۔من کنت مولاہ فعلي مولاہ ۔جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا…

۔من کنت مولاہ فعلي مولاہ ۔جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا

  الشیخ شفیق الرحمٰن الدراوی

صفحہ 3 از 3

آپ سے ہی ایک دوسری روایت میں ہے کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن میں ایک غزوہ پر تھے۔ میں نے آپ میں کچھ سختی دیکھی جب ہم واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو میں نے کچھ کوتاہی کے ساتھ شکایت کی۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا تھا۔

آپ نے فرمایا: اے بریدہ! کیا میں مومنین کو ان کی جانوں سے بڑھ کر عزیز نہیں ہوں ؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسول! ضرور۔ تو آپ نے فرمایا:

مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَّوْلَاہُ۔ 

[البحار: ۳۷؍۱۸۷۔ الطرائف: ۳۵۔ العمدۃ: ۴۵۔] 

ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک آدمی یمن میں تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس پر کچھ سختی کی، اس نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کی شکایت کروں گا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے تو آپ نے حضرت علی کے بارے میں پوچھا، اس نے برائی بیان کی ۔

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے مجھ پر کتاب نازل کی ہے اور مجھے بطور خاص رسالت کے لیے چنا ہے کہ جو کچھ تم علی بن ابی طالب کے بارے میں کہتے ہو کیا یہ ناراضی کی وجہ سے کہتے ہو؟

اس نے کہا :’’ہاں اے اللہ کے رسول! ‘‘

تو آپ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں اہل ایمان کو ان کی جانوں سے بڑھ کر محبوب ہوں ؟

اس نے کہا: کیوں نہیں ، ضرور۔

تو آپ نے فرمایا:

مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَّوْلَاہُ۔

 [ امالی للطوسی: ۶۱۰۔ بحار: ۳۳؍۸۳۸۔] 

یہ روایات دلالت کرتی ہیں کہ اس قول کا سبب وہ تھا جو ہم نے ذکر کیا ہے کہ لوگ آپ کے بارے میں شکوہ کر رہے تھے اور اس سے مراد وصیت ہرگز نہیں ہے۔ خصوصاً جب کہ آپ نے یہ کلمات اس وقت ارشاد فرمائے جب تمام حجاج متفرق ہو کر اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔

امامیہ نے اپنی کتابوں میں یہ قول حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَّوْلَاہُ۔

یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم واقعہ غدیر سے کئی برس قبل بھی متعدد بار ارشاد فرما چکے تھے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غدیر خم کے موقع پر یہ جملہ دوبارہ ارشاد فرمانے میں کوئی ایسی خصوصیت نہیں ہے، جو پہلے فرمائے گئے مواقع سے مختلف ہو۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب غدیرکے موقعہ پر یہ ارشاد فرمایا تو آپ کے ساتھ کثیر تعداد میں وہ لوگ موجود تھے جو آپ کے ہمراہ حج کے لیے نکلے تھے اور یمن سے واپس آنے والے بار بار علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں شکوہ کر رہے تھے۔ اس سے کچھ لوگوں کو یہ وہم ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے لیے تھا۔ ایسے ہی ایک روایت مواخاۃ والے دن کی بھی ہے۔ جیسا کہ ہم اس کا ذکر کر چکے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے مابین مواخاۃ کا رشتہ قائم کیا تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔ آپ روتے ہوئے اپنے گھر چلے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کوبھیج کر انھیں بلایا۔ انہوں نے جا کر کہا: اے علی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلا رہے ہیں ۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم کیوں رو رہے ہیں ؟ اے ابو الحسن؟

تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مہاجرین و انصار کے مابین مواخاۃ قائم کی، میں کھڑا آ پ کو دیکھ رہا تھا اور آپ کو میرا پتا تھا لیکن آپ نے کسی کو میرا بھائی نہیں بنایا ؟

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک میں نے تجھے اپنی ذات کے لیے ذخیرہ کر رکھا ہے۔ کیا تجھے اس بات کی خوشی نہیں ہو گی کہ تم ایک نبی کے بھائی بنو؟

انہوں نے عرض کی: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! لیکن میرا اتنا نصیب کہاں ؟

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر منبر پر چڑھایا اور ارشادفرمایا: اے اللہ! یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔ آگاہ ہو جاؤ، اس کا مقام میرے ساتھ ایسے ہے جیسے ہارون علیہ السلام کا مقام حضرت موسیٰ کے ساتھ۔ آگاہ ہو جاؤ، جس کا میں دوست ہوں اس کا علی بھی دوست ہے۔

 [الروضۃ: ۱۱۔ البحار: ۳۷؍۶۳۸۔] 

مواخات کا واقعہ شروع ایام ہجرت کا ہے۔

کتاب کا نام: دفاع صحابہ و اہل بیت رضوان اللہ اجمعین
مصنف: قسم الدراسات والبحوث جمعیۃ آل واصحاب
ناشر: دار المعرفہ ،پاکستان
مترجم: الشیخ شفیق الرحمٰن الدراوی



ڈاؤن لوڈ
صفحہ 3 از 3