کیا حسنین کریمین رضی اللہ عنہما،سلمان فارسی رضی اللہ عنہ،…

کیا حسنین کریمین رضی اللہ عنہما،سلمان فارسی رضی اللہ عنہ، مقدادرضی اللہ عنہ، ابوذررضی اللہ عنہ، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ،جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ،عمار بن یاسررضی اللہ عنہ، بلال حبشی رضی اللہ عنہ کی زندگی کے احوال نامعلوم ہیں؟

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 3

شیعہ: آج چودہ صدیوں بعد بھی ہم جانتے ہیں کہ حسن و حسین ع جنت کے سردار ہیں۔ ایسا کیا ہوا کہ جنت کے طلب گاروں نے سرداروں کو انتہائی اذیت کے ساتھ قتل کر دیا۔

اہلسنّت: اس سوال کا جواب تو تمہیں دینا چاہیے کیونکہ اصل قاتل تم اور تمہارے آباؤ اجداد ہی ہیں جنہوں نے شہید کیا پہلے خطوط لکھ کر کوفہ بلایا اور پھر ان کے دشمن بن کر شہید کر دیا۔

شیعہ: مؤرخ نے آخر ان تمام ہستیوں کو اتنا غیر اہم کیسے سمجھا کہ تاریخِ اسلام میں ان کا حصہ ایک صحابی جتنا بھی نہیں رکھا۔

اہلسنّت: جھوٹ ہے تمہارا۔ شرم آنی چاہیے،، یہ سب بزرگ ہمارے ایمان کا حصہ ہیں، ہاں تم لوگوں نے ان کو صحابی نہیں سمجھا اور سوائے تین کے باقی سب صحابہؓ کو مرتد کہتے ہو۔
شیعہ: کربلا اچانک نہیں ہوئی۔

اہلسنّت: ہاں بلکل ہمیں بھی معلوم ہے کئی عرصے تک آپ لوگ سیدنا حسینؓ کو خطوط لکھتے رہے کہ ہم آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں تب بہت سے صحابہ کرامؓ نے سیدنا حسینؓ کو آگاہ بھی فرمایا کہ یہ کوفی دھوکے باز ہیں ان کی باتوں میں مت آئیں مگر وہ آپ کے بے شمار خطوط اور اصرار دیکھ کر تمہارے پاس آئے اور تم مکار لوگوں نے ان کو بے دردی سے شہید کر دیا۔

شیعہ: ایک طویل نفرت تھی جو دلوں میں پنپ رہی تھی۔
جوں جوں وقت گزرتا گیا، نفرت بڑھتی رہی اور ہر ہستی کے بعد دوسری ہستی پر پہلے سے زیادہ ظلم ہوتا نظر آیا۔
اتنی نفرت کہ اس مقدس گھرانے کی مطہرات پر ظلم کرنے سے بھی نہ چوکے۔

اہلسنّت: تبرا بازی اور اصحابِ رسولﷺ کو گالی گلوچ کر کے نفرت پھیلانا آج تک آپ لوگوں کا شیوا ہے اور سب سے پہلے مسجد میں سیدنا عمرؓ کو شہید کرنے والا ابو لؤلؤ فیروز آج بھی آپ کا ہیرو ہے۔ 
یہ کلیہ تم نے اپنایا ہے اور ہر ایک کو تم نے شہید کیا اور آج تک ان مطہراتؓ کی سرِ عام بے عزتی کرتے ہو، خصوصاً ازواجِ مطہرات پر تو بہتان تک باندھنے سے باز نہیں آتے جن کی پاکیزگی کی گواہی قرآن نے دی،
پھر حضرت علیؓ کی اولاد کے ساتھ جو تمہارا سلوک آج تک ہے وہ سب جانتے ہیں،  سرِ عام سرِ بازار ان کی شبیہ کے طور پر کھلے بال، پراگندہ لباس عورتوں کو گھماتے ہو اور حبِ اہلبیت کا بھی دعویٰ کرتے ہو،  تف ہے تمہارے اوپر۔

شیعہ: چھ ماہ کے بچے کا سر کاٹنا بھی ثواب سمجھا گیا حالانکہ بدترین دشمن کے چھ ماہ کے بچے سے بھی کوئی دشمنی کا بدلہ لینے کا نہیں سوچتا۔

