتی جلتی ہے۔ اس کے اس جھوٹ کی تردید اس وقت کے امامِ کعبہ شیخ محمد بن عبد اللہ سبیل نے بھی کی اور فرمایا کہ اس وقت پورے حرم میں حماد بن عبد اللہ نامی کوئی امام نہیں ہے جس کا فرضی نام اس شخص نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے لیا تھا اور اس پر فتویٰ ارتداد بھی صادر فرمایا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کی روداد:
اس کے علاؤہ حضرت عیسیٰؑ سے اپنی جھوٹی ملاقات اپنی کتاب حق کی آواز صفحہ، 17 میں ثابت کی ہے۔ ان کا ایک مرید لکھتا ہے کہ دورۂ امریکہ کے دوران مورخہ 29 مئی 1997 عیسوی نیو میکسیکو کے ایک مقامی ہوٹل میں حضرت سیدنا گوہر شاہی سے حضرت عیسیٰؑ نے ظاہری ملاقات فرمائی، مرشد نے 28 جولائی 1997 عیسوی تک اس کو صیغہ راز میں رکھا پھر اس سے پردہ اٹھانا مناسب سمجھا اور تفصیلات ارشاد فرمائیں۔ (اشتہار کردہ سرفروش پبلی کیشنز)
اس جھوٹی ملاقات کے بارے میں خود لکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ چونکہ مہدی کے زمانہ میں وارد ہوں گے، میری ان سے ملاقات ہونا دلیل ہے، اس بات کی کہ میں مہدی ہوں۔ اس کے علاؤہ اولیاء اللہ کی توہین، حضرت رابعہ بصریہؒ جیسی پاکباز کو طوائف کہنا، شریعت اور طریقت کو الگ کرنا، حضورﷺ کی زیارت کے بغیر امتی نہ ہونے کا قول کرنا اور حضورﷺ سے بالمشافہ ملاقات اور علم سیکھنے کا مدعی ہونا اور اپنے لیے معراج اور الہام کا دعویدار ہونا، اس کی زہر افشانیوں میں شامل ہے۔ اپنے ان گمراہانہ عقائد و نظریات اور دعاوی کے اثبات اور ترویج کے لیے اس نے مندرجہ ذیل کتابیں لکھیں۔
روحانی سفر، روشناس، مینارۂ نور، تخفة المجالس، حق کی آواز اور تریاقِ قلب وغیرہ۔
پہلے یہ تنظیم انجمن سرفروشان اسلام کے ٹائٹل سے کام کرتی تھی اور اس کے اشتہارات و کتب پر ایک دل کی تصویر ہوتی تھی۔ اب ایک کتاب دین الہٰی کے نام سے ان کی تنظیم کی طرف سے پھیلائی جا رہی ہے۔ کتاب کے ٹائٹل پر بڑا سا دل بنا کر اس میں ہر مذہب کے خصوصی نشانات ہیں۔ دائیں طرف سے اس دل میں داخل ہوں تو سب سے پہلے صلیب کا نشان ہے۔ اس کے نیچے کسی بدھ مذہب کے پگوڈے کا اور اس سے آگے یہودیوں کاچھ کونی ستارہ ہے، آگے گول دائرے میں دو مچھلیوں کو دکھایا گیا ہے غالباً یہ بھی کسی باطل مذہب کا ہی نشان ہے۔ اس کے بعد دو غیر معروف نشانات جو غالباً ہندوؤں کے لگتے ہیں اس سے آگے اوپر کو ہندؤوں کے ترنگے پرچم ایسا نشان ہے اور پھر اس کے اوپر چاند تارا ہے۔ اس کے اوپر زمین کی تصویر ہے اور اس کے اوپر گوہر شاہی کے نام نہاد دین الہٰی کی کتاب ہے۔ جس شخص نے بھی مرزا قادیانی مسیلمہ پنجاب کا لٹریچر پڑھا ہو گا وہی یہ دین الہٰی کتاب کا صفحہ نمبر 40 پڑھ کر فوراً مرزا قادیانی کے مشہور جھوٹ کو اپنے سامنے دیکھے گا۔ مرزا نے لکھا تھا میں نے دیکھا کہ میں گویا مریم ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھ سے قوت رجولیت (نعوذ باللہ نقل کفر کفر نبا شد) کا مظاہرہ کیا (یعنی جماع کیا) جس سے مجھے حمل ٹھہر گیا جس کی مدت دس ماہ سے زیادہ نہ تھی اور مجھ سے عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوا اور میں نے دیکھا کہ میں وہی ہوں، اب گوہر شاہی بچتے بچاتے بات ایسی ہی لکھ گئے ہیں۔ لکھتے ہیں 35 سال کی عمر میں 15 رمضان 1976 عیسوی کو ایک نطفہ نور قلب میں داخل کیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد تعلیم و تربیت کے لیے کئی مختلف مقامات پر بلایا گیا 15 رمضان 1985 عیسوی میں جبکہ آپ دنیاوی ڈیوٹی پر حیدر آباد مامور ہو چکے تھے وہی نطفہ نور طفل نوری کی حیثیت پا کر مکمل طور پر حوالے کر دیا گیا جس کے ذریعے دربارِ رسالت میں تاج سلطانی پہنایا گیا۔ طفل نوری کو بارہ سال کے بعد مرتبہ عطا ہوتا ہے لیکن دنیاوی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ مرتبہ 9 سال میں ہی عطا ہو گیا اور اب کچھ دنوں بیشتر ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ مجھ پر بھی وہی فرشتہ نازل ہونا شروع ہو گیا ہے جو کہ مرزا غلام احمد قادیانی پر نازل ہوتا ہے کیونکہ اس فرشتے نے مجھے اپنا نام ٹیچی ٹیچی بتایا ہے۔
اس کی کتاب دین الہٰی میں سے اس کی دیگر خرافات اور ان کی حقیقت ملاحظہ کیجیے۔ ‎صفحہ 8 پر سات جنتوں کے نام دیے ہیں حالانکہ جنتیں آٹھ ہیں اور دوزخیں سات ہیں۔ حضرت‎آدم علیہ السلام کو شنکر جی قرار دیا ہے، حالانکہ یہ خالصتاً ہندثو دیومالائی کردار ہے اور لکھا ہے کہ جنت کی مٹی سے ان کا جسم بنایا گیا ہے جبکہ اس کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ متصلاً بعد لکھا پھر روح انسانی کے علاؤہ کچھ اور مخلوقیں بھی اس میں ڈال دی گئیں۔ اس کا بھی انہوں نے کوئی حوالہ نہیں دیا اور نہ ہی ان مخلوقوں کی نشاندہی کی ہے۔ پھر لکھتا ہے جب آدم علیہ السلام کا جسم بنایا جا رہا تھا تو شیطان نے حسد سے تھوکا تھا جو کہ ناف کی جگہ پر گرا اور اس تھوک کے جراثیم بھی اس جسم میں شامل ہو گئے ہیں۔ بڑی عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور یہ کہتے ہیں کہ جب انہیں بنایا جا رہا تھا تو شیطان نے ان کی ناف پہ تھوکا۔ ان باتوں کا شریعت سے کوئی حوالہ نہیں دیا۔ اپنے پاس سے ہی یہ چیزیں انہوں نے لکھ دیں۔ پھر اسی پر بس نہیں۔ آگے بغیر کسی حوالے کے صفحہ نمبر 9 پر لکھا ہے کہ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایک ایک شیطان جن بھی پیدا ہوتا ہے۔ جسم تو صرف مٹی کا مکان تھا جس کے اندر 16 مخلوقوں کو بند کر دیا جبکہ خناس اور چار پرندے بھی ہیں واہ کیا کہنے یعنی ریاض احمد گوہر شاہی 16 مخلوقوں اور خناس اور چار پرندوں کے مرقع تھے۔ اب فیصلہ کیسے ہو کہ ریاض گوہر شاہی نے یہ جو بغیر حوالے کے باتیں لکھی ہیں خود کیں یا خناس کے زیر اثر یہ باتیں ہوئی ہیں۔ صفحہ 21 پر ہندوؤں کے ناگ دیوتا کے متعلق دیو مالائی کہانی ملاحظہ کریں
صفحہ 3 از 4