واقعہ ایلاء - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

واقعہ ایلاء

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 7 از 10

اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں ، اور اگر تمہاری مراد اللہ اور اس کا رسول اور آخرت کا گھر ہے تو (یقین مانو کہ) تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے بہت زبردست اجر رکھ چھوڑے ہیں ، اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو بھی کھلی بےحیائی (کا ارتکاب) کرے گی اسے دوہرا دوہرا عذاب دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت ہی سہل (سی بات) ہے، اور تم میں سے جو کوئی اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گی اور نیک کام کرے گی ہم اسے اجر (بھی) دوہرا دیں گے اور اس کے لیے ہم نے بہترین روزی تیار کر رکھی ہے، اے نبی کی بیویو ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو، اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو، اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوة دیتی رہو اوراللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو، اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اپنے نبی کی گھر والیو ! تم سے وہ (ہر قسم کی)گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے، اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور رسول کی جو احادیث پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ لطف کرنے والا خبردار ہے۔

ازواج مطہرات کی رفعت :اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !اپنی بیویوں سے کہو اگرتم دنیاکاعیش وآرام کی طرف مائل ہواوراس کے فقدان پرناراض ہوتومجھے تمہاری کوئی ضرورت نہیں تو آؤ میرے پاس جوسروسامان ہے وہ تمہیں بغیرکسی ناراضی اورسب وشتم کے دے کر آزادکر دیتاہوں ،لیکن اگرتم اللہ کی خوشنودی اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاچاہتی ہواورآخرت کےگھرکی انواع واقسام کی لازوال نعمتیں تمہارامطلوب ومقصودہے تو میرے ساتھ قناعت میں صبروشکرکے ساتھ زندگی گزارواورایسامطالبہ نہ کروجوآپ پرشاق گزرے ، توجان لواللہ نے تم میں سے نیکوکارعورتوں کے لئے بڑااجرتیارکررکھاہے ،لیکن اگرتم میں سے کسی نے اپنے مرتبہ سے گرا ہوا کوئی کام کیاتوتمہیں عذاب بھی دوگنادیاجائے گا ، اللہ کے لئے یہ مشکل کام نہیں ہے، اورجواللہ اوراس کے رسول کی اطاعت شعارہوں گی اورتھوڑایابہت عمل صالحہ اختیارکریں گی ہم انہیں دوگنااجر عظیم عطافرمائیں گے،اورہم نے ان کے لئے جنت کی عظیم لازوال نعمتیں تیارکررکھی ہے ،اے نبی کی بیویوں !نبی کی بیوی ہونے کی وجہ سے تمہاری حیثیت ومرتبہ عام عورتوں کاسانہیں ہے بلکہ تمہیں ایک امتیازی مقام حاصل ہے اس لئے تم امت کی مائیں ہو ،اور اسلامی معاشرے میں تمہارامقام بہت بلندہے (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی آوازمیں بھی فطری طور پر دلکشی،نرمی اورنزاکت رکھی ہے جومردکواپنی طرف کھینچتی ہے)اس لئے اگرکوئی مرد تم سے کوئی چیزلینے دینے یا دین کے بارے میں کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے آئے تو ان سے دھیمے،نرم لہجے اوررغبت دلانے والی نرم کلام سے گفتگوکرنے کے بجائے قصداً(درشت لہجے اوربداخلاقی سے نہیں )قدرے سخت لہجے میں بات کیاکرو ،ہوسکتاہے وہ مردجس کے دل میں روگ ہووہ تمہاری طرف مائل ہوجائے ،یعنی نرم لہجے سے بات کرنابھی فتنہ انگیزہےاورحکم فرمایا

 وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى۔

[۔الاحزاب۳۳]

اپنے گھروں میں ٹک کررہواورسابق دورجاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔

