تحکیم کا مشہور واقعہ اور اس کا بطلان - ردِ رافضیت | دفاع…

تحکیم کا مشہور واقعہ اور اس کا بطلان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 5

۳۔ ایک ایسی روایت بھی وارد ہے جو اِن روایات کے یکسر برعکس ہے اس روایت کو بخاری نے اپنی تاریخ میں ثقہ راویوں کی سند کے ساتھ مختصراً اور ابن عساکر نے طوالت کے ساتھ حصین بن منذر سے نقل کیا ہے، وہ بتاتے ہیں کہ مجھے معاویہ رضی اللہ عنہ نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور مجھ سے کہا: مجھ تک عمرو رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف سے کچھ باتیں پہنچی ہیں، مجھے ان سے پوچھ کر بتائیں کہ انہوں نے اس بارے میں کیا کہا؟ انہوں نے کہا: لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں، مگر و اللہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں ایسا ہوا کچھ نہیں ہوا۔ اصل بات یہ ہے کہ جب میں اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے تو میں نے ان سے کہا: اس معاملہ میں تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میری رائے میں یہ معاملہ ایسے لوگوں سے متعلق ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو آپ ان سے راضی تھے۔ میں نے ان سے پوچھا: آپ اس معاملہ میں مجھے اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو کہاں رکھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اگر اللہ تم سے کوئی خدمت لینا چاہے گا تو تم یقینا ایسا کر پاؤ گے لیکن اگر وہ تم سے بے نیاز رہا تو بسا اوقات اللہ کا امر تم سے مستغنی رہا ہے۔

[العواصم من القواصم، ص: ۱۷۸-۱۸۰.]

ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی پرہیز گاری، ان کے محاسبہ نفس، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی سیرت کو یاد کرنے اور ان کے بعد سر اٹھانے والے احداث و واقعات سے خوف کے بارے میں بہت سی باتیں روایت کی ہیں۔

ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھ سے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: و اللہ! اگر ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے لیے حلال ہونے کے باوجود اس مال کو ترک کیا تو وہ غلط نہیں تھے اور نہ وہ ناقص الرائے ہی تھے، ہمیں یہ وہم اور ضعف اپنی طرف سے ہی لاحق ہوا ہے۔
۴۔ معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ علی رضی اللہ عنہ کو ان پر فضیلت حاصل ہے اور یہ کہ وہ ان سے زیادہ خلافت کے حق دار ہیں، انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے نہ تو خلافت کا تنازع کیا اور نہ ان کی زندگی میں اپنے لیے اس کا ان سے مطالبہ کیا۔ یحییٰ بن سلیمان جعفی جید سند کے ساتھ

[فتح الباری: ۱۳/۸۶.]

ابو مسلم خولانی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ خلافت میں علی رضی اللہ عنہ سے تنازع کرتے ہیں یا آپ ان جیسے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، مجھے بخوبی علم ہے کہ وہ مجھ سے افضل ہیں اور مجھ سے خلافت کے زیادہ حق دار ہیں مگر کیا تم نہیں جانتے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کو ازراہِ ظلم قتل کیا گیا، اور میں ان کا عم زاد اور ولی ہوں اور اس حوالے سے ان کے خون کا مطالبہ کرتا ہوں، تم لوگ علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اگر وہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو ہمارے حوالے کر دیں تو میں ان کی اطاعت قبول کر لوں گا۔ اس پر وہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے بات کی مگر انہوں نے قاتلوں کو معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔

[سیر اعلام النبلاء: ۳/۱۴۰.]

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان اصل تنازع یہ تھا، تحکیم کا فیصلہ اس متنازع فیہ قضیہ کو حل کرنے کے لیے کیا گیا تھا، خلیفہ کو منتخب کرنے یا اسے معزول کرنے کے لیے نہیں کیا گیا تھا۔

[مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری، ص: ۴۰۹.]

اس حوالے سے ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس لیے جنگ کی کہ وہ سرزمین شام میں ان کے اوامر کے نفاذ سے انکاری تھے، حالانکہ وہ ایسے امام تھے جن کی اطاعت واجب تھی، معاویہ رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی افضلیت سے انکار نہیں کیا اور نہ کبھی خلافت پر اپنا استحقاق جتلایا لیکن ان کے اجتہاد نے انہیں اس نتیجہ پر پہنچایا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لینا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے سے مقدم ہے، ان کی رائے یہ تھی کہ میں اپنی عمر اور طاقت کی وجہ سے عثمان کے خون کا مطالبہ کرنے اور اس بارے بات کرنے کا عثمان رضی اللہ عنہ اور حکم بن ابو العاص کی اولاد سے زیادہ حق دار ہوں، ان کا یہ موقف درست تھا ان سے غلطی صرف یہ سرزد ہوئی کہ انہوں نے بیعت پر قصاص کو مقدم رکھا۔

[الفصل فی الملل و الاہواء و النحل: ۴/۱۶۰.]

طرفین میں اختلاف کی اس حقیقی تصویر کو سمجھنے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ جن روایات میں یہ بتایا گیا ہے کہ حکمین کو علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین اختلاف کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا وہ یقینا غلط ہیں۔ ان کا اختلاف نہ تو خلافت کے بارے میں تھا اور نہ اس بارے کہ ان دونوں میں سے خلافت کا زیادہ حق دار کون ہے؟ ان کا اختلاف صرف قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص لینے کے بارے میں تھا اور اس کا خلافت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اگر حکمین نے اس اساسی قضیہ کو پس پشت ڈال کر خلافت کے بارے میں فیصلہ کیا جیسا کہ تشہیر کردہ روایات میں بتایا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ نہ تو اصل نزاع کو سمجھ سکے اور نہ دعویٰ کے موضوع کا احاطہ کر سکے اور یہ بہت ہی بعید ہے۔

[تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: ۲/۲۲۵.] 

صفحہ 2 از 5