شیعہ اور اہل بیت رضی اللہ عنهم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور اہل بیت رضی اللہ عنهم

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 4

 سے خطاب کرنا اگر سنداً اور درایۃً درست ہے تو وہ اسی حقیقت کو ظاہر کرنے کے لیے تھا کہ یہ حضرات بھی اس لقب کے مستحق اور فضیلت تطہیر کے اہل ہیں۔ وگرنہ 5 یا 6 ہجری کے اوائل میں جس وقت حضورﷺ نے حضرت فاطمہؓ، حضرت علیؓ اور حضرات حسنؓ و حسینؓ کو ایک چادر میں لے کر یہ فرمایا تھا کہ یہ میرے اہل بیت ہیں۔ حضورﷺ اپنی بیمار بیٹی زینبؓ جن کا گھر بار سب کچھ اجڑ چکا تھا اپنے بچوں کے ساتھ آپﷺ کے گھر پناہ لیے ہوئے تھیں، حضورﷺ ان کو اپنی چادر میں لینا کیسے بھول سکتے تھے۔ حضرت فاطمہؓ کے سوا حضورﷺ کی تمام بیٹیوں میں ایک وہی حیات تھیں، بقیہ دونوں بیٹیوں حضرت رقیہؓ اور حضرت ام کلثومؓ کا انتقال ہوچکا تھا۔

دوسرا یہ کہ واقعۂ کساء سے متعلق تمام روایات اکٹھی کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ایک بار کا نہیں؛ بلکہ کئی بار کا ہے۔ اور آیت تطہیر ایک بار نہیں، کئی بار نازل ہوئی۔ اس لیے کہ یہ واقعہ کہیں ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ کے گھر کا بتایا جاتا ہے، کہیں حضرت فاطمہؓ کے گھر کا اور کہیں حضرت عائشہؓ کے گھر کا۔ اس لیے کہ یہ واقعہ حضرت عائشہؓ سے بھی مروی ہے۔

 ان روایات میں آپس میں اتنا اضطراب ہے کہ ان سے کسی نتیجہ پر پہنچنا دشوار ہی نہیں، بلکہ ناممکن ہے۔ مزید یہ کہ ان تمام روایات کے رواۃ یا تو مجروح ہیں یا ان پر کلام ہے۔

 حیرت کی بات یہ ہے کہ امام بخاریؒ اس سلسلہ میں بالکل خاموش ہیں باوجود اس کے کہ انھوں نے اپنی صحیح میں اس کے متعلق کئی ابواب قائم کیے ہیں۔

  ان روایات کو اگر قابل قبول مان لیا جائے تب بھی ان سے حصر کے معنیٰ نہیں نکلتے؛ بلکہ امام قرطبیؒ فرماتے ہیں:

 فذھب الکلبی ومن وافقہ فصیرھا لہم خاصۃً (تفسیر قرطبی، سورۃ الاحزاب آیت 33)

 کلبی (رافضی) اور سبائی ٹولہ ہی اس بات کا مدعی ہے کہ یہ (آیت تطہیر پنج تن کے بارے میں نازل ہوئی)۔

  ابن عاشور فرماتے ہیں کہ یہ وہم (پنجتن کا) تابعین کے زمانہ کی دین ہے جو قرآن کریم سے متصادم ہے۔ 

جہاں تک حدیث کساء کی بات ہے کہ اس میں ایسا ایک لفظ بھی نہیں جس سے حصر کے معنیٰ نکلتے ہوں ( کہ آیت تطہیر سے صرف پنجتن مراد ہوں)۔

صیغہ ھؤلاء اهل بیتی کلام الٰہی ان ھؤلاء ضیفی (سورۃ الحجر: آیت 68)

کے مانند ہے، جس کے معنیٰ یہ نہیں کہ ان کے سواء اس میں کوئی دوسرا شامل نہیں۔ بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے اہل بیت (پنجتن) کے معنیٰ کو حدیث کساء سے غصب کیا ہے اور قرآن کریم کو پیچھے چھوڑ دیا۔ جس میں ازواج نبیﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے۔

