واقعہ ایلاء - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

واقعہ ایلاء

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 10 از 10

بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ، مومن مرد اور مومن عورتیں ، فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرماں بردار عورتیں ، راست باز مرد اور راست باز عورتیں ،صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں ، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں ، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں ، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنی والی عورتیں ، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والیاں ، بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ،(ان سب کے) لیے اللہ تعالیٰ نے (وسیع) مغفرت اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔

عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ الأَنْصَارِیَّةِ، أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِیَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: مَا أَرَى كُلَّ شَیْءٍ إِلاَّ لِلرِّجَالِ وَمَا أَرَى النِّسَاءَ یُذْكَرْنَ بِشَیْءٍ؟ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآیَةَ {إِنَّ الْمُسْلِمِینَ وَالمُسْلِمَاتِ وَالمُؤْمِنِینَ وَالمُؤْمِنَاتِ} الآیَةَ.

ام عمارہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتی ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اورکہاکہ کیابات ہے اللہ تعالیٰ ہرجگہ مردوں سے ہی خطاب فرماتاہے عورتوں سے نہیں ،جس پریہ آیت’’بالیقین جو مرد اور جو عورتیں مسلم ہیں ، مومن ہیں ، مطیع فرمان ہیں ۔‘‘ نازل ہوئی۔

[ جامع ترمذی ابواب تفسیرالقرآن بَابٌ وَمِنْ سُورَةِ الأَحْزَابِ۳۲۱۱،مسنداحمد ۲۶۵۷۵، مستدرک حاکم ۳۵۶۰]

أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: قُلْتُ لِلنَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَنَا لَا نُذْكَرُ فِی الْقُرْآنِ كَمَا یُذْكَرُ الرِّجَالُ؟ قَالَتْ: فَلَمْ یَرُعْنِی مِنْهُ یَوْمَئِذٍ إِلَّا وَنِدَاؤُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، قَالَتْ: وَأَنَا أُسَرِّحُ شَعْرِی، فَلَفَفْتُ شَعْرِی، ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى حُجْرَةٍ مِنْ حُجَرِ بَیْتِی، فَجَعَلْتُ سَمْعِی عِنْدَ الْجَرِیدِ، فَإِذَا هُوَ یَقُولُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ: یَا أَیُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ یَقُولُ فِی كِتَابِهِ: {إِنَّ الْمُسْلِمِینَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} ، إِلَى آخِرِ الْآیَةِ، {أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِیمًا}

[ الأحزاب: 35]

ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہےوہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کیابات ہے ہماراقرآن مجیدمیں اس طرح ز کرنہیں ہوتاجس طرح مردوں کاذکرہوتاہے؟ ایک دن اچانک میں نے یہ دیکھاکہ آپ منبرپراعلان فرمارہے تھے میں اس وقت اپنے بالوں میں کنگھی کررہی تھی،میں نے اپنے بال سمیٹےاوراپنے گھرکے حجرے کی طرف نکلی،اورمیں نے آپ کے اعلان کوسننے کے لیے کان لگادیے،آپ منبرکے پاس فرمارہے تھے لوگو!بے شک اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں ارشاد فرماتا ہے’’ بالیقین جو مرد اور جو عورتیں مسلم ہیں ، مومن ہیں ، مطیع فرمان ہیں ، راست باز ہیں ، صابر ہیں ، اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ، صدقہ دینے والے ہیں ، روزہ رکھنے والے ہیں ،اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں ، اور اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے ۔‘‘ 

[ مسند احمد ۲۶۶۰۳، السنن الکبری للنسائی۱۱۳۴۱،تفسیرطبری۲۷۰؍۲۰]

ازواج مطہرات کے ذکر کے بعددوسری عورتوں کے بارے میں فرمایاکہ یہ انعامات صرف ام المومنین کے لئے ہی نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان مسلمان مروو عورتیں کے لئے بھی مغفرت اوراجرعظیم تیارکررکھاہے جوظاہری طورپرنہیں بلکہ خلوص نیت سے اسلام کی رہنمائی کوحق مانتے ہیں اورعملاًاطاعت کرتے ہیں ،جواپنے کردارو گفتار اور معاملات میں سچے ہیں ،کیونکہ سچ بولناایمان کی کی اورجھوٹ بولنانفاق کی نشانی ہے ،جس شخص نے سچ بولاوہ نجات پاگیا۔


بشکریہ البرھان آرگنائزیشن۔

یہ تحریر البرھان سائیٹ سے لی گئی ہے۔ 

لنک


صفحہ 10 از 10