اہلسنّت: پہلی بات تو یہ کہ یہ بالکل جھوٹ ہے، اگر سچ بھی ہے میدان کربلا میں خانوادۂ حسینؓ کو شہید کرنے والے تمہارے ہی آباؤ اجداد تھے۔ اور آج تک چھ ماہ سے بھی کم عمر بچوں کے بغیر قصور بچوں کو کاٹ کاٹ کر دکھاتے ہو کہ ہاں یہ ہم نے ہی کیا ہے اور ہمارا ہی اتنا جگر ہے کہ ہم بے زبان بچوں پر ظلم کر سکتے ہیں۔

شیعہ: امت نے تو آل رسول پر ظلم کیا ہی تھا مگر مؤرخین نے ان سے کہیں زیادہ ظلم کیا کہ جن کے فضائل تھے، انہیں چھپایا جبکہ ان کے دشمنوں کے فضائل سے کتابیں سیاہ کیں۔

اہلسنّت: جن کو تم آل رسولﷺ کا دشمن کہہ رہے ہو کیا کبھی اہلبیت نے بھی ان کو اپنا دشمن کہا؟  اور جن کو تم دشمن کہہ رہے وہ اصحابِ رسولﷺ ہیں جو بالکل بھی دشمن نہیں یہی تم لوگوں کا اصل مقصد ہے آل رسولﷺ کی آڑ میں اصحابِ رسولﷺ کو برا بھلا کہنا۔
یہ تمام فضائل و مناقبِ اہلبیت صحابہ کرامؓ سے ہی مروی ہیں اور صحابہؓ کے فضائل بیان کرنے میں اہلبیتؓ کا بہت بڑا حصہ ہے،، قرآن نے ان کو رحماء بینھم فرمایا اور تم ان کو دشمن بتاتے ہو اور تصویر کا اصل رخ مسلمانوں سے چھپا کر ان کے ایمان کے بھی دشمن بنے ہوئے ہو۔

شیعہ: ابھی چند دن پہلے واقعہ مباہلہ کی یاد منائی گئی۔ اس واقعہ میں بنص قرآن پانچ ذواتِ مقدسہ میدان میں توحید کے گواہ بن کر پیش ہوئےاور قرآن مجید نے انہیں صداقت کی سند عطا کی۔

اہلسنّت: واقعہ مباہلہ ہوا ہی نہیں، آپ لوگ اپنا جھوٹ پھیلانے کے لیے قرآن پاک کا سہارا لے لیتے ہو۔ چند دن پہلے بھی اس کی حقیقت کھل کر ہم نے بتائی کہ اصل واقعہ کیا تھا۔ 

شیعہ: واقعہ مباہلہ کے کچھ مدت بعد ان پانچ ہستیوں میں بزرگ ترین ہستی کا وصال ہوا تو جنازے میں کتنے کلمہ گو تھے؟

اہلسنّت: یہ اشارہ آپ کا رسولﷺ کی طرف ہے کہ رسولﷺ کے جنازہ میں صحابہ کرامؓ نہیں تھے۔ جھوٹ بولنے پر شرم تو آتی نہیں تمہیں کیونکہ تمہارا 9/10 ایمان تو اسی جھوٹ سے مکمل ہوتا ہے۔
تمام صحابہؓ نے جنازہ پڑھا، ثبوت موجود ہے
اہلسنّت کتب:
1. طبقات ابن سعد: 14 روایات موجود ہیں۔
2. تاریخ ابن خلدون: جلد 2 صفحہ 171
3. البدایہ والنہایہ: جلد 5 صفحہ 361

شیعہ کتب:
4. شیعہ کتاب شرح شافی: صفحہ 26، 27
5. جلاء العیون: صفحہ 156
6. حیات القلوب: جلد 1 صفحہ 1022
7. ترجمہ مقبول: صفحہ 460
ان کے علاوہ بے شمار کتب میں لکھا ہے کہ تمام صحابہ کرامؓ نے رسولﷺ کا جنازہ پڑھا۔ ذرا اپنی کتب ہی پڑھ لیتے تو یہ جہالت بھی آپ کی ختم ہو جاتی مگر آپ کے ذاکروں نے ایسا گمراہی کا نشہ دے رکھا ہے کہ کبھی کتاب پڑھنے کی آپ کو توفیق ہی نہیں ہوئی۔

شیعہ: پھر 75 دن بعد اس گھر کا دوسرا جنازہ رات کی تاریکی میں اُٹھا اور چند مخلصین کی موجودگی میں بڑی خاموشی اور مظلومیت سے دفن کر دیا گیا اور نشانِ قبر تک مٹا دیا گیا جو آج تک نہ مل سکا۔ 

صفحہ 2 از 3