واقعہ ایلاء - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

واقعہ ایلاء

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 6 از 10

ثُمَّ نَزَلَ نَبِیُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَنَزَلْتُ، فَنَزَلْتُ أَتَشَبَّثُ بِالْجِذْعِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا یَمْشِی عَلَى الْأَرْضِ مَا یَمَسُّهُ بِیَدِهِ،فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا كُنْتَ فِی الْغُرْفَةِ تِسْعَةً وَعِشْرِینَ،قَالَ:إِنَّ الشَّهْرَ یَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِینَ، فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَیْلَةً دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَبَدَأَ بِهَا فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: یَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ كُنْتَ قَدْ أَقْسَمْتَ أَنْ لاَ تَدْخُلَ عَلَیْنَا شَهْرًا، وَإِنَّمَا أَصْبَحْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِینَ لَیْلَةً أَعُدُّهَا عَدًّافَقَالَ:الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَیْلَةًفَكَانَ ذَلِكَ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِینَ لَیْلَة،قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى آیَةَ التَّخَیُّرِ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورمیں بالاخانہ سے اترے،میں توکھجورکے تنے کوپکڑتے ہوئے اترا اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح اترے گویابے تکلف زمین پرچل رہے ہوں ،آپ نے کسی چیز کو ہاتھ بھی نہ لگایا، میں نے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ انتیس دن بالاخانہ میں رہے(یعنی مہینہ ابھی پورانہیں ہوا)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامہینہ انتیس دن کابھی ہوتاہے، جب انتیس دن گزرگئے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے،انہوں نے کہااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے توقسم کھائی تھی کہ ایک مہینہ تک ہمارے پاس نہیں آئیں گے میں نے یہ دن گن گن کرکاٹے ہیں ابھی انتیس دن ہی ہوئے ہیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامہینہ انتیس دن کابھی ہوتاہے اوریہ مہینہ انتیس دن ہی کاہے، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اسی اثنامیں آیت تخییر نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کواختیار دے دیاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کر لیں یا دنیاکو۔

[ صحیح بخاری کتاب النکاح بَابُ مَوْعِظَةِ الرَّجُلِ ابْنَتَهُ لِحَالِ زَوْجِهَا ۵۱۹۱، صحیح مسلم کتاب الطلاق بَابٌ فِی الْإِیلَاءِ، وَاعْتِزَالِ النِّسَاءِ، وَتَخْیِیرِهِنَّ وَقَوْلِهِ تَعَالَى وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَیْهِ۳۶۹۱]

خط کشیدہ الفاظ صحیح مسلم میں ہیں ،دوہری لائن کے الفاظ صحیح بخاری میں ہے۔

أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَقَالَ:إِنِّی ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلا عَلَیْكِ أَنْ لا تَسْتَعْجِلِی حَتَّى تَسْتَأْمِرِی أَبَوَیْكِ ، وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَیَّ لَمْ یَكُونَا یَأْمُرَانِی بِفِرَاقِهِ،قَالَتْ:ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللهَ قَالَ

چنانچہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایامیں تم سے ایک معاملہ کے متعلق کہنے آیا ہوں ضروری نہیں کہ تم اس میں جلد بازی سے کام لو بلکہ اپنے والدین سے بھی مشورہ کرسکتی ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو جانتے تھے کہ میرے والدکبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کامشورہ نہیں دے سکتے، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایاپھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کافرمان ہے۔

‏ یَا أَیُّهَا النَّبِیُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا وَزِینَتَهَا فَتَعَالَیْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیلًا ‎﴿٢٨﴾‏ وَإِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنكُنَّ أَجْرًا عَظِیمًا ‎﴿٢٩﴾‏ یَا نِسَاءَ النَّبِیِّ مَن یَأْتِ مِنكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ یَسِیرًا ‎﴿٣٠﴾‏۞ وَمَن یَقْنُتْ مِنكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَا أَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ وَأَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیمًا ‎﴿٣١﴾‏ یَا نِسَاءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ ۚ إِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِی فِی قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا ‎﴿٣٢﴾‏ وَقَرْنَ فِی بُیُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْأُولَىٰ ۖ وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِینَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ إِنَّمَا یُرِیدُ اللَّهُ لِیُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیرًا ‎﴿٣٣﴾‏ وَاذْكُرْنَ مَا یُتْلَىٰ فِی بُیُوتِكُنَّ مِنْ آیَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِیفًا خَبِیرًا ‎﴿٣٤﴾‏(الاحزاب)

صفحہ 6 از 10