واقعہ ایلاء - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

واقعہ ایلاء

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 8 از 10

امام لیث’’ سج دھج ۔‘‘ کی تفسیربیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں عورت کااپنے چہرے اورجسم کے محاسن کوظاہر کرنا سج دھج ہے ،ساتھ ساتھ اس کی نگاہوں سے حسن نظریعنی اشتیاق جھلکتاہو۔

[تفسیرالالوسی ۔روح المعانی۱۸۹؍۱۱]

وتَبَرَّجَتِ المرأَةُ: أَظهرت وَجْهَه

لسان العرب میں ہےعورت کااپنے چہرہ کوننگاکرناہی سج دھج ہے۔

[ لسان العرب۲۱۲؍۲]

چنانچہ قرآن مجید نےلفظ

 تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الأولَى

سابق دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔

سے واشگاف الفاظ میں بتلادیاکہ جہالت میں بے پردگی تھی اوراسلام میں پردہ ہے اور لغوی واصطلاح شریعت میں تَــبَرُّجَ کامعنی یہ سمجھ میں آیاکہ عورت اپنی زینت اور سنگھارکوجب غیرمحرموں کے سامنے کرکے آئے تووہ بے پردہ ہےچہ جائیکہ وہ گلے میں (دوپٹہ جوکہ زینت کوچھپانے کے لیے لیناتھا)جہالت وبے پردگی کاپھندابناکرگلی کوچوں اورسڑکوں بازاروں میں دندناتی پھرے ۔

چنانچہ فرمایااوراپنے گھروں میں جو تمہارے لئے زیادہ حفاظت اورسلامتی کامقام ہیں ٹک کررہواورامورخانہ داری سرانجام دو اور بغیرضروری حاجت کے گھرسے باہرنہ نکلو،

فَقَالَتْ:یَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ قِصَّتُكُنَّ كُلُّهَا وَاحِدَةٌ أَحَلَّ اللهُ لَكُنَّ الزِّینَةَ غَیْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایااے عورتو!تم سب کامعاملہ ایک ہی ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے زینت حلال کی ہے مگرتبرج کے بغیر۔

[ تفسیرابن ابی حاتم محققا ۱۴۸۴۹]

وَلَقَدْ دَخَلْتَ نَیِّفًا عَلَى أَلْفِ قَرْیَةٍ مِنْ بَرِیَّةٍ، فَمَا رَأَیْت نِسَاءً أَصْوَنَ عِیَالًا، وَلَا أَعَفَّ نِسَاءً مِنْ نِسَاءِ نَابُلُسَ، الَّتِی رُمِیَ فِیهَا الْخَلِیلُ عَلَیْهِ السَّلَامُ بِالنَّارِ، فَإِنِّی أَقَمْت فِیهَا أَشْهُرًا، فَمَا رَأَیْت امْرَأَةً فِی طَرِیقٍ، نَهَارًا، إلَّا یَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَإِنَّهُنَّ یَخْرُجْنَ إلَیْهَا حَتَّى یَمْتَلِئَ الْمَسْجِدُ مِنْهُنَّ، فَإِذَا قُضِیَتْ الصَّلَاةُ، وَانْقَلَبْنَ إلَى مَنَازِلِهِنَّ لَمْ تَقَعْ عَیْنِی عَلَى وَاحِدَةٍ مِنْهُمْ إلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى

ابن العربی رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھے ایک ہزارسے زائدبستیوں میں جانے کاموقع ملاہے، میں نے نابلس کی عورتوں سے زیادہ اپنے بچوں اوراپنی عزت وآبروکی حفاظت کرنے والی عورتیں نہیں دیکھیں ،نابلس وہ شہرہے جس میں ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کوآگ میں ڈالاگیاتھا،میں نے نابلس میں کئی مہینے قیام کیامیں نے جمعہ کے دن کے علاوہ دن کے وقت کسی راستے پرکبھی کوئی عورت نہیں دیکھی،نابلس کی عورتیں جمعہ کے روزنکلاکرتی تھیں حتی کہ پوری مسجدان سے بھرجایاکرتی تھی،اورجب نماز ادا ہو جاتی تووہ اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ آتیں اورپھراگلے جمعہ تک کوئی خاتون دکھائی نہ دیتی۔

