شیعہ اور اہل بیت رضی اللہ عنهم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور اہل بیت رضی اللہ عنهم

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 4 از 4

 انہی وجوہات کے پیش نظر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے ملکی سطح پر اس فعل کو ممنوع قرار دیا۔ آپؒ نے اپنے عمال کو لکھا کہ:

 اما بعد،فان ناسا من الناس قد التمسوا الدنیا بعمل الآخرۃ وان من القصاص قد احدثوا فی الصلوۃ علی خلفائهم وامرائهم عدل صلاتهم علی النبی  فاذا جائک کتابی فمرهم ان تکون صلاتهم علی النبیین ودعائهم للمسلمین عامة

 (جلاء الافہام لابن قیم، باب السادس، فصل:وھل یصلی علی آلہ منفردین

کہ میں نے سنا ہے کہ کچھ لوگ اعمال آخرت کے ذریعہ دنیا حاصل کرتے ہیں، ان میں سے بعض واعظین نے یہ نیا طریقہ ایجاد کیا ہے کہ وہ نبی پر درود بھیجنے کے بجائے اپنے خلفاء اور امراء کے لیے صلاۃ کا لفظ استعمال کرنے لگے ہیں، میرا یہ خط پہنچنے کے بعد ان لوگوں کو اس فعل سے روک دو اور انھیں حکم دو کہ وہ صلاۃ کو انبیاء علیہم السلام کے لیے محفوظ رکھیں اور عام مسلمانوں کے لیے دعا۔ 

خلاصہ یہ کہ اب چونکہ یہ اہلِ اسلام کا شعار بن چکا ہے کہ وہ صلاۃ و سلام کو انبیاء کے لیے خاص کرتے ہیں، اس لیے جمہور امت کا یہ فیصلہ ہے کہ نبیﷺ کے سوا کسی پر درود بھیجنا جائز نہیں)


                              آل محمد ﷺ کے معنیٰ

 آل محمد ﷺ سے مراد صرف آپﷺ کے خاندان والے ہی نہیں؛ بلکہ اس میں وہ سب لوگ آجاتے ہیں جو آپﷺ کے پیروکار ہوں اور آپﷺ کے طریقے پر چلیں خواہ وہ آپﷺ کے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں۔

امام نوویؒ لکھتے ہیں: 

واختلف العلماء فی آل النبی علی اقوال اظهرہا وھو الاختیار الازهری وغیرہ من المحققین انهم جمیع الامة والثانی بنوہاشم وبنو المطلب والثالث اهل بیته وذریته

 (صحیح مسلم شرح نووی: باب  الصلاۃ علی النبی)

 (علماء نے آل نبیﷺ کے معنوں میں اختلاف کیا ہے۔ اس سلسلہ میں کئی اقوال وارد ہیں، ان میں راجح قول وہ ہے جسے ازہری اور دوسرے محققین نے اختیار کیا ہے کہ آل سے مراد تمام امت ہے)۔

اسی قول (راجح) کو امام مالکؒ، حافظ ابن عبدالبرؒ، احناف اور امام ابن تیمیہؒ وغیرہ نے بھی اختیار کیا ہے۔

صحابئ رسول حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ان اولین لوگوں میں سے ہیں جن سے یہ قول منقول ہے۔ چنانچہ امام بیہقیؒ اور سفیان ثوریؒ نے حضرت جابرؓ سے یہی قول نقل کیا ہے۔

 امام شافعیؒ کے بعض اصحاب نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: جلاء الافہام لابن قیم، باب السادس، فصل: وھل یصلی علی آلہ منفردین)۔ 

اسی طرح عرب اسکالر شیخ ابن عثیمینؒ نے فرمایا:

اذا ذکر الآل وحدہ فالمراد جمیع اتباعه علی دینه (مجموع فتاویٰ فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمینؒ،

(باب صلاۃ التطوع: 156، سعودی عرب 1999) 

(جب لفظ آل تنہا مذکور ہو تو اس سے مراد جملہ متبعین دین ہیں)۔

درودِ ابراہیمی میں آل محمدﷺ سے اگر صرف بنو ہاشم و بنو مطلب مراد لیے جائیں جو نسباً آل محمدﷺ ہیں، تو اس میں نیک و بد اور مؤمن و کافر سب شامل ہو جائیں گے۔ دوسری طرف آل ابراہیم میں مغضوب وضالین بھی شریک ہوجائیں گے جو نسباً آل ابراہیم ہیں؛ حالانکہ قرآن میں فرمایا گیا: 

اِنَّ اَوۡلَی النَّاسِ بِاِبۡرٰہِیۡمَ لَلَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ وَ ھٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیۡنَ  اٰمَنُوۡا  وَ اللّٰہُ وَلِیُّ  الۡمُؤۡمِنِیۡنَ (سورۂ آل عمران: آیت 68)

ترجمہ: ابراہیم کے ساتھ تعلق کے سب سے زیادہ حق دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی، نیز یہ نبی (آخر الزمان) اور وہ لوگ ہیں جو (ان پر) ایمان لائے ہیں، اور اللہ مؤمنوں کا کارساز ہے۔ 

لہٰذا آل ابراہیم (علیہ السلام) وآل محمد ﷺ میں صرف وہ لوگ شامل ہیں جو متبعِ شریعت ہیں، نہ کہ وہ جو دین میں غلو کرتے ہیں اور آیات الٰہیہ میں تحریف کرتے ہیں؛ بلکہ آل میں صرف متبع رسولﷺ شامل ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اس پر جسے اللہ نے اتارا اور اپنے گزرے ہوئے بھائیوں کے لیے یہ دعا کرتے ہیں:

رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَ لِاِخۡوَانِنَا  الَّذِیۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِیۡمَانِ وَ لَا تَجۡعَلۡ فِیۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا (سورۃالحشر: آیت 10) 

ترجمہ: وہ یہ کہتے ہیں کہ: اے ہمارے پروردگار! ہماری بھی مغفرت فرمائیے، اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کوئی بغض نہ رکھیے۔


صفحہ 4 از 4