عمرو بن میمون روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میں…

عمرو بن میمون روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میں دس اوصاف پائے جاتے ہیں جو کسی اور میں موجود نہیں

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 2 از 2

اگر کوئی یہ کہے کہ آپ کے خلیفہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ وہی افضل ہیں تو اس سے لازم آتا ہے کہ اتنے سارے غزوات و واقعات میں حضرت علیؓ مفضول ہوں اور ایسے ہی حج و عمرہ کے موقع پر بھی۔ پھر باقی غزوات کے موقع پر خلیفہ مردوں پر بنایا جاتا تھا؛ جب کہ غزوہ تبوک کے موقع پر معذوروں، عورتوں اور بچوں پر خلیفہ بنایا گیا۔ اس وقت مدینہ میں صحیح سالم اور تندرست اہل ایمان میں سے صرف وہی تین مرد پیچھے رہ گئے تھے جن کی معافی کا اعلان اللہ تعالیٰ نے کیا ہے یا پھر وہ انسان باقی تھا جس پر منافق ہونے کی تہمت ہو۔ اس وقت مدینہ میں ہر لحاظ سے امن و امان تھا۔ اہل مدینہ کو کسی طرف سے کوئی خوف نہیں تھا اور پیچھے رہ جانے والوں کو جہاد کی ضرورت نہیں تھی۔ جس طرح کہ باقی اکثر مواقع پر ہوا کرتا تھا۔ اسی طرح شیعہ کی پیش کردہ حدیث سُدُّوا الْاَبْوَابَ اِلَّا بَابَ عَلِیٍّ

أورد ابن الجوزِیِ ہذا الجزء مِن حدِیثِ عمرِو بنِ میمون فِی الموضوعات:جلد 1 صفحہ 364 وحکم علیہ بالوضع: جلد 1 صفحہ 366)

وذکر أن ہذا الحدِیث مِن ہذا الطرِیقِ وغیرِہِ حدِیث موضوع ثم قال: فہذِہِ الأحادِیث کلہا مِن وضعِ الرافِضۃِ قابلوا بِہا الحدِیث المتفق علی صِحتِہِ فِی: سدوا الأبواب ِإلا باب أبِی بکر

روافض کی طرف سے بطور مقابلہ اپنی گھڑی ہوئی ہے۔

جبکہ بخاری و مسلم میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے نبی کریمﷺ نے مرض الموت میں فرمایا:

’’میں سب لوگوں سے زیادہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے مال اور رفاقت کا ممنون ہوں۔‘‘اگر میں کسی کو گہرا دوست بنانے والا ہوتا تو ابوبکرؓ کو بناتا۔ البتہ اسلامی اخوت و مودت کسی شخص کے ساتھ مختص نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے سوا کسی شخص کی کھڑکی مسجد کی جانب کھلی نہ رہے۔‘‘ 

(بخاری: کتاب فضائل اصحاب النبیﷺ حاشیہ: 3654، مسلم: حاشیہ: 2382)

شیعہ کی پیش کردہ حضرت ابن عباسؓ کی روایت

اَنْتَ وَلِیِّیّ فِیْ کُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِی

باتفاق محدثین موضوع ہے۔ جاء ہذا الحدِیث فِی کتاب فضائل الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 503، رقم: 521، جلد 1 صفحہ 524، رقم: 868 وقال المحقق: جلد 1 صفحہ 503، موضوع وفِیہِ متروکانِ متہمان بالوضع: طلحۃ وعبیدۃ وجاء الحدِیث فی حق عثمان بن عفان رضِی اللّٰہ عنہ فِی الموضوعات:جلد 1 صفحہ 334، البدایۃ والنہایۃ: جلد 1 صفحہ 213وغیرہا مِن المراجِع، وذکر المحقِق أن ہذا الحدِیث أیضاً موضوع

صحیح حدیث میں جن دیگر امور کا ذکر کیا گیا ہے اس میں نہ تو ائمہ کی کوئی خصوصیات ہیں اور نہ ہی حضرت علیؓ کی خصوصیات؛ بلکہ ان میں دوسرے لوگ بھی آپ کے شریک ہیں۔ مثلاً:

