واقعہ ایلاء - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

واقعہ ایلاء

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 3 از 10

تواس نے کہاکہ میراجواب دیناتمہیں براکیوں لگتاہے اللہ کی قسم !نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی ان کو جواب دے دیتی ہیں اوربعض تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن رات تک الگ رہتی ہیں ،میں اس بات پرکانپ اٹھااورکہاکہ ان میں سے جس نے بھی یہ معاملہ کیایقیناًوہ نامرادہوگئی،پھرمیں نے اپنے کپڑے پہنے اور(مدینہ منورہ کے لئے)روانہ ہوا، پھرمیں ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھرگیااورمیں نے اس سے کہااے حفصہ رضی اللہ عنہا !کیاتم میں سے کوئی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایک دن رات تک غصہ رہتی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں (کبھی ایساہوجاتاہے)اس پر میں نے کہاکہ پھرتم نے اپنے آپ کوخسارہ میں ڈال لیااورنامرادہوئی ،کیاتمہیں  اس بات کاکوئی ڈرنہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ تم پرغصہ ہوجائے اور پھر تم تنہاہوجاؤگی،خبردار!نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبات نہ کیاکرواورنہ کسی معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوجواب دیاکرواگرتمہیں کوئی ضرورت ہوتومجھ سے مانگ لیا کرو ، تمہاری سوکن جوتم سے زیادہ خوبصورت ہے اورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوتم سے زیادہ پیاری ہے،ان کی وجہ سے تم کسی غلط فہمی میں مبتلانہ ہوجاناان کااشارہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا،

قَالَ عُمَرُ: وَكُنَّا قَدْ تَحَدَّثْنَا أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الخَیْلَ لِغَزْوِنَا، فَنَزَلَ صَاحِبِی الأَنْصَارِیُّ یَوْمَ نَوْبَتِهِ، فَرَجَعَ إِلَیْنَا عِشَاءً فَضَرَبَ بَابِی ضَرْبًا شَدِیدًا، وَقَالَ: أَثَمَّ هُوَ؟فَفَزِعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَیْهِ، فَقَالَ: قَدْ حَدَثَ الیَوْمَ أَمْرٌ عَظِیمٌ، قُلْتُ: مَا هُوَ، أَجَاءَ غَسَّانُ؟قَالَ: لاَ، بَلْ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَأَهْوَلُ، طَلَّقَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ،فَقُلْتُ: خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ، قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ هَذَا یُوشِكُ أَنْ یَكُونَ،فَجَمَعْتُ عَلَیَّ ثِیَابِی، فَصَلَّیْتُ صَلاَةَ الفَجْرِ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَشْرُبَةً لَهُ فَاعْتَزَلَ فِیهَا(قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: یَا بِنْتَ أَبِی بَكْرٍ، أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِی رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: مَا لِی وَمَا لَكَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ، عَلَیْكَ بِعَیْبَتِكَ)

سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ ان دنوں میں مدینہ منورہ اکثریہ چرچا تھا کہ(امیرشام) غسان مسلمانوں سے جنگ کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے ،میرے انصاری ساتھی اپنی باری کے دن مدینہ منورہ گئے ہوئے تھے اور رات گئے واپس لوٹے اورمیرے دروازہ پربڑی زورزورسے دستک دی اورکہاکہ کیاسیدناعمر رضی اللہ عنہ گھرمیں ہیں ؟میں گھبراکرباہرنکلا تو اس انصاری نے کہاآج توایک بڑاحادثہ ہو گیا،چونکہ غسان کاچرچاتھااس لئے میں نے پوچھا کیاغسان چڑھ آئے ہیں ؟انصاری نے کہانہیں اس سے بھی بڑااورخوفناک حادثہ ہوگیاہےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کوطلاق دے دی ہے، سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہاحفصہ رضی اللہ عنہا نقصان میں رہی اورنامرادہوگئی میں پہلے ہی سمجھ رہاتھاکہ بہت جلدایساہوجائے گا،صبح میں کپڑے پہن کرگھرسے روانہ ہوا اورنمازفجرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی ، نمازکے بعدنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانہ پرتشریف لے گئے اوروہاں تنہائی اختیارکرلی ،سیدناعمر رضی اللہ عنہ ازواج مطہرات کے حجروں کی طرف آئے توکیادیکھتے ہیں کہ ہر گھر میں رونا ہو رہا ہے اور ہر بیوی کے گھروالے اس کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں ،  میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں داخل ہوا اوران سے کہااے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی!تمہارایہ کیاحال ہوگیاہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینے لگی ہو،ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہاتم کومجھ سے اورمجھ کو تم سے کیامطلب تم اپنی گٹھڑی (ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا )کی خبرلو(یعنی اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا کوسمجھاؤمجھے کیانصیحت کرتے ہو)

وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَإِذَا هِیَ تَبْكِی،فَقُلْتُ: مَا یُبْكِیكِ أَلَمْ أَكُنْ حَذَّرْتُكِ هَذَا(وَاللهِ، لَقَدْ عَلِمْتِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، لَا یُحِبُّكِ، وَلَوْلَا أَنَا لَطَلَّقَكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ)أَطَلَّقَكُنَّ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ؟قَالَتْ: لاَ أَدْرِی( فَبَكَتْ أَشَدَّ الْبُكَاءِ)هَا هُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِی المَشْرُبَةِ،خَرَجْتُ فَجِئْتُ إِلَى المِنْبَرِ،فَإِذَا حَوْلَهُ رَهْطٌ یَبْكِی بَعْضُهُمْ(یَنْكُتُونَ بِالْحَصَى، وَیَقُولُونَ: طَلَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ)

میں وہاں سے اٹھ کرام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیاتو وہ رورہی تھیں ،میں نے کہااب کیوں تم رورہی ہو؟میں نے تمہیں پہلے ہی متنبہ کردیاتھا(کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نامناسب بات نہ کہنا)اللہ کی قسم تم جانتی ہوکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو(زیادہ)نہیں چاہتے اورمیں نہ ہوتاتوابھی تک تم کوطلاق دے چکے ہوتے،اچھایہ بتاؤ کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہامجھے معلوم نہیں ، پھر زارو قطار رونے لگیں ،میں نے پوچھارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کہاں ہیں ؟ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے بالاخانہ پرتنہاتشریف فرماہیں ،میں وہاں سے نکل کرمنبرکے پاس آیااس کے اردگردکچھ صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم بیٹھے تھے اوران میں سے بعض رو رہے تھے کنکریاں الٹ پلٹ کررہے تھے(جیسے کوئی بڑی فکراورترددمیں ہوتاہے)اورکہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کوطلاق دے دی ،

صفحہ 3 از 10