واقعہ ایلاء - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

واقعہ ایلاء

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 10

جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےسیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہونے کی اجازت چاہی اورلوگوں نے دیکھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پرجمع ہیں مگرکسی کواندرجانے کی اجازت نہیں ملی اورجب سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ کواجازت ملی تووہ اندرداخل ہوگئے، پھرسیدناعمر رضی اللہ عنہ آئے ان کوبھی اندرجانے کی اجازت مل گئی،جب سیدناعمر رضی اللہ عنہ اندرداخل ہوئے تو دیکھاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے ہیں اورآپ کے گردآپ کی ازواج مطہرات(اس وقت ام المومنین سودہ رضی اللہ عنہا ، عائشہ رضی اللہ عنہا ، حفصہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں تھیں ،ابھی زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح نہیں ہوا تھا ) خاموش اورغمگین بیٹھی ہوئی ہیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوچاکہ میں کوئی ایسی بات کروں جس سے آپ مسکرا دیں ، چنانچہ یہ سوچ کرانہوں نے کہااے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کاش آپ خارجہ کی بیٹی(ان کی بیوی)کودیکھتے کہ اگروہ مجھ سے خرچ مانگتی تومیں کھڑے ہوکراس کا گلا گھونٹتا، سیدناعمر رضی اللہ عنہ کی بات سنکررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرادیئے اور فرمایایہ سب میرے گردبیٹھی ہوئی ہیں اورمجھ سے خرچ مانگ رہی ہیں ،سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھے اورام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کاگلاگھونٹنے لگے،اورسیدناعمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اوراپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا کاگلاگھونٹنے لگے، اور دونوں کہنے لگے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوتنگ کرتی ہواوروہ چیزمانگتی ہوجوآپ کے پاس نہیں ہے،وہ دونوں کہنے لگیں اللہ کی قسم ہم وہ چیزآپ سے کبھی نہیں مانگیں گےجوآپ کے پاس نہ ہو،اس کے بعدسیدناابوبکر رضی اللہ عنہ وسیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے گئے،ان دونوں کے جانے کے بعد(کفرواسلام کی انتہائی کشمکش کے زمانے میں )ازواج مطہرات کے خرچہ کے تقاضے پرناراض ہوکررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک ماہ تک)ان کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی۔

[ صحیح مسلم کتاب الطلاق بَابُ بَیَانِ أَنَّ تَخْیِیرَ امْرَأَتِهِ لَا یَكُونُ طَلَاقًا إِلَّا بِالنِّیَّةِ ۳۶۹۰، مسند احمد ۱۴۵۱۵، السنن الکبریٰ للنسائی۹۱۶۴،السنن الکبری للبیہقی۱۳۲۶۸]

کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیر مبارک میں موچ آگئی تھی اس لئے آپ ایک بالاخانہ پررہائش پذیرہوگئے،

عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا، وَكَانَتْ انْفَكَّتْ قَدَمُهُ

انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کے پاس ایک مہینہ تک نہ جانے کی قسم کھائی تھی اور(ایلاء کے واقعہ سے پہلے پانچ ہجری میں )آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک میں موچ آگئی تھی۔

[ صحیح بخاری كِتَاب المَظَالِمِ وَالغَصْبِ بَابُ الغُرْفَةِ وَالعُلِّیَّةِ المُشْرِفَةِ وَغَیْرِ المُشْرِفَةِ فِی السُّطُوحِ وَغَیْرِهَا ۲۴۶۹]

سیدناعمر رضی اللہ عنہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قسم کے بارے میں کوئی خبر نہ ہوئی،وہ مدینہ منورہ کی بلندی پربنوامیہ بن زیدکے محلہ میں رہتے تھے۔

 قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَجَارٌ لِی مِنَ الأَنْصَارِ فِی بَنِی أُمَیَّةَ بْنِ زَیْدٍ، وَهُمْ مِنْ عَوَالِی المَدِینَةِ،وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَیَنْزِلُ یَوْمًا وَأَنْزِلُ یَوْمًا،فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ بِمَا حَدَثَ مِنْ خَبَرِ ذَلِكَ الیَوْمِ مِنَ الوَحْیِ أَوْ غَیْرِهِ، وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ،وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى الأَنْصَارِ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا یَأْخُذْنَ مِنْ أَدَبِ نِسَاءِ الأَنْصَارِ، فَصَخِبْتُ عَلَى امْرَأَتِی فَرَاجَعَتْنِی، فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِی

سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے فرمایامیں اورمیرے ایک انصاری پڑوسی جوبنوامیہ بن زیدسے تھے اورعوالی مدینہ میں رہتے تھے،ہم نے (عوالی سے)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے باری مقررکر رکھی تھی ،ایک دن وہ حاضری دیتے اور ایک دن میں ، جب میں حاضرہوتاتواس دن کی تمام خبریں جووحی وغیرہ سے متعلق ہوتیں لاتا (اور اپنے پڑوسی سے بیان کرتا)اورجس دن وہ حاضرہوتے تووہ بھی ایسے کرتے تھے، ہم قریشی لوگ اپنی عورتوں پرغالب تھے لیکن جب ہم ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے تویہ ایسے لوگ تھے جواپنی عورتوں سے مغلوب تھے،ہماری عورتوں نے بھی انصارکی عورتوں کاطریقہ سیکھناشروع کردیا،ایک دن میں نے اپنی بیوی کوڈانٹاتواس نے بھی میرا ترکی بہ ترکی جواب دیا، میں نے اس کے اس طرح جواب دینے پرناگواری کااظہارکیا،

قَالَتْ: وَلِمَ تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ؟ فَوَاللهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ لَیُرَاجِعْنَهُ، وَإِنَّ إِحْدَاهُنَّ لَتَهْجُرُهُ الیَوْمَ حَتَّى اللیْلِ،فَأَفْزَعَنِی ذَلِكَ وَقُلْتُ لَهَا: قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكِ مِنْهُنَّ، ثُمَّ جَمَعْتُ عَلَیَّ ثِیَابِی، فَنَزَلْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا: أَیْ حَفْصَةُ، أَتُغَاضِبُ إِحْدَاكُنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ الیَوْمَ حَتَّى اللیْلِ؟قَالَتْ: نَعَمْ،فَقُلْتُ قَدْ خِبْتِ وَخَسِرْتِ، أَفَتَأْمَنِینَ أَنْ یَغْضَبَ اللهُ لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَتَهْلِكِی؟ لاَ تَسْتَكْثِرِی النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَلاَ تُرَاجِعِیهِ فِی شَیْءٍ وَلاَ تَهْجُرِیهِ ، وَسَلِینِی مَا بَدَا لَكِ،وَلاَ یَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ أَوْضَأَ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یُرِیدُ عَائِشَةَ

صفحہ 2 از 10