جاوید غامدی کے عقائد و نظریات کا اسلامی عقائد سے تقابلی…

جاوید غامدی کے عقائد و نظریات کا اسلامی عقائد سے تقابلی جائزہ

  یاسر رسول

صفحہ 2 از 3

"اصحاب الفیل کو پرندوں نے ہلاک نہیں کیا تھا بلکہ وہ قریش کے پتھراؤ اور آندھی سے ہلاک ہوئے تھے۔ پرندے صرف ان کی لاشوں کو کھانے کے لیے آئے تھے"۔

متفقہ اسلامی عقیدہ

اللہ عزوجل نے اصحاب فیل پر ایسے پرندے بھیجے جو اپنی چونچوں میں کنکر لیکر آئے اور ابرہہ کے لشکر پر برسا کر انہیں تباہ و برباد کر دیا۔ اس واقعہ کا ذکر سورہ الفیل میں موجود ہے۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 10

"سنتیں صرف 27 ہیں"

متفقہ اسلامی عقیدہ

سنتیں ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 11

"ثبوت کے اعتبار سے سنت اور قرآن میں کوئی فرق نہیں۔ ان دونوں کا ثبوت اجماع اور عملی تواتر سے ہوتا ہے"

متفقہ اسلامی عقیدہ

ثبوت کے اعتبار سے سنت اور قرآن میں واضع فرق ہے۔ سنت کے ثبوت کے لیے علماء کا اجماع ضروری ہے جبکہ قرآن کے لیے اجماع شرط نہیں۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 12

"حدیث سے کوئی بھی اسلامی عقیدہ یا عمل ثابت نہیں ہوتا"

متفقہ اسلامی عقیدہ

احادیث سے بھی بیشمار اسلامی عقائد اور اعمال ثابت ہیں۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 13

"عورتیں بھی مردوں کی امامت کرسکتی ہیں"

متفقہ اسلامی عقیدہ

اسلام میں عورت مردوں کی امامت نہیں کرسکتی، یہ کام صرف قادیانی ہی کرسکتے ہیں اور شاید غامدی بھی قادیانیت کا نیا چہرہ ہے۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر14

"تیمم کا حکم پہلی اُمتوں میں بھی تھا"

متفقہ اسلامی عقیدہ

تیمم (پانی نہ ہونے پر پتھر سے وضو کرنے)کا حکم صرف اُمت مسلمہ کے ساتھ مخصوص ہے، پہلے کسی بھی اُمت میں تیمم کا رواج نہیں تھا نہ ہی کسی نبی یا رسول نے تیمم کا حکم دیا۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 15

"نماز کا کچھ حصہ غیر عربی(یعنی اپنی مادری زبان) میں بھی پڑھا جاسکتا ہے"

متفقہ اسلامی عقیدہ

علماء اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ پوری نماز صرف اور صرف عربی زبان میں ہی ادا ہوسکتی ہے۔ مقامی زبان سے نماز نہیں ہوگی۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 16

"شہید کی میت کو غسل دینا سنت ہے"

متفقہ اسلامی عقیدہ

شہید کی میت کو غسل دینا جائز نہیں۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ غامدی نے جو 27 سنتیں بیان کی تھیں ان میں یہ سنت شامل ہی نہیں۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 17

"زکوٰۃ کا نصاب مخصوص اور مقرر نہیں ہے۔"

متفقہ اسلامی عقیدہ

غامدی کا کہنا ہے کہ زکوٰۃ کا نصاب یعنی سال ہونے پر مال کا چالیسواں حصہ ادا کرنا مقرر نہیں جبکہ علماء السلام کا اتفاق ہے کہ زکوٰۃ کا نصاب مقرر ہے۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 18

"ریاست کسی بھی چیز کو ذکوۃ سے متشنیٰ قرار دے سکتی ہے"

متفقہ اسلامی عقیدہ

غامدی کا مطلب ہے کہ اگر ریاست کہہ دے کہ سونے پر زکوٰۃ نہیں ہوتی تو وہ اسلامی عقیدہ بن جائے گا اور سونے پر زکوٰۃ ادا نہ کرنے سے گناہ نہیں ہوگا۔جبکہ علماء دین کا اتفاق ہے کہ ریاست کسی بھی چیز یا شخص کو زکوٰۃ سے متشنیٰ نہیں کرسکتی۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 19

"بنو ہاشم (یعنی سید زادوں) کو زکوٰۃ دینا جائز ہے"