[ احکام القرآن لابن العربی۵۶۹؍۳]

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِیهِ، عَن رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَرْأَة عَورَة وَإِنَّهَا ذَا خَرَجَتْ من بَیتهَا اسْتَشْرَفَهَا الشَّیْطَان وَإِنَّهَا لَا تكون أقرب إِلَى الله مِنْهَا فِی قَعْر بَیتهَا

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاعورت پردے کانام ہے اورجب یہ اپنے گھرسے نکلتی ہے توشیطان اس کوجھانکتاہے (ورغلاتا ہے ) اور اللہ تعالیٰ کے قریب اس وقت ہوتی ہے جب یہ اپنے گھرکے اندرہو۔

[ جامع ترمذی أَبْوَابُ الرَّضَاعِ بَابُ مَا جَاءَ فِی كَرَاهِیَةِ الدُّخُولِ عَلَى الْمُغِیبَاتِ۱۱۷۳،الترغیب والترھیب للمنذری۵۱۴]

 

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ،عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلاَّ كَانَ ثَالِثَهُمَا الشَّیْطَانُ

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکوئی مردکسی عورت کے ساتھ الگ ہوتوتیسراشیطان ہوتاہے۔

[ جامع ترمذی أَبْوَابُ الرَّضَاعِ بَابُ مَا جَاءَ فِی كَرَاهِیَةِ الدُّخُولِ عَلَى الْمُغِیبَاتِ۱۱۷۱،مسنداحمد۱۷۷]

 

لایفظ الْمَرْأَةُ الابیتھاأَوْ قَبْرِهَاأَوْ زَوْجُهَا

اورقدیم مقولہ ہےعورت کی حفاظت یاتوگھرکرسکتاہے یا قبر کر سکتی ہے یا خاوند کرسکتا ہے۔

عَنْ مَیْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، وَكَانَتْ خَادِمًا لِلنَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الرَّافِلَةِ فِی الزِّینَةِ، فِی غَیْرِ أَهْلِهَا، كَمَثَلِ الظُّلْمَةِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ، لَا نُورَ لَهَا

میمونہ بنت سعدجورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاوہ عورت جواپنی زینت میں نازسے اپنے اہل کے علاوہ چلتی ہے وہ اس تاریکی کی طرح ہے جوقیامت کوہوگی جس کانورنہیں ہوگا۔

[ المعجم الکبیر للطبرانی۷۰،جامع ترمذی أَبْوَابُ الرَّضَاعِ بَابُ مَا جَاءَ فِی كَرَاهِیَةِ خُرُوجِ النِّسَاءِ فِی الزِّینَةِ۱۱۶۷، كتاب الأمثال فی الحدیث النبوی لابی الشیخا الاصبھانی۲۶۵]

اور اگرکسی ضرورت سے نکلنابھی پڑے توجاہلیت کے دورکی طرح بناؤ سنگارکرکے ،خوشبولگاکربے پردہ جس سے تمہارا سر، بازواورچھاتی وغیرہ لوگوں کو دعوت نظارہ دے باہرنہ گھومتی پھروبلکہ بغیرخوشبولگائے ، سادہ لباس میں ملبوس اورباپردہ باہرنکلو ۔

عَنْ أَبِی هُرَیْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللهِ مَسَاجِدَ اللهِ، وَلَكِنْ لِیَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلَاتٌ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ کی بندیوں کواللہ کی مسجدوں (میں جانے)سے منع نہ کرولیکن انہیں زیب وزینت کے بغیرنکلناچاہیے۔

[ سنن ابوداود كِتَاب الصَّلَاةِ بَابُ مَا جَاءَ فِی خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسْجِدِ۵۶۵]

 

صفحہ 8 از 10