تحکیم کا مشہور واقعہ اور اس کا بطلان - ردِ رافضیت | دفاع…

تحکیم کا مشہور واقعہ اور اس کا بطلان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 5

۵۔ جن شروط کا خلیفہ میں پایا جانا واجب ہے، مثلاً عدالت، علم، تدبیر مصالح اور اس کا قریشی ہونا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ ان تمام پر پورے اترتے تھے، تو اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کی بیعت منعقد ہوئی یا نہیں؟ اگر منعقد ہو گئی -اور اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے اس لیے کہ انصار و مہاجرین میں سے اہل حل و عقد نے ان سے بیعت کی تھی اور اس کا ان کے مدمقابل بھی اقرار کرتے تھے- تو معاویہ رضی اللہ عنہ کا گزشتہ قول اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جب امام امامت کی صفات سے عاری نہ ہو اور پھر اس سے عقد امامت کرنے والے اسے فسخ کرنا چاہیں تو ائمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انہیں اس بات کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، اس لیے کہ عقد امام لازم ہے اور بغیر کسی حقیقی سبب کے اس سے علیحدگی کا کسی کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ جب تک امامت وخلافت کے ساتھ قطعی لزوم نہ اپنایا جائے اس وقت تک وہ نہ تو منتظم ہوتی ہے اور نہ اس سے اصل مقصود حاصل ہوتا ہے۔ اگر امام کی قسمت کا فیصلہ رعایا کے ہاتھ میں دے دیا جائے تو پھر نہ تو اس کی کوئی اطاعت کرے گا اور نہ اسے رعایا پر کوئی قدرت ہی حاصل ہو گی اور اس طرح منصب امام کا کوئی مطلب ہی نہیں رہے گا۔

[غیاث الامم، ص: ۱۲۸۔ مرویات ابی مخنف، ص: ۴۱۰.]

دریں حالات مسئلہ کی اصل صورت حال وہ نہیں ہے جو روایات بتاتی ہیں کہ جو کوئی بھی امام سے راضی نہ رہے وہ اسے الگ کر دے، امامت کی گرہ لگانے والا ہی اسے کھول سکتا ہے، اور وہ ہیں اہل حل و عقد اور اگر امام شروط امامت پر پورا اترنے سے قاصر رہ جائے تو کیا علی رضی اللہ عنہ نے کوئی ایسا کام کیا؟ اور کیا اہل حل و عقد نے خلیفہ راشد کو خلافت سے علیحدہ کرنے پر اتفاق کیا یہاں تک کہ آگے بڑھ کر یہ کہا جائے کہ حکمین نے اس پر اتفاق کیا تھا؟ تو ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوا۔ ان کی وفات تک ان سے کسی ایسی چیز کا صدور نہیں ہوا جس سے ان کی بیعت کا نقض لازم آتا ہو۔ ان سے آخری دم تک صرف عدل و بر اور تقویٰ و خیر ہی کا ظہور ہوا۔

[الفصل فی الملل و الاہواء و النحل: ۴/۲۳۸.] 

۶۔ جس زمانہ میں واقعہ تحکیم متحقق ہوا وہ فتنہ کا زمانہ تھا اور خلیفہ کے باوجود مسلمانوں کی حالت اضطراب کا شکار تھی ایسے میں اگر خلیفہ کو معزول کر دیا جاتا تو ان کی حالت کا سدھار کس طرح ممکن تھا؟ یقینا اس سے حالات مزید بگڑ جاتے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایسے اصحاب دانش و بینش لوگوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اس بات کی طرف کوئی پیش قدمی کریں گے۔ اس سے اس رائے کا عقلاً اور نقلاً ہر دو طرح سے بطلان ہوتا ہے۔ 

۷۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے شوریٰ کے چھ ارکان میں خلافت کو منحصر کر دیا تھا اور جسے انصار و مہاجرین سبھی نے پسند بھی کیا یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ جب تک ان میں سے ایک شخص بھی باقی رہے گا خلافت اسے چھوڑ کر کسی اور کے پاس نہیں جائے گی، جبکہ ان میں سے تحکیم تک صرف سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہی باقی تھے مگر انہیں ولایت و امارت میں کوئی دلچسپی نہ تھی اور وہ اس سے کنارہ کش ہو گئے تھے۔ جبکہ عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد ان چھ میں سے افضل ترین علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ تھے اور وہی منصب خلافت پر فائز تھے پھر امر خلافت ان کے علاوہ اور کس کے پاس منتقل ہو سکتا تھا۔

[مرویات ابی محنف، ص: ۴۱۱.] 

۸۔ روایات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ اہل شام نے تحکیم کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی تھی۔ اس موقع پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہل شام کی طرف سے معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کرنے کا کیا جواز تھا؟ اگر ایسا تحکیم کی وجہ سے ہوا تو حکمین کا اس پر اتفاق نہیں تھا اور اس کا کوئی جواز بھی نہیں تھا۔ ابن عساکر ثقہ راویوں کی سند سے سعید بن عبدالعزیز تنوخی

[سعید بن عبدالعزیز تنوخی ثقہ امام ہیں (التقریب) .]

سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: عراق میں علی رضی اللہ عنہ کا دعویٰ تھا کہ وہ امیر المومنین ہیں جبکہ معاویہ رضی اللہ عنہ شام میں امارت کا دعویٰ کرتے تھے پھر جب علی رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے شام میں امیر المومنین ہونے کا دعویٰ کر دیا۔

[تاریخ طبری: ۶/۷۶.]

یہ نص اس بات کی دلیل ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ہی خلافت کی بیعت لی تھی۔ طبری کا بھی یہی مذہب ہے، وہ ۴۰ھ کے واقعات ذکر کرکے آخر میں فرماتے ہیں: اس سال ایلیاء کے مقام پر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت کی بیعت لی گئی۔

[تاریخ طبری: ۶/۷۶.]

اس پر ابن کثیر نے یہ تبصرہ کیا ہے: یعنی جب علی رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو اہل شام نے امیر المومنین کی حیثیت سے معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی اس لیے کہ ان کے نزدیک اب اس سے تنازع کرنے والا باقی نہیں رہا تھا۔

[البدایۃ و النہایۃ: ۸/۱۶.]

اہل شام اس امر سے بخوبی آگاہ تھے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ خلافت کے لیے علی رضی اللہ عنہ کے ہم پلہ نہیں ہیں اس لیے کہ ان کا علم و فضل، دین و ورع، شجاعت و بسالت، ان کا سابق الاسلام ہونا اور کئی دیگر فضائل سے متصف ہونا ان کے نزدیک معروف اور مسلم امر تھا۔ جیسا کہ ابوبکر، عمر، عثمان وغیرہم رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب سے بھی وہ بخوبی آگاہ تھے۔

[الفتاوی: ۳۵/۷۳.]

علاوہ ازیں شرعی نصوص بھی پہلے خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے خلیفہ کی بیعت سے منع کرتی ہیں، صحیح مسلم میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب دو خلفاء کی بیعت کی جا رہی ہو تو ان میں سے آخری کو قتل کر دو۔‘‘

[صحیح مسلم: ۳/۱۴۸۰.]

اس معنی میں بہت سی نصوص وارد ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف سے اس کی مخالفت کرنا امر محال ہے۔

[سنن بیہقی: ۸/۱۴۴.] 

صفحہ 3 از 5