جاوید غامدی کے عقائد و نظریات کا اسلامی عقائد سے تقابلی…

جاوید غامدی کے عقائد و نظریات کا اسلامی عقائد سے تقابلی جائزہ

  یاسر رسول

صفحہ 3 از 3

"اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی مِلک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانوں سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ"۔ (القرآن ، سور نور، آیت 31)۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 31

"کئی انبیاء قتل ہوئے مگر کوئی رسول کبھی قتل نہیں ہوا"

متفقہ اسلامی عقیدہ

قرآن پاک سے ثابت ہے کہ بہت سے نبیوں اور رسولوں دونوں کو قتل کیا گیا۔ ملاحظ کیجئے 

"اور محمد تو بس ایک رسول ہیں، ان سے پہلے اور بھی رسول گزر چکے ہیں۔ پس اگر یہ وفات پا جائیں یا قتل ہو جائیں تو کیا تم اُلٹے پاؤں واپس چلے جاؤ گے اور جو کوئی بھی اُلٹے پاؤں واپس چلا جائے گا وہ اللہ کا کچھ بھی نقصان نہ کرے گا"۔ (آل عمران، 144)

"تو کیا جب کبھی کوئی رسول تمہارے پاس وہ چیز لے کر آیا تو تمہارے نفس کو پسند نہ آئی تو تم نے تکبر کی راہ اختیار کی۔ پھر بعض کو تم نے جھٹلایا اور بعض کو تم قتل کرتے تھے۔(سورہ البقرہ،87)۔ اس آیت سے واضع معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل کے ہاتھوں کئی رسول قتل ہوئے تھے۔

"بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کے پاس کئی رسول بھیجے۔ جب کبھی کوئی رسول انکے پاس وہ چیز لایا جو اُن کو پسند نہ آئی تو بعض کو وہ چھٹلاتے اور بعض کو قتل کر ڈالتے تھے"۔ (سورہ مائدہ 70)۔ اس آیت سے بھی معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل نے اللہ عزوجل کے بھیجے ہوئے کئی رسولوں کو قتل کیا تھا۔

"یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ پیش کرے جسے آگ کھا جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجیے کہ مجھ سے پہلے تمہارے پاس کئی رسول آئے، نشانیاں لے کر اور اس چیز کے ساتھ جسے تم کہہ رہے ہو، پھر تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟ اگر تم سچے ہو"۔(سورہ آل عمران، 183)۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 32

"عیسیٰ (علیہ السلام) وفات پاچکے ہیں"

متفقہ اسلامی عقیدہ

یاد رہے قادیانیوں کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں، غامدی نے بھی قادیانی نظریہ 'نئی تعبیر' کے ساتھ پیش کر دیا ہے۔ علماء اسلام کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ اٹھا لیے گئے۔ وہ قیامت کے قریب دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 33

"یاجوج ماجوج اور دجال سے مراد مغربی اقوام ہیں"

متفقہ اسلامی عقیدہ

یاجوج ماجوج اور دجال قرب قیامت کی دو الگ الگ نشانیاں ہیں۔ احادیث کی رو سے یاجوج ماجوج ایک قوم ہے جبکہ دجال ایک آنکھ سے کانا یہودی النسل شخص ہوگا۔ غامدی نے دونوں کو مغربی اقوام کہہ کر ثابت کردیا کہ اسے دین کی الف بے کا بھی نہیں پتا۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 34

"کھانے میں صرف چار چیزیں ہی حرام ہیں۔ خون، مردار، سؤر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ"

متفقہ اسلامی عقیدہ

ان کے علاوہ کھانے کی بہت سی اور چیزیں بھی حرام ہیں جیسے کتے اور پالتو گدھے کا گوشت وغیرہ۔ شاید غامدی خود کتے اور گدھے کھاتے ہوں گے کیونکہ ان کے نزدیک یہ حرام نہیں ہیں۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 35

"جہاد و قتال کے بارے میں کوئی شرعی حکم نہیں ہے۔ (یعنی جہاد جائز نہیں ہے)"

متفقہ اسلامی عقیدہ

اسلام میں جہاد ایک شرعی فریضہ اور اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ جس طرح قادیانیوں نے جہاد کا انکار کیا ٹھیک اسی طرح غامدی نے بھی من گھڑت تعبیریں کر کے جہاد و قتال کو اپنے جعلی اسلام سے سرے سے ہی نکال کر اپنے بیرونی آقاؤں کو خوش کیا۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 36

"کافروں کے خلاف جہاد کرنے کا حکم اب باقی نہیں رہا اور اب مفتوح کافروں سے جزیہ نہیں لیا جاسکتا"

متفقہ اسلامی عقیدہ

اصل دین اسلام میں جہاد کا حکم قیامت تک کے لیے ہے اور مفتوح کفار (ذمی قیدیوں) سے جزیہ لیا جاسکتا ہے۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 37

"جنگ کے بعد ملنے والے مال غنیمت پر مجاہدین کا کوئی ابدی حق نہیں ہے یہ اصلاََ اجتماعی مقاصد کے لیے خاص ہیں"

متفقہ اسلامی عقیدہ

اسلام میں مال غنیمت کا 5/4 (چار بائے پانچ) حصہ مجاہدین کا حق ہے جو ان میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 38

"قیامت کے قریب کوئی مہدی نہیں آئے گا"

متفقہ اسلامی عقیدہ

متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ امام مہدی (علیہ السلام) قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے اور مسلمانوں کو سربراہی کر کے دجال کے لشکر کے خلاف جنگ کریں گے۔ لیکن غامدی نے بھی قادیانیوں کی طرح امام مہدی (علیہ السلام) کے ظہور کا انکار کرکے قادیانی مذہب کو فروغ دیا ہے۔ 

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 39

" ہم جنس پرستی فطری ہے اس لیے جائز ہے"

متفقہ اسلامی عقیدہ

ہم جنس پرستی قبیح فعل اور گناہ کبیرہ ہے، اللہ عزوجل نے "قوم لوط" کو اسی ہم جنس پرستی کی وجہ سے اپنے عذاب سے تباہ و برباد کردیا تھا۔




 






 

 

 


صفحہ 3 از 3