شیعہ اور اہل بیت رضی اللہ عنهم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور اہل بیت رضی اللہ عنهم

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 4

یہاں آل سے مراد فرعون کی پولیس اور حفاظتی دستے ہیں، جو اسرائیلیوں کو پکڑ پکڑ کر سزا دیتے تھے جنھیں اللہ نے بعد میں ہلاک کردیا۔ ارشاد فرمایا: 

وَ اِذۡ فَرَقۡنَا بِکُمُ الۡبَحۡرَ فَاَنۡجَیۡنٰکُمۡ وَ اَغۡرَقۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ(سورۃ البقرہ: آیت 50)

ترجمہ: اور (یاد کرو) جب ہم نے تمہاری خاطر سمندر کو پھاڑ ڈالا تھا چنانچہ تم سب کو بچا لیا تھا اور فرعون کے لوگوں کو (سمندر میں) غرق کر ڈالا تھا اور تم (یہ سب) دیکھ رہے تھے۔ سمندر میں جو لوگ غرق ہوئے تھے، وہ فرعون کا لشکر تھا، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 فَاَتۡبَعَہُمۡ فِرۡعَوۡنُ بِجُنُوۡدِہٖ فَغَشِیَہُمۡ مِّنَ الۡیَمِّ مَا غَشِیَہُمۡ (سورۂ طہ: آیت 78)

ترجمہ: چنانچہ فرعون نے اپنے لشکروں سمیت ان کا پیچھا کیا تو سمندر کی جس (خوفناک) چیز نے انہیں ڈھانپا، وہ انہیں ڈھانپ کر ہی رہی۔

  اسی طرح جب ملک فرعون میں عذاب آیا تو وہ بھی تمام قوم پر آیا جو فرعون کی پرستش کرتے تھے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ولقد اخذنا آل فرعون بالسنین (سورۃ الاعراف:13) 

ترجمہ: (ہم نے نافرمانیوں کے سبب فرعون کی قوم کو قحط سالی میں پکڑا)۔

 اس جگہ بھی آل فرعون سے مراد فرعون کی قوم ہے جو اللہ کی طرف سے عذاب کا شکار ہوئی۔

اسی طرح ایک آیت میں فرعونیوں کے لیے سخت عذاب کی پیشن گوئی کی گئی، ارشاد ہوا: 

اَلنَّارُ یُعۡرَضُوۡنَ عَلَیۡہَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ  اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ(سورۂ غافر: آیت 46)

ترجمہ: آگ ہے جس کے سامنے انہیں صبح و شام پیش کیا جاتا ہے اور جس دن قیامت آ جائے گی (اس دن حکم ہوگا کہ) فرعون کے لوگوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کردو۔ 

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آل سے مراد خاندان ہی نہیں؛ بلکہ متبعین بھی ہیں۔ قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر آل فرعون کالفظ آیا ہے، ان میں کسی جگہ بھی آل سے مراد صرف فرعون کے خاندان والے نہیں ہیں؛ بلکہ وہ سب مراد ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں فرعون کے طرفدار تھے۔

یہ لفظ حدیث میں ازواج مطہراتؓ کے لیے بھی استعمال ہوا ہے، صحیح بخاری میں ہے،
 حضرت انسؓ فرماتے ہیں:

ما امسی عند آل محمد صاع بر ولا صاع حب وان عندہ لتسع نسوۃ 

(صحیح بخاری، کتاب البیوع، باب شراء النبی بالنسیئة

(کوئی شام آل محمدﷺ پر ایسی نہیں گذرتی تھی جب ان کے پاس ایک صاع گیہوں یاکوئی دوسرا اناج ہو؛ جبکہ آپﷺ کی نو بیویاں تھیں

صحیح مسلم میں روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:

  انا کنا أل محمد لنمکث شهرا ما نستوقد بنار ان هو الا التمر والماء 

(صحیح مسلم، کتاب الزہد والرقاق، باب ما بین النفختین)

(ہم آل محمدﷺ کے گھروں میں ایک ایک مہینہ گزر جاتا تھا چولھا نہیں جلتا تھا، ہم صرف کھجور اور پانی پر گزارا کرتے تھے)