 (تفسیر التحریر والتنویر، تالیف: محمد طاہر بن عاشور، سورۃ الاحزاب، آیت 33)۔

واضح رہے کہ حضورﷺ جس طرح حسنؓ وحسینؓ سے محبت کرتے تھے انھیں کندھوں پر بٹھاتے تھے اسی طرح حضرت زینبؓ کی بیٹی امامہؓ اور بیٹے علیؓ سے بھی محبت کرتے تھے۔ آپﷺ امامہؓ کو گود میں لے کر نماز پڑھتے تھے۔ اسی طرح علیؓ بن زینبؓ کو فتح مکہ کے دن اپنی سواری پر اپنے ساتھ بٹھانے کا اعزاز بخشا تھا؛ مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت اپنے نبیﷺ کے سب سے بڑے نواسے اور نواسی کو جانتی تک نہیں۔ حتیٰ کہ اکثر علمائے کرام بھی اپنے خطبات میں ان کا تذکرہ نہیں کرتے۔ اہل بیت میں صرف حسنؓ وحسینؓ کو شامل ماننا اور حضورﷺ کے دوسرے نواسے اور نواسیوں کو اس سے خارج کرنا ان کے ساتھ غایت درجہ ناانصافی کی بات ہے۔

آل محمدﷺ :

عربوں میں کسی شخص کے آل سے مراد وہ سب لوگ سمجھے جاتے ہیں جو اس کے ساتھی، مددگار اور متبع ہوں خواہ وہ اس کے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں۔ قرآن کریم میں بھی یہ لفظ انہی سب معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ جیسے:

 آل بمعنیٰ قرابت دار

مثال اول: ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَ کَذٰلِکَ یَجۡتَبِیۡکَ رَبُّکَ وَ یُعَلِّمُکَ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ وَ یُتِمُّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکَ وَ عَلٰۤی اٰلِ یَعۡقُوۡبَ کَمَاۤ  اَتَمَّہَا عَلٰۤی  اَبَوَیۡکَ  مِنۡ قَبۡلُ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡحٰقَ

(سورۂ یوسف: آیت 6)

ترجمہ: اور اسی طرح تمہارا پروردگار تمہیں (نبوت کے لیے) منتخب کرے گا، اور تمہیں تمام باتوں کا صحیح مطلب نکالنا سکھائے گا (جس میں خوابوں کی تعبیر کا علم بھی داخل ہے) اور تم پر اور یعقوب کی اولاد پر اپنی نعمت اسی طرح پوری کرے گا جیسے اس نے اس سے پہلے تمہارے ماں باپ پر اور ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی۔ 

 اس جگہ آلِ یعقوب سے مراد حضرت یوسفؑ کے بھائی اور ان کی اولاد ہیں جن کی نسل سے اللہ نے سینکڑوں انبیاء علیہم السلام مبعوث فرمائے۔

مثال دوم: ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰۤی اٰدَمَ وَ نُوۡحًا وَّ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اٰلَ عِمۡرٰنَ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ(سورۂ آل عمران: آیت 33)

ترجمہ: اللہ نے آدم، نوح، ابراہیم کے خاندان، اور عمران کے خاندان کو چن کر تمام جہانوں پر فضیلت دی تھی۔ 

اللہ رب العزت نے خود اس آیت میں آل سے نسل اور ذریت کو مراد لیا ہے۔

 مثال سوم: ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ  نَجَّیۡنٰہُمۡ بِسَحَرٍ(سورۃالقمر: آیت 34)

ترجمہ: ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا، سوائے لوط کے گھر والوں کے جنہیں ہم نے سحری کے وقت بچا لیا تھا۔ 

 یہاں آل سے مراد حضرت لوطؑ کی اولاد (بیٹیاں) ہے؛ کیوں کہ ان کی قوم میں سوائے ان کی دو بیٹیوں کے کوئی ایمان نہیں لایا تھا حتٰی کہ ان کی بیوی بھی نہیں جسے اللہ نے عذاب میں ہلاک کر دیا۔

حدیث میں بھی آل کا لفظ حضورﷺ کے رشتہ داروں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرات حسنینؓ بچپن میں کھجور کے ڈھیر کے پاس کھیل رہے تھے، کھیلتے کھیلتے ان میں سے کسی نے ایک کھجور اپنے منہ میں ڈال لی۔ آپ کی نگاہ پڑی تو منہ سے کھجور نکلوادی اور فرمایا: اما علمت ان آل محمد لا یاکلون الصدقۃ (کیا تمہیں پتہ نہیں کہ آل محمد صدقہ کا مال نہیں کھاتے)۔ 

آل بمعنیٰ اصحاب ومتبعین

قولہ تعالیٰ:  وَ اِذۡ نَجَّیۡنٰکُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَسُوۡمُوۡنَکُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ(سورۃالبقرہ: آیت 49)

ترجمہ: اور وہ (وقت یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے نجات دی جو تمہیں بڑا عذاب دیتے تھے۔

صفحہ 2 از 4