واقعہ ایلاء - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

واقعہ ایلاء

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 4 از 10

جَلَسْتُ مَعَهُمْ قَلِیلًا،ثُمَّ غَلَبَنِی مَا أَجِدُ،فَجِئْتُ المَشْرُبَةَ الَّتِی فِیهَا النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ(فَدَخَلْتُ، فَإِذَا أَنَا بِرَبَاحٍ غُلَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، قَاعِدًا عَلَى أُسْكُفَّةِ الْمَشْرُبَةِ)فَقُلْتُ لِغُلاَمٍ لَهُ أَسْوَدَ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ،فَدَخَلَ الغُلاَمُ فَكَلَّمَ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: كَلَّمْتُ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ،فَانْصَرَفْتُ حَتَّى جَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِینَ عِنْدَ المِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِی مَا أَجِدُ فَجِئْتُ فَقُلْتُ لِلْغُلاَمِ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ،دَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ،فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِینَ عِنْدَ المِنْبَرِ ثُمَّ غَلَبَنِی مَا أَجِدُ، فَجِئْتُ الغُلاَمَ فَقُلْتُ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَفَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَیَّ فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ

میں کچھ دیران لوگوں کے پاس بیٹھارہااس کے بعدمیری بے چینی نے مجھ پرغلبہ کیاتومیں نے سوچاکہ میں اس معاملہ کی تحقیق کروں ،میں بالاخانہ پرچڑھاجہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے، میں بالاخانہ پرگیاتومیں نے دیکھاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حبشی غلام رباح رضی اللہ عنہ دروازے کی چوکھٹ پربیٹھے ہوئے تھے ،میں نے ان سے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے لئے اندرآنے کی اجازت لے لو،غلام اندرگیا اورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگوکرکے واپس آگیا،اس نے مجھ سے کہاکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے لئے اجازت طلب کی لیکن آپ نے کوئی جواب نہیں دیاچنانچہ میں وہاں سے واپس چلا آیا اوران لوگوں کے پاس بیٹھ گئے جومنبرکے پاس بیٹھے ہوئے تھے،کچھ دیربعد میری بے چینی نے پھرمجھ پر غلبہ کیااورمیں پھربالاخانہ پرگیا اورغلام سے کہاعمر رضی اللہ عنہ لئے اجازت طلب کرو،رباح رضی اللہ عنہ پھر اندرگئے اورواپس آکرکہاکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا ذکر کیاتورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے،میں پھرواپس آگیااور منبر کے پاس جولوگ موجودتھے ان کے ساتھ بیٹھ گیا،کچھ دیرکےبعد پھر میری بے چینی نے مجھ پر غلبہ کیااورمیں بالاخانہ پرگیا اوررباح رضی اللہ عنہ سے کہا عمر رضی اللہ عنہ کے لئے اجازت طلب کرو،وہ اندرگئے اور پھرواپس آکرکہاکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا ذکر کیا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے،

(ثُمَّ رَفَعْتُ صَوْتِی، فَقُلْتُ: یَا رَبَاحُ، اسْتَأْذِنْ لِی عِنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّی أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ظَنَّ أَنِّی جِئْتُ مِنْ أَجْلِ حَفْصَةَ، وَاللهِ، لَئِنْ أَمَرَنِی رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بِضَرْبِ عُنُقِهَا)  فَلَمَّا وَلَّیْتُ مُنْصَرِفًا، قَالَ: إِذَا الغُلاَمُ یَدْعُونِی، فَقَالَ: قَدْ أَذِنَ لَكَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،فَدَخَلْتُ()فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِیرٍ، لَیْسَ بَیْنَهُ وَبَیْنَهُ فِرَاشٌ، قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِهِ، مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِیفٌ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْه، ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ: یَا رَسُولَ اللهِ، أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ؟فَرَفَعَ إِلَیَّ بَصَرَهُ فَقَالَ: لاَ

پھرمیں نے بلند آوازسے کہا شایدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ خیال ہے کہ میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے لئے(سفارش کرنے)آیاہوں ،اللہ کی قسم اگررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی گردن مارنے کاحکم دیں تومیں اس کی گردن مار دوں ،یہ کہہ کرواپس روانہ ہوا ہی تھا کہ یکایک غلام نے آوازدی اورکہانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کواجازت دے دی ہے میں اندرگیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناتہ بنداچھی طرح لپیٹ لیا،اس تہ بندکے علاوہ آپ کے پاس کوئی اورکپڑانہیں تھا،میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس بان کی چارپائی پرجس سے چٹائی بنی جاتی ہے لیٹے ہوئے تھے ،چٹائی پر کوئی بستروغیرہ نہیں تھابان کے نشان آپ کے پہلومبارک پرپڑے ہوئے تھے ،جس تکیہ پر آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے اس میں کھجورکی چھال بھری ہوئی تھی، میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، اورکھڑے ہی کھڑے عرض کیا اے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا آپ نے اپنی ازواج کوطلاق دے دی ہے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظرمبارک اٹھاکران کو دیکھا اور فرمایا نہیں ،

فَقُلْتُ: اللهُ أَكْبَرُ،ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ أَسْتَأْنِسُ: یَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ رَأَیْتَنِی وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا المَدِینَةَ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَتَبَسَّمَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،ثُمَّ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللهِ لَوْ رَأَیْتَنِی وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا: لاَ یَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ أَوْضَأَ مِنْكِ، وَأَحَبَّ إِلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یُرِیدُ عَائِشَةَ فَتَبَسَّمَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ تَبَسُّمَةً أُخْرَى، فَجَلَسْتُ حِینَ رَأَیْتُهُ تَبَسَّمَ

صفحہ 4 از 10