معلوم ہوا کہ لفظ ’’آل‘‘ اقرباء وازواج رسولﷺ اور اصحاب و متبعین سب کے لیے استعمال ہوتا ہے، صرف رشتہ داروں کے لیے نہیں۔

 لفظ اہل اور آل میں فرق

 کسی شخص کے اہل بیت وہ ہوتے ہیں جو اس کے قریبی اور رشتہ دار ہوں، خواہ وہ اس کے متبع ہوں یا نہ ہوں اور آل وہ کہلاتے ہیں جو کسی کے متبع ہوں خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں۔ 

دوسری بات یہ کہ آل عام لوگوں کی اولاد کے لیے استعمال نہیں ہوتا، یہ صرف شاہانِ مملکت اور عظیم شخصیات کی اولاد اور ان کی نسل یا ان کے اصحاب و متبعین کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

 درود ابراہیمی میں آل کے معنیٰ 
 نماز میں پڑھے جانے والے درود میں آل محمّدﷺ وآل ابراہیم (علیہ السلام) کا مطلب اور اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جان لینا مناسب ہے کہ غیر نبی پر درود بھیجنا جائز ہے یا نہیں؟

               درود علیٰ غیر النبی 

صحیح بخاری میں امام بخاریؒ نے ترجمۃ الباب قائم کیا:

هَلْ يُصَلَّى عَلَى غَيْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

(کیا غیر نبی پر درود بھیجا جاسکتا ہے؟) اور پھر اس کے تحت درج ذیل حدیث لائے ہیں:  

عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: كَانَ إِذَا أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَتِهِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ" ، فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى (صحیح بخاری: حدیث 6359)

(حضرت ابن ابی اوفی بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ کے پاس جو کوئی صدقہ لے کر آتا تو آپﷺ فرماتے، اے اللہ اس پر صلاۃ (رحمت) نازل فرما۔ اسی دوران میرے والد (ابو اوفی) بھی صدقہ لے کر حاضر ہوئے تو آپﷺ نے فرمایا: اے اللہ آل ابی اوفی پر صلاۃ (رحمت) نازل فرما)۔

اسی طرح امام ابوداؤد رحمۃالله علیہ نے ترجمۃ الباب قائم کیا:

             الصلاۃ علی غیرالنبی

اس باب کے تحت امام ابوداؤد یہ حدیث لائے ہیں: 

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ". (سنن ابی داؤد حدیث 1533)

 (ایک عورت نے کہا کہ میرے اور میرے شوہر کے لیے دعاء رحمت فرمائیں۔ آپﷺ نے فرمایا: اللہ تم پر اور تمہارے خاوند پر رحمت نازل فرمائے)۔

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں حضورﷺ کے سوا دوسروں پر بھی درود بھیجنا جائز ہے؛ لیکن مستقلاً اور علیحدہ طور پر درود علی غیرالنبی کے سلسلہ میں اہل علم کی رائے یہ ہے کہ یہ درست نہیں۔ یہ رائے امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور احناف سے منقول ہے۔
 ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا:

ما اعلم الصلاۃ ینبغی علی احد من احد الا علی النبی 

(فتح الباری: شرح صحیح بخاری: کتاب الدعوات: باب ھل یصلی علی غیرالنبی

(رسول اللہﷺ کی ذات مبارک کے سوا کسی پر بھی تنہا درود پڑھنا درست نہیں)۔

  حضرت ابن عباسؓ غیر نبی پر درود بھیجنے کو جائز اس لیے نہیں سمجھتے تھے کہ ان کے زمانہ میں شیعہ صرف اپنے ائمہ کے نام پر ہی درود پڑھنے لگے تھے، ان کے ساتھ وہ حضورﷺ کو بھی شریک نہیں کرتے تھے جو ایک طرح کا غلو تھا۔

(جلاء الافہام لابن قیم: باب السادس، فصل: وھل یصلی علی آلہ منفردین)

صفحہ 3 از 4