زمانۂ جاہلیت کی زندگی - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

زمانۂ جاہلیت کی زندگی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

سیدنا عمرؓ تجارت میں مشغول ہوئے اور اس سے خوب فائدہ اٹھایا، اسی تجارت نے ان کو مکہ کے مالداروں میں شامل کر دیا۔ تجارت کی غرض سے آپ نے جن شہروں کی زیارت کی وہاں سے متعدد معلومات حاصل کیں۔ موسم گرما میں شام اور سرما میں یمن کا سفر کیا اور جاہلیت کی مکی زندگی میں اپنا نمایاں مقام بنا لیا اور بڑے زور شور کے ساتھ اس کے معاملات میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ کے بزرگ اجداد کی تاریخ نے آپ کی ہمت افزائی کی، آپ کے دادا نفیل بن عبد العزیٰ قریش کے ان لوگوں میں سے تھے جن کے پاس لوگ فیصلے لے کر آتے تھے۔ جب کہ آپ کے بڑے دادا کعب بن لؤی عربوں میں بلند مقام و مرتبہ والے اور صاحب حیثیت تھے۔ مؤرخین نے آپ کی تاریخ وفات عام الفیل بتائی ہے۔ سیّدنا عمرؓ نے یہ اہم مقام اپنے آباؤ اجداد سے وراثت میں پایا تھا۔ اسی مقام و مرتبہ نے ان کو تجربہ، عقلمندی اور عربوں کی تاریخ کی معرفت سے نوازا۔ جب کہ آپ کی دانش مندی اور ذہانت کا کچھ کہنا ہی نہیں۔ عرب کے لوگ اپنے جھگڑوں کو ختم کرانے کے لیے آپ ہی کے پاس آتے۔ ابن سعد فرماتے ہیں '’سیدنا عمرؓ اسلام لانے سے پہلے عربوں میں ان کے جھگڑوں کا فیصلہ کرتے تھے۔‘‘ 

(الفاروق مع النبی: صفحہ، 6)

آپ صاحب حکمت ودانش، بلیغ، عمدہ رائے والے، طاقتور، بردبار، شریف، دلیل میں پختہ اور گفتگو میں واضح الکلام تھے۔ ان خوبیوں نے آپ کو اس لائق بنا دیا کہ آپ دوسرے قبائل سے فخر و مباہات یا نفرت و تحقیر میں قریش کی جانب سے سفیر قرار پائے۔ 

(التاریخ الاسلامی العالم: علی حسن ابراہیم: صفحہ، 226، الادارۃ الاسلامیۃ فی عہد عمر بن الخطاب: صفحہ، 90)

ابن الجوزی کا بیان ہے: سیدنا عمر بن خطابؓ کے ذمہ سفارت کا منصب تھا۔ اگر قریش اور دیگر قبائل میں لڑائی چھڑ جاتی تو وہ آپ کو سفیر بنا کر بھیجتے۔ یا ان (قریش) کو اگر کوئی نفرت دلانے والا نفرت دلاتا، یا فخر کرنے والا فخر کرتا تو قریش آپ کو نفرت دلانے اور فخر و مباہات جتانے کے لیے اپنا سفیر بنا کر بھیجتے، اور آپ سے وہ سب خوش رہتے۔ (عمر بن الخطاب: حیاتہ: علمہ: ادبہ: علی احمد الخطیب: صفحہ، 153)

قریش کا جو بھی رسم و رواج، عبادتیں اور نظام زندگی ہوتا اس کی طرف سے آپ دفاع کرتے، آپ دل کے ایسے مخلص تھے کہ جس بات پر یقین کر لیتے اس کی طرف سے دفاع کرنے میں جان کھپا دیتے۔ یقین کی بنیاد پر دفاع کرنے والی اسی طبیعت و مزاج کی سختی کی وجہ سے سیدنا عمرؓ نے اسلامی دعوت کے بالکل ابتدائی مرحلے میں اس کی جم کر مخالفت کی، اور انہیں خوف محسوس ہوا کہ کہیں یہ دین، مکی نظام کی بنیادیں نہ ہلا دے، جو بہت ہی مستحکم ہے۔ اور جس نے مکہ کو عربوں میں ایک خاص مقام دیا ہے۔ اس مکہ میں وہ گھر ہے جس کی زیارت کے لیے لوگ آتے ہیں۔ اور پھر قریش کو اسی نے دیگر عربوں میں ایک نمایاں حیثیت دی ہے۔ اسی وجہ سے مکہ روحانی و مادی دولت سے مالا مال ہے۔ اور یہی مکہ کی روز افزوں ترقی اور اس کے سرداروں کی مال داری کا اصل سبب ہے۔ چنانچہ اسی وجہ سے سردارانِ مکہ نے دین اسلام کی بہت مخالفت کی، اور اس پر ایمان لانے والے کمزور لوگوں کو بہت ستایا، ان کمزوروں پر ظلم ڈھانے میں سیدنا عمرؓ انتہائی سخت تھے۔ 

(عمر بن الخطاب: محمد احمد ابوالنصر: صفحہ، 17 )

آپ زمانۂ جاہلیت میں ایک لونڈی کے اسلام قبول کر لینے پر اس کو اتنا مارتے رہے کہ آپ کے ہاتھ تھک گئے، کوڑا ہاتھوں سے گر گیا، تھک کر آپ رک گئے۔ سیدنا ابوبکرؓ کا ادھر سے گزر ہوا، اور آپ نے انہیں لونڈی کو مارتے دیکھا، تو اس کو آپ سے خرید لیا اور آزاد کر دیا۔ 

(الخلیفۃ الفاروق عمر بن الخطاب: العانی: صفحہ، 16)

سیدنا عمرؓ جاہلیت میں پلے بڑھے، اور ٹھیٹھ جاہلیت کی زندگی گزاری اور اس کی حقیقت و رسم و رواج سے بخوبی آشنا ہوئے، اور پوری قوت کے ساتھ اس کی طرف سے دفاع کیا۔ لیکن جب اسلام قبول کیا، اس کی خوبی و حقیقت کو پہچان لیا، ہدایت و گمراہی، ایمان و کفر اور حق و باطل کے درمیان حقیقی فرق سے واقف ہو گئے تو ایک بہت اہم بات کہی:

 انما تنقض عری الاسلام عروۃ عروۃ اذا نشأَ فی الاسلام من لا یعرف الجاہلیۃ۔

(الخلیفۃ الفاروق: د: العانی: صفحہ، 16)

جب اسلام میں ایسے لوگ پروان چڑھنے لگیں جو جاہلیت سے ناواقف ہوں تو اسلام کی ایک ایک جڑ ٹوٹتی چلی جائے گی۔


صفحہ 2 از 2