متفقہ اسلامی عقیدہ

قرآن و سنت سے ثابت ہے کہ نبی کے گھر والوں اور اہلِ بیت کی اولادوں یعنی سید زادوں (بنو ہاشم) کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر20

"اسلامی ریاست نماز اور زکوٰۃ کے سوا کسی اور دینی حکم کے نفاذ کے لیے قانون کی طاقت استعمال نہیں کرسکتی"

متفقہ اسلامی عقیدہ

علماء دین کا اتفاق ہے کہ اسلامی ریاست تمام دینی احکام کے نفاذ کے لیے پہلے اخلاقی طور پر اور پھر قانونی طاقت سے کام لے سکتی ہے۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 21

"حج اور عمرے میں سعی ضروری نہیں اس کے بغیر بھی حج اور عمرہ ہوسکتا ہے"

متفقہ اسلامی عقیدہ

سعی واجب (یا فرض) ہے اس کے بغیر حج یا عمرہ نہیں ہوتا۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 22

"طواف وداع ضروری نہیں ہے"

متفقہ اسلامی عقیدہ

طوافِ وداع واجب ہے۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 23

"قرآن کی رو سے کوئی شخص دو ایسی عورتوں کو بیک وقت اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا جو آپس میں پھوپھی بھتیجی یا خالہ بھانجی ہوں"

متفقہ اسلامی عقیدہ

یہ حکم سنت کی رو سے ہے قرآن کی رو سے نہیں۔ سنت کی رو سے حکم ہے کہ کوئی شخص ایسی دو عورتوں کو اپنے نکاح میں جمع نہیں رکھ سکتا جو آپس میں پھوپھی بھتیجی یا خالہ بھانجی ہوں۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 24

"قرآن کی رو سے بیوہ کو ایک سال تک نان و نفقہ دینا ضروری ہے"

متفقہ اسلامی عقیدہ

قرآن کا یہ حکم عورت کو وراثت میں اس کا حق دینے کے احکام نازل ہونے کے بعد منسوخ ہوچکا تھا۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 25

"اسلام میں موت کی سزا صرف دو جرائم (قتل نفس اور فساد فی الارض) پر دی جاسکتی ہے"

متفقہ اسلامی عقیدہ

علماء اسلام کا اتفاق ہے کہ اسلامی شریعت میں موت کی سزا بہت سے جرائم پر دی جاسکتی ہے۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 26

"شراب نوشی کی کوئی شرعی سزا مقرر نہیں ہے"

متفقہ اسلامی عقیدہ

اسلام میں شراب نوشی کی شرعی سزا ہے جو اجماع کی رو سے اسی کوڑے مقرر ہیں۔ غامدی کا شراب نوشی کی سزا کا انکار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان خوب شراب نوشی کرنا شروع کریں۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 27

"زانی کنوارا ہو یا شادی شدہ دونوں کی سزا صرف سو کوڑے ہیں"

متفقہ اسلامی عقیدہ

زانی کنوارا ہو تو سزا سو کوڑے ہے لیکن شادی شدہ ہو تو زانی کی سزا سنگسار کرنا ہے۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 28

"دیت کا قانون وقتی اور عارضی تھا، قتل خطاء میں دیت کی مقدار تبدیل ہوسکتی ہے ، عورت اور مرد کی دیت برابر ہے"

متفقہ اسلامی عقیدہ

اسلام میں دیت کا حکم اور قانون ہمیشہ کے لیے ہے، قتل خطاء میں بھی دیت کی مقدار کم یا تبدیل نہیں ہوسکتی جبکہ مرد اور عورت کی دیت بھی برابر نہیں ہے۔ عورت کی دیت مرد کی دیت سے آدھی ہے۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 29

"سؤر کی کھال ا ور چربی وغیرہ کی تجارت اور ان کا استعمال ممنوع نہیں یعنی جائز ہے"

متفقہ اسلامی عقیدہ

سؤر نجس العین جانور ہے، اس کی کھال اور دوسرے اجزاء کا استعمال یا تجارت کرنا اسلام میں حرام ہے۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 30

"عورت کے لیے دوپٹا پہننا شرعی حکم نہیں ہے"

متفقہ اسلامی عقیدہ

عورت کے لیے دوپٹہ اور اوڑھنی پہننے کا حکم قرآن پاک کی سورہ النور کی آیت نمبر 31 سے ثابت ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں اللہ عزوجل عورتوں کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے؛

صفحہ 2 از 3