رسول اللہﷺ کے ساتھ میدان جہاد میں - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

رسول اللہﷺ کے ساتھ میدان جہاد میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

جب عمیر بن وہب اسلام لانے سے پہلے اور غزوہ بدر کے بعد رسول اللہﷺ کو قتل کرنے کی غرض سے مدینہ آئے تو سیدنا عمر بن خطابؓ مسلمانوں کی ایک جماعت میں غزوۂ بدر کے بارے میں بات کر رہے تھے، اور وہ لوگ اپنے بارے میں اللہ کے اعزاز و اکرام اور جو کچھ ان کے دشمنوں کے بارے میں اس نے انہیں دکھایا تھا اس کا ذکر کر رہے تھے۔ اچانک سیدنا عمرؓ کی نظر عمیر بن وہب پر اس وقت پڑی جب کہ وہ مسجد نبوی کے دروازے کے سامنے تلوار لٹکائے اپنی اونٹنی کو بٹھا رہا تھا۔ آپ نے آواز لگائی: یہ کتا اللہ کا دشمن عمیر بن وہب ہے، یہ کسی بری نیت ہی سے آیا ہے، اسی نے ہمیں نبرد آزمائی پر اُبھارا ہے اور بدر کے دن مشرکوں سے مقابلہ کے لیے اکٹھا کیا ہے۔ پھر آپ نبی کریمﷺ کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے نبی! یہ اللہ کا دشمن عمیر بن وہب ہے، جو تلوار لٹکائے ہوئے آیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ۔ سیدنا عمرؓ آگے بڑھے، اس کی تلوار کے پٹکے سے اس کی گردن لپیٹ دی اور اسے قید کر لیا اور وہاں موجود انصار سے کہا: اللہ کے رسول اللہﷺ کے پاس چلو اور وہاں بیٹھو، اور اس خبیث کے شر سے آپ کو آگاہ کرو، کیونکہ اس سے ہمیشہ خطرہ ہے۔ پھر آپ اسے لے کر رسول اللہﷺ کے پاس حاضر خدمت ہوئے۔ جب آپﷺ نے اس کو دیکھا کہ عمرؓ اس کی تلوار کے پٹکے سے اس کی گردن کو باندھے ہوئے لا رہے ہیں تو کہا: اے عمرؓ اسے چھوڑ دو، اور اے عمیر تم قریب آؤ، وہ قریب آیا اور کہا: صبح بخیر۔ اس کلمہ کے ذریعہ سے اہلِ جاہلیت ایک دوسرے کو تحیہ پیش کرتے تھے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

أَکْرَمْنَا اللّٰہُ بِتَحِیَّۃٍ خَیْرٌ مِّنْ تَحِیَّتِکَ یَا عُمَیْرُ، بِالسَّلَامِ، تَحِیَّۃُ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 3 صفحہ، 311)

ترجمہ: '’اے عمیر! اللہ نے ہمیں تمہارے تحیہ سے بہتر تحیہ یعنی السلام علیکم کے ذریعہ سے اعزاز بخشا ہے، یہ جنت والوں کا تحیہ ہے۔"

پھر آپﷺ نے فرمایا: اے عمیر! تم کس مقصد سے آئے تھے؟ اس نے کہا: قیدی کو آزاد کرانے کی نیت سے آیا تھا، جو آپ کے ہاتھوں میں ہے، آپ اس پر احسان کریں۔ آپﷺ نے فرمایا: پھر تمہاری گردن میں تلوار کیوں لٹک رہی ہے؟ اس نے کہا: اللہ ان تلواروں کا برا کرے، ان سے ہمیں کچھ فائدہ نہ ہوا۔ آپﷺ نے فرمایا: مجھے سچ سچ بتاؤ تم کس نیت سے آئے تھے؟ اس نے کہا: میں اسی (مذکورہ) مقصد سے آیا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا: بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم اور صفوان بن امیہ حِجْر میں بیٹھے تھے، ان سردارانِ قریش کے بارے میں تمہاری گفتگو ہوئی جو قلیب بدر میں ڈال دیے گئے، پھر تم نے کہا کہ اگر میں مقروض نہ ہوتا اور بال بچے نہ ہوتے تو میں جاتا اور محمد(ﷺ) کو قتل کر دیتا۔ چنانچہ صفوان بن امیہ نے تمہارے قرض اور بال بچوں کی ذمہ داری اس پر شرط پر قبول کر لی کہ تم مجھے قتل کر دو، اللہ تمہاری نیت سے واقف ہے۔ عمیر نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اے اللہ کے رسول! آپ جو آسمانی خبریں ہمیں سناتے تھے اور جو آپ پر وحی نازل ہوتی تھی ہم اسے جھٹلاتے تھے۔ اور آپ نے جو کہا یہ ایسا معاملہ جسے میرے اور صفوان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ اللہ کی قسم، اللہ نے آپ کو جو خبر دی میں اسے بخوبی جان گیا، پس شکر ہے اللہ تعالیٰ کا جس نے مجھے اسلام کی ہدایت دی، اور یہاں لایا۔ پھر آپ نے کلمۂ شہادت کا اقرار کیا۔ آپﷺ نے فرمایا:

فَقِّہُوْا أَخَاکُمْ فِیْ دِیْنِہٖ وَعَلِّمُوْہُ الْقُرْآنَ وَأَطْلِقُوْا أَسِیْرَہٗ۔

ترجمہ: ’’اپنے بھائی کو دین سکھاؤ، قرآن پڑھاؤ، اور اسے قید سے آزاد کر دو۔‘‘

چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ 

(صحیح السیرۃ النبویۃ: علی محمد محمد الصلابی: صفحہ، 259)

اس واقعہ سے حفاظت و سلامتی کے بارے میں سیدنا عمر بن خطابؓ کا ایسا بلند احساس ظاہر ہوتا ہے جس میں آپ منفرد تھے۔ آپ عمیر بن وہب کی آمد دیکھ کر چونک گئے اور خبردار کیا اور علی الاعلان کہا کہ یہ شیطان ہے، کسی بری نیت سے آیا ہے، کیونکہ آپ کے سامنے اس کے ماضی کے ریکارڈ موجود و معلوم تھا، وہ مکہ میں مسلمانوں کو تکلیف دیتا تھا، اسی نے غزوۂ بدر میں مسلمانوں سے جنگ لڑنے پر کافروں کو ابھارا تھا اور مسلمانوں کی تیاریوں کے بارے میں اس نے خود معلومات فراہم کی تھیں، اسی لیے آپ نے رسول اللہﷺ کی حفاظت کے اسباب کو فوراً اختیار کیا اور ایک طرف خود عمیر کی تلوار کے پٹکے کو سختی سے پکڑ لیا جو اس کی گردن سے بندھا ہوا تھا۔ اس طرح اسے رسول اللہﷺ پر حملہ آور ہونے کی نیت سے اس کی تلوار کو استعمال میں لانے کے ممکنہ خطرات کو بے کار کر دیا، اور دوسری طرف دیگر صحابہ کرامؓ کو رسول اللہﷺ کی حفاظت و نگرانی پر لگا دیا۔


صفحہ 2 از 2