1: حضرت علیؓ اللہ و رسول کو چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کا رسول حضرت علیؓ کو چاہتے تھے۔

2: حضرت علیؓ کو حاکم مدینہ مقرر کرنا۔ 

 ہم قبل ازیں تحریر کر چکے ہیں کہ سیدنا علیؓ کو صرف ایک ہی مرتبہ حاکم مدینہ مقرر کیا گیا تھا۔ جب کہ دیگر صحابہ کرامؓ کو متعدد مرتبہ یہ خدمت تفویض ہوئی تھی جیساکہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اگر حاکم مدینہ کا سب لوگوں سے افضل ہونا ضروری ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ جب بھی کوئی دوسرا حاکم مقرر کیا گیا سیدنا علیؓ اس وقت مفضول تھے۔ مزید برآں دوسرے صحابہ کرامؓ کی حاکمیت مدینہ کے زمانہ میں وہاں سب مومن موجود ہوا کرتے تھے، مگر جب سیدنا علیؓ کو حاکم مدینہ مقرر کیا گیا تو عورتوں اور بچوں کے سوا وہاں کوئی نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا علیؓ اس سے افسردہ خاطر ہوئے اور اسے اپنی توہین پر محمول کیا۔ اس وقت مدینہ مامون تھا، اسے کوئی خطرہ لاحق تھا نہ وہاں جہاد کی ضرورت تھی۔

3: یہ بات کہ حضرت علیؓ کو رسول اللہﷺ کے ساتھ وہی مرتبہ حاصل ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے۔

4: حضرت علیؓ کا اس انسان کا دوست ہونا رسول اللہﷺ جس کے دوست ہوں اس لیے کہ ہر مؤمن اللہ اور اس کے رسولﷺ سے دوستی رکھتا ہے۔

5: حضرت علیؓ کا سورۃ توبہ کو لے کر مکہ جانا کیونکہ بنی ہاشم کے علاوہ کوئی یہ سورت مکہ نہیں پہنچا سکتا۔ اس میں سارے بنی ہاشم مشترک ہیں۔ ان میں سے کوئی بات بھی حضرت علیؓ کے ساتھ مختص نہیں۔ حضرت علیؓ کو سورۃ توبہ دے کر مکہ بھیجنے کی وجہ یہ تھی کہ نقض عہد کی اطلاع دینے کے لیے حاکم اعلیٰ کے قبیلہ کا کوئی شخص جایا کرتا تھا۔ اس سورۃ میں بھی نقض عہد کی اطلاع دی گئی ہے، اس لیے حضرت علیؓ کا مکہ جانا ضروری تھا۔ 

[ یہ بات غلط ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ سورۃ توبہ لے کر گئے اور پھر انھیں معزول کر کے سیدنا علیؓ کو بھیجا گیا۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ نبی کریمﷺ  نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو امیر حج مقرر کیا تھا اور آپ بہمہ وجوہ آنحضرتﷺ کی موجودگی یا عدم موجودگی میں اس کے اہل تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ مدینہ سے رخصت ہو چکے تھے کہ سورۃ توبہ نازل ہوئی۔ نبی کریمﷺ نے سیدنا علیؓ کو یہ سورۃ دے کر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی جانب بھیجا، اس کے دو اسباب تھے پہلی وجہ ذکر کی جا چکی ہے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ اس سورۃ میں یہ آیت بھی ہے۔

اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللّٰہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْہُمَا فِی الْغَارِ

اس آیت میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی جو مدح و ثنا بیان کی گئی ہے، وہ اس وقت تک باقی ہے، جب تک قرآن دنیا میں موجود ہے سیدنا علیؓ کا اس عظیم سورۃ کو لے کر جانا جو حضرت صدیق اکبرؓ کی فضیلت و منقبت پر مشتمل ہے۔ خود حضرت علیؓ کی فضیلت کی دلیل اور ان لوگوں کے لیے ابدی ذلت کا موجب ہے جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے لیے اپنے دل میں بغض و عداوت رکھتے ہیں۔‘‘


صفحہ 2 از 2