تَــبَرُّجَ باب تفعل کامصدرہے ،تبرجت الْمَرْأَة لغت میں اس وقت کہاجاتاہے جب عورت اجنبیوں کواپنی زینت اورمحاسن دکھلائے اورتبرجت السَّمَاء اس وقت کہاجاتاہے جب ستاروں کے ساتھ آسمان مزین ہوجائے اوربرج الشی کالغت میں معنی کسی چیز کا ظاہر ہونا اور بلندہوناہے اورالبرج کامعنی ستون،قلعہ،مینار،گنبدہے اورالبارجة بڑی جنگی کشتی کوکہتے ہیں اورمافلان الابارجة  کامعنی ہے فلاں شخص شریر ہے توخلاصہ کلام یہ نکلاکہ لغت میں  تَــبَرُّجَ کہتے ہیں عورت زیب وزیبائش کے ساتھ اس طرح غیرمحارم اوراجنبی لوگوں کے سامنے ظاہراوربلند ہوجس طرح ستون اورمحل ومیناروگنبدوقلعہ اورجنگی کشتی دورسے نظرآتے ہیں ،انسان کادل للچانے لگتاہے کہ کاش مجھے مل جائے اوراس کے دل میں شرارت اورہوس سی پیداہوتی ہے اور آخرکار دنیا اس کامطمع نظربن جاتی ہے اورپھردیوانوں کی طرح وہ دنیاکا پجاری بن جاتاہے اور دین کویکسرترک کرنے لگتا ہے۔

[ المعجم الوسیط۴۶؍۱]

 

أَنْ تُبْدِیَ الْمَرْأَةُ مِنْ زِینَتِهَا وَمَحَاسِنِهَا مَا یَجِبُ عَلَیْهَا سَتْرُهُ، مِمَّا تَسْتَدْعِی بِهِ شَهْوَةَ الرَّجُلِ

اصطلاح شریعت میں تبرج کہتے ہیں عورت اپنی اس زینت ومحاسن کوظاہر کرے جس کو چھپانااس پرواجب ہے تاکہ اس زینت ومحاسن کے ظہورکے ساتھ مردکی شہوت کو طلب اورللکاراجائے اورتاکہ اس کے ظہورسے مردکی شہوت کاابھرنالازم قرار پائے۔

[ فتح القدیر۳۲۰؍۴]

اورقرآن مجیدنے اسی تبرج سے منع کیاہے ،چنانچہ قدیم جاہلیت کے تبرج کے معنی میں علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے امام ومفسرمجاہد رحمہ اللہ کاقول نقل کیاہے

كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَخْرُجُ تَمْشِی بَیْنَ یَدَیِ الرِّجَالِ، فَذَلِكَ تَبَرُّجُ الْجَاهِلِیَّةِ

عورت اپنے گھرسے نکلتی اورمردوں کے آگے چلناشروع کردیتی تھی یہی جاہلیت کاتبرج ہے۔

[تفسیر عبدالرزاق۳۷؍۳]

 

وَالتَّبَرُّجُ: أَنَّهَا تُلْقِی الْخِمَارَ عَلَى رَأْسِهَا، وَلَا تَشُدُّهُ فَیُوَارِی قَلَائِدَهَا وَقُرْطَهَا وَعُنُقَهَا، وَیَبْدُو ذَلِكَ كُلُّهُ مِنْهَا، وَذَلِكَ التَّبَرُّجُ

اورمقاتل بن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’ سج دھج ۔‘‘ کامطلب یہ ہے کہ عورت اپنے دوپٹے کوسرپرلٹکالے اوراپنے ہار،اپنے جھمکے اوراپنے گلے کونہ چھپائے بلکہ ان سب چیزوں کو نمایاں کر دے اوریہ ہی سج دھج تھا۔

[ تفسیرابن ابی حاتم۲۶۴۲؍۸]

قال اللیث: ویقال تبرجت المرأة إذا أبدت محاسنها من وجهها وجسدها ویرى مع ذلك من عینها حسن نظر

صفحہ 7 از 10