حقیقت لولا علی لهلك عمر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حقیقت لولا علی لهلك عمر

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 2

عن ابي سفيان قال حدثني اشیاخ منا قالوا جاء رجل الى عمر ابن الخطابؓ فقال يا امير المؤمنينؓ اني غبت عن امرأتي سنتين فجئت و هي حبلىٰ فنشاور عمرؓ الناس في رجمها قال فقال معاذ بن جبلؓ ياامير المؤمنينؓ! ان كان لك عليها سبيل فليس لك على ما في بطنها سبيل فاتركها حتى تضع فتركها فولدت غلاما قد خرجت ثنياه. فعرف الرجل الشبه فيه فقال ابني ورب الكعبۃ فقال عمرؓ عجزت النساء ان يلدن مثل معاذؓ لولا معاذؓ لهلك عمرؓ. 

سنن الدارقطنی: صفحہ 322، جلد 3 تحت کتاب النکاح، طبع انصاری دہلی: المصنف لابن ابی شیبہ: صفحہ 88 جلد 15 تحت کتاب الحدود طبع کراچی کتاب السنن السعید بن منصور صفحہ 70)

مطلب یہ ہے کہ ابو سفیان کہتے ہیں کہ مجھے اپنے مشائخ نے بیان کیا ہے کہ ایک شخص حضرت عمرؓ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا اے امیر المومنینؓ میں اپنی زوجہ سے دو سال غائب رہا ہوں اور جب میں آیا ہوں تو وہ حاملہ ہے (فلہذا میری زوجہ سزا کے لائق ہے) تو حضرت عمرؓ نے دیگر صحابۂ کرامؓ سے اس عورت کے رجم کرنے کے بارے میں مشورہ کیا تو معاذ بن جبلؓ نے فرمایا امیرالمومنینؓ عورت کو رجم کرنے کا حق حاصل ہے مگر جو اس کے بطن میں ہے آپؓ کو اس کا اختیار حاصل نہیں۔ اسے وضع حمل تک ملتوی کر دیں۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اسے وضع حمل تک ملتوی کر دیا۔ پھر اس عورت نے ایک لڑکا جنا جس کے سامنے کے دانت نکل چکے تھے۔ بس اس شخص نے اس بچے میں اپنے مشابہت پائی اور کہنے لگا رب کعبہ کی قسم یہ بچہ میرا ہے۔ عمرؓ نے فرمایا کہ عورتیں معاذ بن جبلؓ جیسا شخص پیدا کرنے سے عاجز ہوچکی ہیں اور فرمایا 

لولا معاذؓ لهلك عمرؓ

 اگر معاذؓ نہ ہوتا تو عمرؓ ہلاک ہو جاتا۔
حاصل یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت معاذؓ کے مشورہ کو قبول کرتے ہوئے ان کے حق میں قدردانی اور عزت افزائی کے کلمات ذکر کیے۔ گویا کہ حضرت عمرؓ کی طرف سے حضرت معاذؓ کے حق میں یہ کلمات تشکر کے درجہ میں ہیں اور ساتھ ساتھ حوصلہ افزائی بھی اس میں مطلوب ہے اور باکمال شخصیات کے کلام کا انداز ایسا ہی ہوتا ہے۔

خلاصۂ کلام
حاصل کلام یہ ہے کہ دو چار لوگ اس مسئلہ کو حضرت عمرؓ کی لاعلمی اور نااہلیت قرار دے کر ان کے حق میں طعن و اعتراض پیدا کرتے ہیں۔ حالانکہ اس نوع کے کلمات کا ان حضرات سے صادر ہونا ان کے کمال انصاف پسندی اور قبول حق کے نشانات میں سے ہے اور منصفانہ کردار کی علامت میں سے ہے۔ اور اگر ان لوگوں کو حضرت عمر فاروقؓ کی لاعلمی اور مسائل دینی سے ناواقفی ظاہر ہونے پر اصرار ہے تو یہ چیز تو خود حضرت علیؓ سے ان  کے اپنے کلام سابق سے ثابت ہے۔ متعدد واقعات حضرت علیؓ سے منقول ہیں۔ جن میں ان سے لا علمی اور ناواقفی کا اقرار پایا جاتا ہے۔ جو کہ سابقہ سطور میں مختصراً بیان کیا گیا ہے۔ 

پھر اس معاملہ میں صرف عمرؓ کو ہی کیوں ہدف اعتراضات بنایا جاتا ہے؟؟؟ مقصد یہ ہے کہ اسلام کے لئے تمام علوم کا علم ہونا اور تمام امور سے واقف ہونا شرط خلافت نہیں۔ اس بارے میں بہتر طریقہ یہی ہے کہ ان دونوں اکابر ہستیوں کے بارے میں اس قسم کے اعتراضات نہ اٹھائے جائیں اور ان کے حق میں کف لسان کیا جائے۔ ایمان کی سلامتی اسی میں ہے۔

ادارہ دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ



صفحہ 2 از 2