جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کی روایت پر تحریف قرآن کے…

جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کی روایت پر تحریف قرآن کے الزام کی حقیقت

  وقاص علی

صفحہ 3 از 3

3.تیسرا یہ کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب قرآت کا اختلاف ہوا تھا جناب عثمان غنی علیہ السلام کی طرف سے ایک قرآت پر جب تمام امت کو جمع فرما دیا گیا تو اس کے بعد جنابِ عبداللہ بن عباس علیہ السلام سمیت کسی کا اعتراض سامنے نہیں آیا۔

4.تفسیر طبری کی روایت میں اوپر بتایا جا چکا ہے کہ جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام ور اور جناب ابی بن کعب علیہ السلام کی قرآت قرآن مجید ایک ہی ہے یہ سب بھی قرآت کا ہوا نہ کہ تحریف کا۔

ایک یہ بھی قرینہ ہے کہ جناب عثمان غنی علیہ السّلام کی طرف سے اس معاملے کے حل کے بعد جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام نے اور جناب ابی بن کعب علیہ السلام نے بھی اسی قرآت پر اتفاق کر لیا تھا جو بقیہ اصحاب رسول کی تھی ۔

 جواب چہارم۔

جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کی طرف سے قرآت کا اختلاف ہو یا بقیہ اصحاب رسول کی طرف سے اختلاف ہو ان حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تعلیمات موجود ہیں کہ اختلاف کی صورت میں خلفائے راشدین کے عمل پیروی کی جائے گی اس پر حدیث ملاحظہ فرمائیں۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ:‌‌‌‏ وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَعْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ رَجُلٌ:‌‌‌‏ إِنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، ‌‌‌‌‌‏فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‌‌‌‏    أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، ‌‌‌‌‌‏وَالسَّمْعِ، ‌‌‌‌‌‏وَالطَّاعَةِ، ‌‌‌‌‌‏وَإِنْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ يَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، ‌‌‌‌‌‏وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّهَا ضَلَالَةٌ، ‌‌‌‌‌‏فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَعَلَيْهِ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، ‌‌‌‌‌‏عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ   ،‌‌‌‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‌‌‌‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‌‌‌‏ وَقَدْ رَوَى ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، ‌‌‌‌‌‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں نماز فجر کے بعد ایک موثر نصیحت فرمائی جس سے لوگوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں اور دل لرز گئے، ایک شخص نے کہا: یہ نصیحت ایسی ہے جیسی نصیحت دنیا سے ( آخری بار ) رخصت ہو کر جانے والے کیا کرتے ہیں، تو اللہ کے رسول! آپ ہمیں کس بات کی وصیت کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں تم لوگوں کو اللہ سے ڈرتے رہنے، امیر کی بات سننے اور اسے ماننے کی نصیحت کرتا ہوں، اگرچہ تمہارا حاکم اور امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ تم میں سے آئندہ جو زندہ رہے گا وہ ( امت کے اندر ) بہت سارے اختلافات دیکھے گا تو تم ( باقی رہنے والوں ) کو میری وصیت 

ہے کہ نئے نئے فتنوں اور نئی نئی بدعتوں میں نہ پڑنا، کیونکہ یہ سب گمراہی ہیں۔ چنانچہ تم میں سے جو شخص ان حالات کو پالے تو اسے چاہیئے کہ وہ میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر قائم اور جمار ہے اور میری اس نصیحت کو اپنے دانتوں کے ذریعے مضبوطی سے دبا لے“۔ ( اور اس پر عمل پیرا رہے ) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ثور بن یزید نے بسند «خالد بن معدان عن عبدالرحمٰن بن عمرو السلمي عن العرباض بن سارية عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔

 جامع ترمذی جلد اول رقم حدیث نمبر 2676

 سنن ابی داؤد رقم حدیث نمبر 4607

  مسند احمد رقم حدیث نمبر 16692

 جواب پنجم۔

اول کہ تستانسوا قرآت متواترہ ہے۔ اور متواتر کے مقابل خبر واحد یا شاذ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

دوسرا یہ کہ تستاذن اور تستانس ہم معنی ہیں۔ سیدنا عمر فاروق اعظم علیہ السلام نے نبی کریم صلی الله علیه وسلم سے یوں اجازت طلب کی أستأنس يا رسول الله. تو ظاہر ہے پھر یہ حروف سبعه کے معنی میں ہے جیسے صحابه کرام رضوان الله علیہم اجمعین نے اس کی تشریح یوں بھی کی کہ مترادفات کے ساتھ پڑھنا جیسے کہا جائے هلم يا أقبل يا تعال يا إلي يا نحوي يا قصدي. تو ایک ہی بات مترادف الفاظ سے کہنا۔ تو ممکن ہے کہ جناب عبدالله بن عباس علیہ السلام اپنی قرآت کو اس سے بہتر سمجھتے ہوں۔

تیسرا  یہ ہے کہ خود جناب عبد الله بن عباس علیہ السلام نے بھی استئناس کی تفسیر استئذان سے کی ہے۔ لہذا تحریف کا پوائنٹ ہی خارج از امکان ہے۔ اور ان روایات میں نہ تو تحریف کا لفظ ہے نہ اس کے ہم معنی بلجزم کسی کاتب کی طرف سے قرآن مجید میں تبدیلی یا اضافے وغیرہ کے الفاظ ہیں جس کی وجہ سے اس کو تحریف قرآن والے معاملے میں سرے سے پیش ہی نہیں کیا جاسکتا یہ اور بات ہے کہ امامیہ ایسی بے وقعت اخبار سے حقانیت قرآن مجید کو مشکوک بنانا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ امامیہ کے مطابق قرآن مجید میں تحریف کی چاروں صورتیں یعنی اضافہ نقصان تغیر تبدل درجہ تواتر میں ثابت ہیں اور یہ روایات درجہ تواتر میں امامت کی روایات سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں۔ تفصیل فصل الخطاب جیسی ضخیم کتاب ہے۔ جبکہ اس کے مقابل اہل سنت کے ہاں قرآن مجید ہی تواتر میں سب سے اعلیٰ ہے۔ باقی تمام اخبار اس کے بعد ہیں۔ اور اس جیسے شاذ اقوال تو کسی خبر واحد صحیح کے سامنے کچھ حیثیت نہیں رکھتے کجا کہ اس کو متواتر قرات کے خلاف بطور ثبوت لایا جائے۔


 



مصنف کا یوٹیوب چینل 

لنکmail


صفحہ 3 از 3