فتنہ گوہرشاہی - دورِ حاضر کے فتنے | دفاع اسلام

فتنہ گوہرشاہی

  ثناء اللہ خان احسن

صفحہ 2 از 4
پھر حیدر آباد سرے گھاٹ میں رہنے لگا، اپنے آپ کو سید ظاہر کیا جبکہ تھا مغل۔ سندھ کے لوگ چونکہ سید کے نام پہ مرتے ہیں، اس لیے اس کی کافی پذیرائی کی۔ یہیں سے شہرت ملی اور 1980 عیسوی میں اس نے کوٹری حیدر آباد، سندھ، خورشید کالونی سے ہی انجمن سرفروشانِ اسلام کی بنیاد ڈالی اور اپنے گمراہ کن عقائد کا پرچار شروع کیا۔ گوہریہ مذہب بہت خطرناک فتنہ ہے علماء اسلام اس کو دین سے خارج قرار دیتے ہیں۔ اس فرقے کا طریقہ واردات اس لحاظ سے بہت پر اسرار اور خطرناک ہے کہ نہ صرف اہلسنّت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں بلکہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان صاحبؒ کی اتباع اور عقیدت کا بھی دم بھرتا ہے فتنہ گوہر یہ اہلسنّت کو بد نام کرنے اور نوجوانوں کو راہِ حق سے بہکانے کے لیے اہلسنّت کا لیبل لگا کر مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ فتنہ گوہر شاہی اپنے آپ کو مسلک بریلوی سے تعلق منسلک کرتا ہے، اور اکثر بار دیکھنے میں آیا ہے کہ فتنہ گوہر شاہی کے پیروکار بریلوی مسلک کی مساجد میں ختم قرآن اور دیگر محفلوں کے مواقع پر طور نعت خواں فرائض انجام دیتے ہیں اور آخر میں عوام سے پیر اور مرشد کے ملفوظات پر مبنی یہ ملعون اور شیطان ریاض احمد لٹریچر ذکر کر کے سادہ لوح مسلمانوں کا ایمان لوٹتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ابتداء میں اس کی تعلیم اور اسم ذات اللہ کا ذکر قلبی و دیگر اعمال انتہائی پکے مسلمان کو بھی متاثر کیے بغیر نہیں رہتے۔ لیکن اس کے بعد جو دیگر خرافات و شرکیہ عقائد کا پرچار کیا جاتا ہے، وہ اس ذکر قلبی اور مراقبہ کے تمام روحانی فوائد پر پانی پھیر دیتا ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اس ملعون ریاض احمد گوہر شاہی کے نزدیک نماز اور درود شریف کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس کے گمراہ کن عقائد و نظریات اور باطل دعوے مندرجہ ذیل ہیں۔
اللہ کی توہین، استغفراللہ، نعوذ باللہ
اللہ مجبور ہے اور شہ رگ کے پاس ہوتے ہوئے بھی نہیں دیکھ سکتا ہے۔ مزید فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے معراج کے موقع پر حضرت علیؓ کی انگوٹھی اللہ کے ہاتھ میں دیکھی۔
انبیاء اکرام علیہم السلام کی توہین:
حضرت آدمؑ کو حسد اور شرارتِ نفس کا مریض قرار دینا، حضرت موسیٰؑ کی قبر کو جسدِ اطہر سے خالی اور شرک کا اڈا باور کرانا اور حضرت خضرؑ کو قاتلِ نفس گردانتے ہوئے ان کی توہین کرتا ہے۔ (روحانی سفر)
جعلی کلمہ:
کلمہ میں محمد رسول اللہﷺ کی جگہ اس ظالم نے گوہر شاہی رسول اللہ لکھوایا۔ ( حق کی آواز)
قرآن پاک کے بارے میں:
تیس پارے ظاہری قرآن پاک اور دس پارے باطنی ملا کر چالیس پارے ہوئے اور یہ ہم پر عبادات، ریاضات اور مجاہدات کے ذریعے منکشف ہوئے۔
