واقعہ ایلاء - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

واقعہ ایلاء

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 9 از 10

مُوسَى بْنُ عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِیهِ، عَنْ أَبِی أُذَیْنَةَ الصَّدَفِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:وَشَرُّ نِسَائِكُمُ الْمُتَبَرِّجَاتُ

موسی بن علی بن رباح کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتمہاری سب سے بدترین عورت وہ ہے جوبے پردہ گھومتی پھرتی ہیں ۔

[ السنن الکبری للبیہقی ۱۳۴۷۸]

 

أَنَّ عَائِشَةَ رَضِیَ اللهُ عَنْهَا كَانَتْ إِذَا قَرَأَتْ هَذِهِ الْآیَةَ تَبْكِی حَتَّى تَبُلَّ خِمَارَهَا،وَذَكَرَ أَنَّ سَوْدَةَ قِیلَ لَهَا: لِمَ لَا تَحُجِّینَ وَلَا تَعْتَمِرِینَ كما یفعل أَخَوَاتُكِ؟ فَقَالَتْ: قَدْ حَجَجْتُ وَاعْتَمَرْتُ، وَأَمَرَنِی اللهُ أَنْ أَقِرَّ فِی بَیْتِی، قَالَ الرَّاوِی: فَوَاللهِ مَا خَرَجَتْ مِنْ بَابِ حُجْرَتِهَا حَتَّى أُخْرِجَتْ جِنَازَتُهَا

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جب آیت’’اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔‘‘ پڑھتیں تواس قدرروتیں کہ ان کادوپٹہ آنسوؤں سے بھیگ جاتا ،ام المومنین سودہ رضی اللہ عنہا نے پوچھااے عائشہ رضی اللہ عنہا !تواپنی دوسری بہنوں کی طرح حج وعمرہ کیوں نہیں کرتی؟توجواب دیاکہ میں نے حج وعمرہ کر لیا ہے اوراللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیاہے کہ میں اپنے گھرمیں ٹھیری رہوں ،راوی حدیث کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم!عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرے کے دروازے سے باہرنہ نکلتی تھیں حتی کہ ان کے جنازے نے ہی ان کوباہرنکالا۔

[ تفسیر القرطبی ۱۸۰؍۱۴]

اورنیکی اختیارکرنے کے متعلق فرمایاکہ اللہ کی یادکے لئے فرض نماز اور نوافل کا اہتمام کرو،اپنے مالوں سے مستحقین کوزکواة کے علاوہ بھی صدقہ وخیرات کیاکرو اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی بلاچوں وچرا تعمیل کرو،اے اہل البیت !اللہ نے تمہیں جن چیزوں کاحکم دیااورجن سے روکاہے اس کامقصد صرف یہ ہے کہ وہ تم سے گندگی،شراورناپاکی کودورکردے اورتمہیں خوب پاک کردےاورتمہارے گھروں میں جواللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں سنائی جاتی ہیں ان کویادرکھواوران پرعمل کرو،بیشک اللہ تعالیٰ باریک بین اورخبردارہے۔

أَفِی هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَیَّ، فَإِنِّی أُرِیدُ اللهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ،( أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَا تُخْبِرْ نِسَاءَكَ أَنِّی اخْتَرْتُكَ، فَقَالَ لَهَا النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:إِنَّ اللهَ أَرْسَلَنِی مُبَلِّغًا، وَلَمْ یُرْسِلْنِی مُتَعَنِّتًا)ثُمَّ خَیَّرَ نِسَاءَهُ كُلَّهُنَّ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ

یہ آیات مبارکہ سننے کے بعد ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فورا ًکہاکیا میں اس بات میں اپنے والدین سے مشورہ کروں ؟میں تواللہ اوراس کے رسول اوردارآخرت کواختیارکرتی ہوں ،اورام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا صدیقہ نے عرض کیااے اللہ کے رسول آپ یہ بات کسی اوربیوی کونہ بتائیں کہ میں نے آپ کواختیارکرلیاہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بیوی مجھ سے پوچھے گی میں اسے ضرور بتاؤں گاکیونکہ اللہ نے مجھے مبلغ ،معلم اورآسانی پہنچانے والابناکربھیجاہے ،اللہ تعالیٰ نے مجھے سختی اورتنگی میں ڈالنے والا بنا کر نہیں بھیجا ، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کرنے کے بعدآپ نے دوسری بیویوں ( ام المومنین سودہ رضی اللہ عنہا ، حفصہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا ) کوبھی اختیاردیااورسب ازواج نے وہی جواب دیاجوعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے دیاتھایعنی کسی نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کردنیاکے عیش وآرام کوترجیح نہیں دی۔

[ صحیح بخاری کتاب التفسیرسورة الاحزاب بَابُ قَوْلِهِ یَا أَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الحَیَاةَ الدُّنْیَا وَزِینَتَهَا فَتَعَالَیْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیلًا۴۷۸۵، وکتاب النکاح بَابُ مَوْعِظَةِ الرَّجُلِ ابْنَتَهُ لِحَالِ زَوْجِهَا۵۱۹۱، وکتاب الظلم بَابُ الغُرْفَةِ وَالعُلِّیَّةِ المُشْرِفَةِ وَغَیْرِ المُشْرِفَةِ فِی السُّطُوحِ وَغَیْرِهَا ۲۴۶۸، صحیح مسلم کتاب الطلاق بَابُ بَیَانِ أَنَّ تَخْیِیرَ امْرَأَتِهِ لَا یَكُونُ طَلَاقًا إِلَّا بِالنِّیَّةِ ۳۶۸۱، و بَابٌ فِی الْإِیلَاءِ، وَاعْتِزَالِ النِّسَاءِ عن عائشہ وعمر ۳۶۹۶، مسند احمد ۱۴۵۱۵،السنن الکبری للنسائی۹۱۶۴]

خط کشیدہ عبارتیں صرف صحیح مسلم میں ہیں ۔

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَیَّرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ، فَلَمْ یَعُدَّهَا عَلَیْنَا شَیْئًا

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیاردے دیاتھامگرہم نے آپ ہی کاانتخاب کیاتوآپ نے اسے کوئی چیز(طلاق وغیرہ)شمارنہیں کی۔

[ مسنداحمد۲۴۲۰۸]

إِنَّ الْمُسْلِمِینَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِینَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِینَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِینَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِینَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِینَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِینَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِینَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِینَ اللَّهَ كَثِیرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِیمًا ‎﴿٣٥﴾‏(الاحزاب)

صفحہ 9 از 10