واقعہ ایلاء - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

واقعہ ایلاء

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 5 از 10

میں (خوشی کی وجہ سے)کہہ اٹھااللہ اکبر،پھرمیں نے کھڑے ہی کھڑےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوخوش کرنے کے لئے کہاکہ اے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کومعلوم ہے ہم قریش کے لوگ عورتوں پرغالب رہاکرتے تھے ، پھر جب ہم مدینہ منورہ آئے تویہاں کے لوگوں پران کی عورتیں غالب تھیں ،نبی اکرم یہ سن کرمسکرادیئے،پھرمیں نے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کومعلوم ہے میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مرتبہ گیاتھااوراس سے کہہ آیاتھاکہ اپنی سوکن کی وجہ سے جوتم سے زیادہ خوبصورت اورتم سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوعزیزہے،دھوکامیں مت رہنا،ان کااشارہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا،اس پرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مسکرادیئے،میں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومسکراتے دیکھا توبیٹھ گیا،

فَرَفَعْتُ بَصَرِی فِی بَیْتِهِ، فَوَاللهِ مَا رَأَیْتُ فِی بَیْتِهِ شَیْئًا یَرُدُّ البَصَرَ، غَیْرَ أَهَبَةٍ ثَلاَثَةٍ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ فَلْیُوَسِّعْ عَلَى أُمَّتِكَ، فَإِنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ قَدْ وُسِّعَ عَلَیْهِمْ وَأُعْطُوا الدُّنْیَا، وَهُمْ لاَ یَعْبُدُونَ اللهَ( قَالَ: فَابْتَدَرَتْ عَیْنَایَ،قَالَ:مَا یُبْكِیكَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ،قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللهِ، وَمَا لِی لَا أَبْكِی وَهَذَا الْحَصِیرُ قَدْ أَثَّرَ فِی جَنْبِكَ، وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ لَا أَرَى فِیهَا إِلَّا مَا أَرَى، وَذَاكَ قَیْصَرُ وَكِسْرَى فِی الثِّمَارِ وَالْأَنْهَارِ، وَأَنْتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَصَفْوَتُهُ، وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ) فَجَلَسَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مُتَّكِئًا( فَقَالَ:یَا ابْنَ الْخَطَّابِ، أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَنَا الْآخِرَةُ وَلَهُمُ الدُّنْیَا؟)فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ اسْتَغْفِرْ لِی

پھرنظراٹھاکرمیں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرکاجائزہ لیااللہ کی قسم !میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرمیں کوئی ایسی چیزنہیں دیکھی جس پرنظررکتی،سواتین چمڑوں کے(جووہاں موجودتھے) پس میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ سے اپنی امت پر رزق کی کشادگی کی دعا کیجیے ، فارس اور روم پر اللہ نے کشادگی دنیا میں ہی کر دی تھی لیکن بدبختی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بندگی ہی نہ کی،عسرت کایہ عالم دیکھ کرمیری آنکھیں بھرآئیں اورمیں رونے لگا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے ابن خطاب کیوں روتے ہو؟میں نے کہامیں کیسے نہ روؤں آپ رسول اللہ ہیں اوریہ آپ کی کل کائنات ہے ،چٹائی کے نشان بازوپرپڑگئے ہیں ، یہ فارس اورروم کے لوگ ہیں کہ پھلوں اور نہروں میں عیش کررہے ہیں ،ان کوخوب وسعت اورفراغی دی گئی ہے ، دنیاکی کونسی نعمت ہے جوانہیں نہ ملی ہوحالانکہ وہ (خالص)اللہ کی پرستش نہیں کرتے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے تھے یہ سنکرسیدھے بیٹھ گئے، اورفرمایا اے ابن خطاب !کیاتم اس بات پر راضی نہیں کہ ان کے لئے دنیاہواورتمہارے لئے آخرت ، میں نے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے استغفار کیجئے(کہ میں نے دنیاوی شان وشوکت کے متعلق یہ غلط خیال دل میں رکھا)

(فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ، مَا یَشُقُّ عَلَیْكَ مِنْ شَأْنِ النِّسَاءِ؟ فَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهُنَّ، فَإِنَّ اللهَ مَعَكَ، وَمَلَائِكَتَهُ، وَجِبْرِیلَ، وَمِیكَائِیلَ، وَأَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَالْمُؤْمِنُونَ مَعَكَ، قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّی دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَالْمُسْلِمُونَ یَنْكُتُونَ بِالْحَصَى، یَقُولُونَ: طَلَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ،فَأُخْبِرَهُمْ أَنَّكَ لَمْ تُطَلِّقْهُنَّ، قَالَ:نَعَمْ، إِنْ شِئْتَ ،فَلَمْ أَزَلْ أُحَدِّثُهُ حَتَّى تَحَسَّرَ الْغَضَبُ عَنْ وَجْهِهِ، وَحَتَّى كَشَرَ فَضَحِكَ، وَكَانَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ثَغْرًا، فَقُمْتُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَنَادَیْتُ بِأَعْلَى صَوْتِی، لَمْ یُطَلِّقْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ)

یہ کہہ کرمیں نے عرض کیااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو اپنی ازواج کے متعلق پریشان ہونے کی کیاضرورت ہے ،اگرآپ انہیں طلاق بھی دے دیں تواللہ اس کے فرشتے ، میں اورسیدناابوبکر رضی اللہ عنہ اورتمام مسلمان آپ کے ساتھ ہیں ،اے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !جب میں مسجدمیں داخل ہواتومسلمان کنکریاں الٹ پلٹ کررہے تھے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کوطلاق دیدی،کیامیں انہیں مطلع کردوں کہ آپ نے طلاق نہیں دی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااگرتم چاہو تو مطلع کردو،میں کچھ دیراورباتیں کرتے رہا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاغصہ بالکل زائل ہوگیا،آپ مسکرائے اور مسکراتے وقت اتنے اچھے معلوم ہوتے تھے کہ اتنے اچھے دوسرے لوگ مسکراتے وقت معلوم نہیں ہوتے (پھر میں واپس آگیا اور)مسجدکے دروازہ پرکھڑے ہوکراعلان کردیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کوطلاق نہیں د ی،

صفحہ 5 از 10