(حق کی آواز: صفحہ، 54/52)
اسلام کے ارکان خمسہ کی توہین:
نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر عبادات میں روحانیت نہیں ہے، روحانیت کا تعلق دل کی ٹک ٹک سے ہے۔
(حق کی آواز: صفحہ، 3)
اسلام واحد راہ نجات نہیں ہے، اس ضمن میں لکھا ہے کہ روحانیت سیکھو، خواہ تمہارا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، اور جس نے روحانیت سیکھی چاہے اس نے کلمہ اسلام نہیں پڑھا، وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ (مینارئہ نور)
نیز لکھتے ہیں کہ عیسائی، ہندؤ، سکھ اور یہودی اگر روحانیت سیکھ لیں تو بغیر کلمہ پڑھے اللہ تک ان کی رسائی ہو سکتی ہے۔
(گوہر: صفحہ، 4 سرفروش پبلی کیشنز)
نشہ آور چیزوں کے حلال ہونے کے بارے میں لکھا ہے کہ بھنگ، چرس حرام نہیں، بلکہ وہ نشہ جس سے روحانیت میں اضافہ ہو حلال ہے خواہ مخواہ ہمارے عالموں نے حرام قرار دے دیا۔ (روحانی سفر)
عورتوں سے مصافحہ، معانقہ اور جسم دبوانا درست ہے، روحانی سفر میں انہوں نے خود ہی اپنے چلے میں مستانی سے ملاقات اور اس کے ساتھ شب باشی کی فحش روئیداد تحریر کی ہے۔(روحانی سفر: صحفہ، 32)
اور پھر عورتوں سے معانقہ و مصافحہ کو یہ کہتے ہوئے جائز قرار دیا ہے کہ مولویوں نے اس کو حرام کیا ہے۔
چاند اور حجرِ اسود میں شبیہ اور مہدی ہونے کا دعویٰ
انجمن سرفروشان اسلام کے حلقے میں یہ بات مشہور کر دی گئی کہ امام مہدی وہ ہوں گے جن کی شبیہ چاند پر نظر آئے گی۔ پھر اچانک پورے پاکستان میں یہ مشہور کر دیا گیا کہ گوہر شاہی کی شبیہ چاند پر نظر آ رہی ہے۔ پنجاب کے تعلیمی بورڈ کی جانب سے شائع کردہ تیسری جماعت کی اسلامیات کی کتاب کے سرورق پر شائع شدہ حجر اسود کی تصویر کو الٹا کر دیکھنے سے اس کے شیطانی ذہن مریدوں کو جانے کہاں سے اس میں گوہر شاہی کی شبیہہ نظر آ گئی کہ اس کا بے تحاشہ پروپیگنڈہ کیا گیا۔ اسی طرح چاند میں موجود سیاہ دھبے کو انتہائی بھونڈے طریقے سے جوڑ توڑ کر اسے گوہر شاہی کی شبیہہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح ہندوؤں کے شولنگ میں بھی گوہر شاہی کی شبیہ ظاہر ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ اس کے اس جھوٹ کی تردید اس وقت کے امامِ کعبہ شیخ محمد بن عبد اللہ نبیل نے بھی کی اور فرمایا کہ اس وقت پورے حرم میں حماد بن عبد اللہ نامی کوئی امام نہیں ہے، جس کا فرضی نام اس شخص نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے لیا تھا اور اس پر فتویٰ ارتداد بھی صادر فرمایا۔ آپ بھی تصاویر میں یہ نام نہاد شبیہات دیکھ کر اندازہ کر سکتے ہیں کہ گوہر شاہی اور اس کے مرید نفسیاتی مریض ہیں کیونکہ علم نفسیات میں بھی ایک بنیادی ٹیسٹ ہے کہ ایک کاغذ یا کپڑے پر روشنائی کا دھبہ مختلف افراد کو دکھا کر پوچھا جاتا ہے کہ ان کو اس دھبے میں کیا نظر آتا ہے اور ہر شخص اپنی سجھ اور میلان کے مطابق جوابات دیتا ہے۔
صفحہ 2 از 4