تحکیم کا مشہور واقعہ اور اس کا بطلان - ردِ رافضیت | دفاع…

تحکیم کا مشہور واقعہ اور اس کا بطلان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 5

عامر بن سعد سے مروی ہے کہ ان کا بھائی عمر بن سعد اپنے باپ سعد کے پاس گیا۔ اس وقت وہ مدینہ سے باہر اپنی بکریوں میں موجود تھے جب سعد رضی اللہ عنہ نے اسے آتے دیکھا تو کہنے لگے: میں اس قافلہ کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، جب وہ ان کے پاس گئے تو کہنے لگے: ابا جان! کیا آپ اپنی بکریوں میں ہی بادیہ نشین بن کر رہنے پر راضی ہو گئے ہیں جبکہ لوگ مدینہ میں حکومت و امارت کے لیے جھگڑ رہے ہیں؟ اس پر سعد رضی اللہ عنہ عمر کے سینے پر ہاتھ مار کر کہنے لگے: خاموش ہو جاؤ، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ’’اللہ تعالیٰ متقی، غنی، چھپ کر رہنے والے بندے سے محبت کرتا ہے۔

[المسند: ۱/۱۶۸، احمد شاکر فرماتے ہیں: اس کی سند صحیح ہے: (۳/۲۶) ۔ خلافۃ علی بن ابی طالب، از سلمی، ص: ۱۰۷.] 
 

اسم الكتاب: 
سیدنا معاویہ بن سفیان شخصیت اور کارنامے


صفحہ 5 از 5